(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
ملازمین کی کارکردگی بہتربنانے کے تین بنیادی اصول
مختلف اداروں میں اسٹاف اور ملازمین کی تربیت و رہنمائی کے سلسلے میں جانے کا موقع ملتا رہتا ہے، عموماً سب سے پہلا مسئلہ یہی سامنے آتا ہے کہ:

"ملازمین اس طرح کام نہیں کرتے جس طرح انہیں کرنا چاہیئے، ان میں ایفیشنسی نہیں، ذمہ داری کا احساس کم ہے، کام میں مطلوبہ سنجیدگی نہیں۔"

یہ مسئلہ صرف ملازمین کا نہیں ہے بلکہ درحقیقت ہر ادارے کے انتظامی نظام کا ایک مستقل موضوع ہے، اس کی اصلاح کے لئے محض ملازم کو قصوروار ٹھہرانا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ادارے نے اپنے ملازم کے لئے اصلاح، ذمہ داری اور کارکردگی کا ماحول کس حد تک قائم کیا ہے۔

اس سلسلے میں تین بنیادی اصول بہت اہم ہیں:

① اسٹاف کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کریں !
ملازمت بنیادی طور پر ایک عقدِ اجارہ ہے، ملازم اپنی محنت اور وقت ادارے کے لئے صرف کرتا ہے اور اس کے عوض اسے طے شدہ اور مناسب اجرت ملتی ہے، لیکن ایک مسلمان ملازم کے لئے معاملہ صرف آجر اور اجیر کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی جواب دہی کا معاملہ ہے۔اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیئے کہ میں صرف ادارے کے مالک یا مینیجر کو جواب دہ نہیں ہوں بلکہ میں اللہ تعالیٰ کو بھی جواب دہ ہوں۔یہ احساس ملازم کے اندر کام کی حقیقی ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔اسی لئے ملازم کی تربیت میں دو بنیادی صفات کو خصوصی اہمیت دینی چاہیئے:صدق اور امانت۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی معاشرہ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے لقب سے جانتا تھا، یہ دو صفات کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی تک نہیں ہوتے بلکہ اس کی پیشہ ورانہ زندگی کی بھی بنیاد ہیں، جو ملازم سچا ہے، وہ غلطی چھپانے کے بجائے تسلیم کرے گا، جو امانت دار ملازم ہے، وہ ادارے کے وقت، وسائل، معلومات اور ذمہ داریوں کو اپنی ذاتی ملکیت نہیں سمجھے گا۔ملازم کا صرف ٹائم ٹیبل اپ ڈیٹ نہ کریں، پہلے اس کا اندر کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کریں۔

② اسٹاف کی ذمہ داریاں واضح کریں !
دوسرا اہم مسئلہ تعیینِ امورِ مسئولیت (Job Description( کا ہے۔

جس طرح ملازم کی اجرت طے کی جاتی ہے، اسی طرح اس کی ذمہ داریاں بھی واضح ہونی چاہیئے، اکثر اداروں میں صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی کو ملازمت پر رکھ لیا گیا، لیکن اس کے فرائض واضح نہیں کئے گئے، پھر ایک کام، دوسرا کام، تیسرا کام، اور آہستہ آہستہ کام پر کام اور ذمہ داری پر ذمہ داری اس کے سپرد ہوتی چلی جاتی ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملازم نہ اپنی بنیادی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کر پاتا ہے، نہ اسے یہ احساس رہتا ہے کہ اس کی اصل ذمہ داری کیا ہے۔

اس لئے ہر ملازم کے بارے میں واضح ہونا چاہیئے :

➊ اس کی ذمہ داری کیا ہے؟

➋ اسے کیا کام کرنا ہے؟

➌ کس معیار کے مطابق کرنا ہے؟

➍ کس وقت تک کرنا ہے؟

➎ کس کو رپورٹ کرنا ہے؟

➏ اس کی کارکردگی کو کس پیمانے سے جانچا جائے گا؟

جس ذمہ داری کا تعین ہی واضح نہ ہو، اس کی جواب دہی بھی واضح نہیں ہوسکتی۔

اس لئے ادارے کو ملازم سے نتائج مطلوب ہیں تو پہلے اسے ذمہ داریوں کا واضح نقشہ بھی دینا ہوگا۔

③ تفقدِ احوال اور مسلسل چیکنگ !
تیسرا بنیادی اصول ہے: تفقدِ احوال، نگرانی اور احتساب۔

کام دے کر بالکل بے خبر ہوجانا بھی درست انتظامی طریقہ نہیں ہے اور ہر وقت سر پر کھڑے ہوکر سانس لینا بھی مفید نہیں ہے، بلکہ طریقہ یہ ہے کہ جو ذمہ داری دی گئی ہے، اس کی کارروائی، پیش رفت اور معیار کو مناسب وقفوں سے دیکھا جائے، اس کے لئے مختلف پیمانے مقرر کئے جاسکتے ہیں، کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، فیڈبیک دیا جاسکتا ہے، ضرورت کے مطابق تربیت کی جاسکتی ہے اور جہاں کمی ہو وہاں اصلاح کا موقع دیا جاسکتا ہے۔

آج کے جدید انتظامی نظام میں Performance Review، Monitoring اور Training اسی ضرورت کو پورا کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔

اصل کامیابی "تینوں اصول" کے اجتماع میں ہے، اگر ان تینوں اصول کو ایک ساتھ رکھیں تو بات بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے، گویا:

اندر کا سافٹ ویئر بھی درست ہو، باہر کا نظام بھی درست ہو، اور نظام میں چیک اینڈ بیلنس بھی موجود ہو۔

ادارے نہ صرف نرمی اور وعظ سے چلتے ہیں اور نہ صرف نے جا سختی اور مشکل نظام سے بھی ادارے چلتے ہیں، دونوں کے درمیان رہ کر کام کرنا ہوتا ہے، یہی اعتدال ہے۔

کردار بھی چاہیئے، واضح ذمہ داری بھی، اور مؤثر نگرانی بھی۔

پھر اگر کوئی ملازم مسلسل اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرتا ہے تو پہلے اصلاح، رہنمائی اور تربیت کے مناسب مراحل اختیار کئے جائیں، اور اگر اس کے باوجود طے شدہ ذمہ داری پوری نہ کی جائے تو ادارہ اپنے متفقہ اور شرعی اصولوں کے مطابق کارکردگی سے متعلق مراعات، بونس یا اضافی الاؤنسز کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے، بشرطیکہ ان کا تعلق واضح شرائط اور ادارے کی پالیسی سے ہو، البتہ طے شدہ اجرت اور اضافی مراعات میں فرق رکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ کسی بھی کٹوتی یا مراعات ختم کرنے سے ملازم کو سزا دینا نہیں مقصود نہ ہو بلکہ اس کے اندر ذمہ داری پیدا کرنا اور ادارے کو ذمہ دار افراد کی ایک مؤثر ٹیم میں تبدیل کرنا مقصود ہو۔

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
69