(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناآزاد علی،فاضل شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

مولاناآزاد علی،فاضل شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/11/08
موضوعات
بازار کا راستہ بتا دیجیے
بازار کا راستہ بتا دیجیے!

یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے نہیں تھے جس کے پاس کبھی کچھ نہ رہا ہو یہ مکہ کے ایک معزز تاجر کے الفاظ تھے جو اپنا شہر، گھر اور اپنے کاروبار کے وسائل چھوڑ کر مدینہ آیا تھا۔نام تھا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ۔

اسلام کے ابتدائی زمانے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی دعوت پر مسلمان ہوئے پھر مخالفتوں کا سامنا کیا حبشہ ہجرت کی اور بالآخر مدینہ پہنچے۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کا بھائی چارہ حضرت سعد بن ربیع انصاریؓ سے قائم فرمایا۔ حضرت سعدؓ نے فراخ دلی سے اپنے مال میں حصہ دینے کی پیشکش کی۔حضرت عبدالرحمنؓ نے ان کے مال و اہل میں برکت کی دعا کی اور کہا:

دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ

مجھے بازار کا راستہ بتا دیجیے۔

بازار پہنچے چھوٹی سطح سے تجارت شروع کی،محنت اور لین دین کا سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں خوب برکت عطا فرمائی۔

اس واقعے میں ایک بات سمجھنے کی ہے حضرت سعدؓ کی پیشکش بھی ایثار کی عظیم مثال تھی اور حضرت عبدالرحمنؓ کا جواب بھی خودداری اور محنت کا خوب صورت نمونہ۔

کسی نے دینے میں عظمت دکھائی، کسی نے اپنے ہاتھ سے کمانے میں۔

پھر ایک دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمنؓ کے لباس پر خوشبو کا نشان دیکھا دریافت فرمایا تو عرض کیا کہ میں نے نکاح کرلیا ہے۔

آپ ﷺ نے مہر پوچھا پھر ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور ولیمے کی تلقین کی۔

یہاں ٹھہرئیے!
نکاح ہوچکا تھا اور رسول اللہ ﷺ کو بعد میں معلوم ہوا تھا مگر آپ ﷺ نے اس بات کو ناراضی کا سبب نہیں بنایا ہماری شادیوں میں کبھی یہی بات برسوں کی رنجش بن جاتی ہے فلاں نے بلایا نہیں، فلاں نے اطلاع نہیں دی، فلاں نے ہمیں اہمیت نہیں دی! کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس خوشی پر ہم اپنا حق جتاتے ہیں اس خوشی میں شریک ہونے والوں کی آسانی بھی ہماری ذمہ داری ہے؟

اور پھر ایک سوال اس سے بھی آگے ہے۔
ہم دعوت نہ ملنے پر تو شکوہ کرتے ہیں لیکن کسی اجنبی مسلمان کے جنازے میں خود سے کتنی مرتبہ شریک ہوئے ہیں؟ کبھی اس کی تدفین تک ساتھ رہے؟ کبھی غم زدہ گھر والوں کے پاس صرف تسلی دینے پہنچے؟ تعلقات کا حسن صرف خوشیوں کی دعوتیں نہیں غم میں بے غرض شرکت بھی ہے۔

حضرت عبدالرحمنؓ نے مال کمایا مگر مال کو اپنی زندگی کا آخری مقصد نہیں بنایا۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر اور اُحد جیسے معرکوں میں شریک رہے بعد میں امت کے اہم معاملات میں بھی ان پر اعتماد کیا گیا۔ حضرت عمرؓ کے بعد خلیفہ کے انتخاب کی مشاورت میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔

32 ہجری کے قریب مدینہ میں ان کی زندگی کا سفر مکمل ہوا ان کی داستان پڑھ کر ایک بات دل میں اترتی ہے:کامیاب کاروبار صرف یہ نہیں کہ آدمی کے پاس کتنا مال جمع ہوا یہ بھی ہے کہ اس نے کتنی عزت سے کمایا اور کتنے دلوں کے کام آیا۔

کالم نگار : مولاناآزاد علی،فاضل شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
125     1