مولانا ذاہد الراشدی صاحب کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ عالمی، علمی، ملی، قومی اور سیاسی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مختلف واقعات کا تجزیہ، ان کے نتائج پر غور و فکر اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے میں ماشاءاللہ خاص بصیرت رکھتے ہیں۔ ایسی شخصیات کم ملتی ہیں جن میں علم، سیاسی و ملی شعور، تجزیے کی صلاحیت اور نتائج اخذ کرنے کی خوبی اس قدر جمع ہو۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب فرماتے ہیں:
میرا ایک سوال یہ ہے: کیا ہمارا بھی کوئی ایسا سسٹم ہے کہ ہم دنیا کو، وہ جو ہمارا فریضہ ہے: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ. (آل عمران: ۱۱۰) تم لوگوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو، تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ جو کلمہ نہیں پڑھتے، ان تک کلمہ پہنچاؤ۔ کیا ہمارا کوئی ریاستی یا غیر ریاستی طور پر کوئی سسٹم باقاعدہ ہے؟
کچھ حلقے کام کر رہے ہیں، میں بعضوں کو جانتا ہوں، لیکن! بطورِ امت کے ہمارا کوئی نظم نہیں، جس طرح کا نظم، عیسائیوں کا مسیحی مشنریوں کا ہے، اس طرح کا ہمارا کوئی نظم نہیں ہے اور ان کے نظم کی بات میں کروں تو ہماری زندگی میں جو واقعات ہوئے ہیں، ان کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجے میں سوڈان دو حصوں میں تقسیم ہوا ہے، مسیحی ریاست قائم ہوئی ہے، انڈونیشیا میں تیمور کا جزیرہ دو حصوں میں تقسیم ہوا ہے، ایسٹ تیمور میں عیسائی ریاست قائم ہوئی ہے، ان کی سرگرمیاں کس درجے کی ہیں اور ہماری سرگرمیاں اگر ہیں تو مجھے پتہ نہیں کہاں ہیں؟
مأخَذ
(بیس واں سالانہ مولانا سید زوار حسین شاہؒ یادگاری خطبہ، عنوان: "دعوت کی نبوی حکمت عملی اور عملی مشکلات"، مورخہ: ۱۸ اکتوبر ۲۰۲٦ء، مقام: دارالعلم والتحقیق، کراچی۔ )