(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/18
موضوعات
الغزالی یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس ۔امکانات وخدشات
اس موضوع پر مفتی سید فصیح اللہ شاہ صاحب اور برادرم عاصم افتخار صاحب کی تحریریں نظر سے گزریں۔ دونوں کا زاویہ مختلف ہے مگر مرکزی تشویش ایک ہی ہے۔ مفتی فصیح اللہ صاحب نے الغزالی یونیورسٹی کی حالیہ بین الاقوامی کانفرنس کے حوالے سے چار نکات اٹھائے ہیں:

۱۔ سائنس اور دینی نصوص کو جوڑنے کا مروجہ طریقہ علمیاتی طور پر کمزور ہے، کیونکہ سائنس معیار بن جاتی ہے اور نص تابع۔

۲۔ جامعہ کا موجودہ ڈھانچہ مغربی استعماری نظامِ تعلیم کی پیداوار ہے، اور اس پر دینی لیبل لگانے سے وہ اسلامی نہیں بن جاتا۔

۳۔ کروڑوں کے مصارف سے ہونے والے ایسے اجتماعات ملک کی معاشی و تعلیمی حقیقت سے کٹے ہوئے ہیں۔

۴۔ ان کا فائدہ عام طالب علم کے بجائے نمایاں شخصیات کو پہنچتا ہے، جبکہ وسائل اسکالرشپ اور تحقیق پر لگنے چاہییں تھے۔

عاصم افتخار صاحب ادارے کے "اعجازِ علمی" منصوبے کو ہدفِ نقد بناتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس کا منہج ہارون یحییٰ کے طرزِ استدلال سے ملتا جلتا ہے، جو علمی تحقیق کے بجائے خطیبانہ استدلال ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ سائنس اور اسلامی علوم کے تعلق کی علمیاتی بنیاد کیا ہے۔ وہ Islamization of Knowledge کی سطحی روایت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ امریکی "پیشن انٹرنیشنل یونیورسٹی" کی حیثیت، یونیسکو کی منظوری کے دعوے اور اعزازی ڈاکٹریٹ کی درج شدہ فیس پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

دونوں تحریروں کا لبِ لباب یہ ہے کہ علمی اعتبار منہج اور جوابدہی سے پیدا ہوتا ہے، اجتماعات، القاب اور اسناد کی نمائش سے نہیں۔ اس مسئلے پر میرا نقطۂ نظر درج ذیل ہے۔

۱۔ اصل مسئلہ کیا ہے:
بظاہر یہ دو الگ بحثیں ہیں: ایک منہجی (اعجازِ علمی)، دوسری ادارہ جاتی (کانفرنس، ڈگری، اخراجات)۔ میرے نزدیک نفسِ مسئلہ ایک ہی ہے: ایک ادارہ جب علم کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس دعوے کی کسوٹی کیا ہو؟ منہج کی صلابت، علمی نتائج کی شفافیت اور مالی و تعلیمی جوابدہی، یا تقریبات کا حجم اور شخصیات کی رونق؟ یہی سوال دونوں تحریروں کی روح ہے، اور میں اس بنیادی تشویش سے متفق ہوں۔

۲۔ علمیاتی نکتہ۔ اتفاق بھی، اضافہ بھی:
دونوں حضرات کا یہ نکتہ بنیادی طور پر درست ہے کہ سائنسی نظریات کو آیات و احادیث پر چسپاں کرنا علمی کام نہیں۔ لیکن اس نقد کو کسی ایسی صورت میں نہیں پیش کرنا چاہیے جس سے لگے کہ علم اور وحی کا ہر ربط مشکوک ہے۔ یہاں چند تفریقات ضروری ہیں:

(الف) ہماری روایت اس باب میں خالی ہاتھ نہیں۔ امام غزالیؒ، ابن رشد اور امام رازی کے ہاں ظاہرِ نص اور برہانی (قطعی) نتائج کے تعارض پر تاویل کا ایک باقاعدہ ضابطہ ملتا ہے۔ اس ضابطے میں فیصلہ کن شرط *قطعیت* ہے۔ قطعی ثابت شدہ حقیقت اور ظنی نظریے کا درجہ ایک نہیں۔ اعجازِ علمی کا مروجہ طریقہ اسی فرق کو مٹا دیتا ہے: آج کی ایک ظنی سائنسی تھیوری کو "قرآن کی تصدیق" بنا دیا جاتا ہے، اور کل وہ بدل جائے تو سوال نص پر آ جاتا ہے۔ امام غزالیؒ نے المنقذ من الضلال میں اسی خطرے کی نشاندہی کی ہے کہ دین کی ایسی نادان حمایت، جو ثابت شدہ علوم سے ٹکرائے، دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ذرا لطیف بات یہ ہے کہ ادارے کا نام انہی کے نام پر ہے۔

(ب) امام شاطبیؒ کا اصول (الموافقات) یہ ہے کہ قرآن کا مقصدِ اصلی ہدایت ہے، سائنسی تفصیلات کا بیان نہیں۔ نصوص کے معانی عربی زبان اور سلف کی فہم کے دائرے میں متعین ہوتے ہیں، اور بعد کی کسی دریافت کو ان پر "اصل مراد" بنا کر تھوپنا اس اصول کے خلاف ہے۔

(ج) تفسیرِ علمی اور اعجازِ علمی ایک چیز نہیں۔ طنطاویؒ کی الجواہر ایک مفسر کی کوشش تھی، جس پر نقد بھی ہوا اور ایک علمی روایت کے اندر بحث بھی۔ جبکہ اعجازِ علمی کا مروجہ ادارہ جاتی ماڈل (موریس بوکائے سے زغلول النجار اور زندانی کی مہمات تک) بنیادی طور پر دعوتی و اثباتی مقصد رکھتا ہے۔ دعوت اپنی جگہ مشروع اور مفید ہو سکتی ہے، لیکن اسے ریسرچ پروگرام کا نام دینا مقولاتی غلطی (category error) ہے۔ عاصم صاحب کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے کہ یہ "دعوتی و عوامی منہج" ہے، علمی تحقیق نہیں۔

(د) مثبت متبادل بھی موجود ہے۔ سنجیدہ کام فلسفۂ سائنس، علمیات (epistemology) اور کلامِ جدید کی سطح پر ہو رہا ہے، مثلاً نضال قسوم، احمد دلال، فضل الرحمن، سید نقیب العطاس اور سید حسین نصر کی بحثیں۔ ان میں اختلاف اور تنقید کی بہت گنجائش ہے، مگر یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ *سائنس کیا ہے، اس کی حدود کیا ہیں، اور وحی سے اس کا رشتہ کیا ہے*۔ جو ادارہ حقیقی علمی خدمت کرنا چاہے، اسے یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

۳۔ "استعماری ڈھانچہ" والے نکتے پر نقد:
مفتی صاحب کا دوسرا نکتہ فکری طور پر اہم ہے، مگر اس میں احتیاط کی گنجائش ہے۔ جدید جامعہ کا ڈھانچہ بلاشبہ مغربی ہے، لیکن خود دینی مدارس کا موجودہ نظام (سالانہ امتحانات، رجسٹر، وفاق، درجہ بندی، طے شدہ اوقاتِ کار) بھی انیسویں صدی کے برصغیر میں انہی اداراتی ماڈلوں کے تحت وجود میں آیا۔ اس موضوع پر باربرا میٹکاف اور محمد قاسم زمان کا کام ملاحظہ ہو۔ لہٰذا "استعماری ساخت بمقابلہ خالص اسلامی ساخت" کی ثنویت تاریخی اعتبار سے کچھ زیادہ سادہ ہے۔ اسی طرح روایتی تعلیمی ماڈل کو اس کی ساری خوبیوں کے ساتھ رومانی انداز میں پیش کرنا بھی مناسب نہیں۔ اس کی تاریخ میں بھی ضعف اور جمود کے ادوار آئے۔

ہاں، مفتی صاحب کا اصل نکتہ اپنی جگہ برقرار ہے: ظاہری ڈھانچے کے ساتھ جب مقصد، استاد و شاگرد کا تعلق، تزکیہ، سند اور ادب جیسے روایتی عناصر غائب ہوں تو "اسلامی" کا لاحقہ محض نمائشی رہ جاتا ہے۔ اس لیے میرے نزدیک سوال یہ نہیں کہ ڈھانچہ مغربی ہے یا نہیں، بلکہ یہ کہ کیا ادارہ اپنی تعلیمی روح میں روایت سے کوئی حقیقی چیز لے کر آیا ہے، اور کیا اس نے ان کے درمیان ایسا ربط قائم کیا ہے جسے جانچا جا سکے۔ کارکردگی کا پیمانہ یہی ہونا چاہیے۔

۴۔ اخراجات اور استحصال والا دعویٰ:
اس مقام پر مجھے مفتی صاحب سے جزوی اختلاف ہے۔ ملک میں تعلیم کی صورتِ حال واقعی تشویشناک ہے، اور دو کروڑ سے زیادہ بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک معروف حقیقت ہے۔ مگر:

"صفر فیصد فائدہ" اور "جذباتی استحصال" جیسے الفاظ ایک ایسا دعویٰ ہیں جس کے لیے شواہد درکار ہیں، اور تحریر میں اعداد و شمار نہیں۔ نہ یہ معلوم ہے کہ خرچ کتنا ہوا، نہ یہ کہ کن ذرائع سے ہوا۔ اگر ادارہ نجی وسائل یا عطیات سے چلتا ہے تو اس کا موازنہ سرکاری بجٹ کی ترجیحات سے نہیں بنتا۔

کانفرنس بمقابلہ اسکالرشپ ایک مصنوعی ثنویت (false dichotomy) ہے۔ بین الاقوامی روابط، تبادلۂ طلبہ اور مشترکہ تحقیق، اگر واقعی بروئے کار آئیں، تو خود نچلے اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں۔

اس لیے مفتی صاحب کا نقد اپنی جگہ ایک جائز مطالبۂ احتساب ہے، لیکن استدلال کی نوعیت قطعی فیصلے کے بجائے *سوال* کی ہونی چاہیے تھی۔ یعنی ہم یہ پوچھیں کہ اس کانفرنس کی مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) کتنے عملی تبادلوں، کتنے وظائف اور کتنے مشترکہ منصوبوں میں ڈھلیں؟ اگلے ایک دو سال میں ان نتائج کو شائع کرنا ہی ادارے کے حق میں سب سے مضبوط دلیل ہوگی۔

۵۔ پیشن یونیورسٹی اور اعزازی ڈگری کی بحث:
عاصم صاحب نے یہاں جو احتیاط برتی ہے (کہ ویب سائٹ پر فیس کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر ڈگری فیس کے بدلے دی گئی) وہ قابلِ قدر ہے۔ اسی میزان پر کچھ باتیں مزید واضح ہونی چاہییں۔

ایک عمومی حقیقت قابلِ توجہ ہے۔ یونیسکو کسی یونیورسٹی کو ایکریڈٹ یا تسلیم نہیں کرتا۔ اس کا یہ کردار ہی نہیں۔ اسی طرح امریکی محکمۂ تعلیم خود یونیورسٹیوں کی ایکریڈیٹیشن نہیں کرتا، بلکہ ایکریڈیٹیشن کرنے والے اداروں کو *تسلیم* کرتا ہے۔ ان بیانات کی موجودگی ہی ادارے کے دعوؤں کو مزید وضاحت طلب بناتی ہے۔ تصدیق کے لیے امریکی محکمۂ تعلیم کا DAPIP ڈیٹا بیس اور CHEA کی فہرست بنیادی مآخذ ہیں۔

ایک منطقی احتیاط یہ بھی ہے کہ ادارے کی ساکھ پر اٹھنے والا سوال اعجازِ علمی کے منہج کی صحت پر خود بخود فیصلہ نہیں دیتا (genetic fallacy کا خدشہ)۔ منہج کے رد یا قبول کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اور وہ ساکھ کے سوال سے الگ مستحق ہے۔ دونوں اعتراضات اپنی اپنی جگہ مضبوط ہو سکتے ہیں، مگر انہیں آپس میں خلط ملط نہیں ہونا چاہیے۔

میری رائے میں دونوں تحریروں کی بنیادی تشویش درست ہے، لیکن ان کے نتائج کو زیادہ درست اور متوازن انداز میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ مسلم جامعات کے سربراہان کا اکٹھا ہونا بذاتِ خود قابلِ اعتراض نہیں، بلکہ مثبت قدم ہے، مگر اس کی قدر اسی وقت متعین ہوگی جب مندرجہ ذیل باتیں سامنے آئیں:

۱۔ اعجازِ علمی یا ایسے کسی بھی شعبے کا تحریری منہجی خاکہ: اس کا مفروضہ کیا ہے، قطعی اور ظنی سائنسی نتائج میں فرق کیسے کیا جائے گا، اور اگر کوئی سائنسی نظریہ بدل جائے تو دینی تعبیر کے بارے میں ادارے کا موقف کیا ہوگا؟

۲۔ شعبے کی آزاد ہم مرتبہ نظرِ ثانی (peer review) اور ایسے ماہرین کی شمولیت جو سائنس کے فلسفے اور علومِ دینیہ دونوں پر دسترس رکھتے ہوں۔

۳۔ اسناد، شراکت داریوں اور اعزازی ڈگریوں کی شفاف پالیسی اور ان کی تصدیق کے ذرائع۔

۴۔ کانفرنس سے نکلنے والے قابلِ پیمائش نتائج کی اشاعت: وظائف، تبادلے، مشترکہ مقالات۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
86