اسلام کے سپوت امیرِ معاویہ
ممکن نہیں ہے ملنا نظیرِمعاویہ
مٹ جائے رب کا دین رہیں اہلِ حق حیات
برداشت کیسے کرتا ضمیرِ معاویہ؟
شاہد ہے خود ہی شوکتِ اسلام آج تک
ہے خود خدائے پاک نصیرِ معاویہ
ممکن نہیں محبتِ اصحاب سے رہائی
مومن کا مَن ہے اب بھی اسیرِ معاویہ
اللہ کی نیابت اسے کیوں نہ سونپی جائے
اللہ کا رسول ﷺ ہے پیرِ معاویہ
جہد و عمل ، تدبر و حکمت کے باب میں
شاہانِ سلطنت ہیں فقیرِ معاویہ
اسلام کی سپاہ سے خائف ہیں دشمنان
مجروح کرے کفر کو تیرِ معاویہ
خودمنقبت اثر کی فراہم کرےثبوت
موجود آج بھی ہیں سفیرِ معاویہ