(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد فیاض قریشی

محمد فیاض قریشی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
شرعی قوانین اور پردہ کسی معاشرے پر بوجھ نہیں
اسلام نے محرم اور نامحرم کے رشتوں کی جو حدود مقرر کی ہیں وہ بلاوجہ نہیں بلکہ انسان کی حفاظت کے لیے ہیں افسوس یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں انہی شرعی حدود کو دقیانوسی سوچ قدامت پسندی یا غیرضروری پابندی قرار دے کر نظرانداز کیا جاتا ہے اور پھر جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو ہم صرف افسوس کرتے ہیں اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ نہیں لیتے۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں 14 ستمبر کی رات پیش آنے والا سفاکانہ واقعہ بھی ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ایک ماں مہوش اور اس کے تین کمسن بچوں کو تیز دھار آلے کے وار اور بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان معصوم بچوں میں ایک صرف 18 ماہ کی بچی ایک بڑی بیٹی اور ایک بیٹا شامل تھے۔

واقعے کے بعد علاقہ مکین اور اہل علاقہ حیران و پریشان تھے کہ آخر یہ ظلم کون کر سکتا ہے ایک ماں اور اس کے تین معصوم بچوں سے کسی کی ایسی کیا دشمنی ہو سکتی ہے کہ انہیں اس بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

لیکن پولیس نے ایک ہی دن میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا اور تحقیقات آگے بڑھیں تو انسانیت بھی حیران رہ گئی کہ سفاک قاتل کوئی باہر کا چور ڈاکو یا لٹیرا نہیں بلکہ اپنا ہی قریبی شخص تھا۔

مقتولہ مہوش کا مبینہ قاتل ہمایوں اس کی نند کا شوہر یعنی اس کے اپنے خاندان کا قریبی فرد تھا پولیس تحقیقات کے مطابق ہمایوں کی مہوش پر بری نظریں تھیں اور اسے مبینہ طور پر ہراساں بھی کیا گیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے معاشرے کے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے جسے ہم اکثر یہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ یہ تو اپنا ہی ہے خاندان کا فرد ہے اس سے کیا پردہ۔

یہی سوچ ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی بنیاد بنتی ہے۔

جب ہم کہتے ہیں کہ بھابھی سے پردہ ہونا چاہیے دیور سے پردہ ہونا چاہیے نامحرم رشتوں میں حدود قائم ہونی چاہئیں تو فوراً جواب آتا ہے۔یہ تو میری بھابھی ہے۔یہ تو میری بہن جیسی ہے۔یہ تو میرے چچا کی بیٹی ہے یہ تو میرے ماموں کی بیٹی ہے۔اسے تو میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی رشتے کو ہم اپنے معاشرتی نام سے پکارنے سے وہ شرعی طور پر محرم بن جاتا ہے۔

ہرگز نہیں!

اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ محرم کون ہے اور نامحرم کون جس سے نکاح جائز ہو وہ شرعی اعتبار سے نامحرم ہے چاہے وہ کتنا ہی قریبی خاندانی رشتہ کیوں نہ ہو چاہے وہ بچپن سے ہمارے سامنے پلا بڑھا ہو چاہے معاشرہ اسے بہن یا ماں جیسا کہتا ہو۔

بھابھی ماں نہیں ہوتی

دیور بھائی نہیں ہوتا

چچا کی بیٹی حقیقی بہن نہیں ہوتی

ماموں کی بیٹی حقیقی بہن نہیں ہوتی

احترام اپنی جگہ محبت اپنی جگہ لیکن شرعی احکام اپنی جگہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الحمو الموت

یعنی شوہر کے قریبی غیرمحرم رشتہ داروں کے معاملے میں انتہائی احتیاط کرو کیونکہ یہاں خطرہ بہت زیادہ ہے۔

ذرا غور کیجیے کہ نبی کریم ﷺ نے اس معاملے کو کتنی سختی سے بیان فرمایا اس لیے نہیں کہ ہر دیور برا ہے یا ہر بھابھی خطرہ ہے بلکہ اس لیے کہ قریبی نامحرم رشتوں میں انسان اکثر احتیاط کو معمولی سمجھ لیتا ہے اور وہی بے احتیاطی آگے چل کر بڑے فتنے کا سبب بن سکتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہو چکا ہے کہ اپنے ہی گھر کے لوگ ہیں ان سے کیا پردہ۔

حالانکہ اسلام ہمیں یہی سمجھاتا ہے کہ محرم اور نامحرم کا فیصلہ جذبات خاندانی تعلق یا بچپن کی واقفیت سے نہیں بلکہ شریعت سے ہوگا۔

یہاں تک کہ اگر کسی بچے کو گود لیا جائے تو صرف گود لینے سے وہ شرعی اولاد نہیں بن جاتا اگر وہ بچہ رضاعت کے ذریعے محرم نہ بنا ہو تو بالغ ہونے کے بعد شرعی پردے کے احکام اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔تو پھر سوچیں جس شخص سے شرعاً نکاح جائز ہے اس کے ساتھ صرف یہ کہہ کر بے تکلفی کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ یہ تو خاندان کا آدمی ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام نے پردہ صرف عورت کے لیے نہیں رکھا مرد کو بھی اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے مرد کو بھی حدود کا پابند بنایا گیا ہے مرد کو بھی نامحرم عورت کے ساتھ خلوت اور بے جا اختلاط سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

لہٰذا پردہ عورت کی قید نہیں مرد اور عورت دونوں کے لیے اخلاقی حفاظت کا نظام ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارے معاشرے کی تربیت کمزور پڑ رہی ہے۔پہلے نظریں جمتی ہیں پھر بے تکلفی پیدا ہوتی ہے پھر خواہشات جنم لیتی ہیں پھر ان خواہشات کا اظہار ہوتا ہے اور اگر حدود باقی نہ رہیں تو انسان گناہ اور جرم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

سرجانی ٹاؤن کے اس واقعے میں بھی پولیس کی تحقیقات کے مطابق ملزم کی مقتولہ پر بری نظریں تھیں اور اسے ہراساں کرنے کی بات سامنے آئی مقتولہ کے شوہر کی غیر موجودگی میں رات کے وقت گھر میں داخل ہونا بھی اس واقعے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔یہ بات تحقیق کا حصہ ہے کہ اصل میں وہاں کیا ہوا ملزم کی نیت کیا تھی اور قتل تک معاملہ کیسے پہنچا لیکن ایک بات ہمیں ضرور سوچنی چاہیے کہ جب نامحرم رشتوں کی حدود کو معمولی سمجھ لیا جائے تو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ بچوں کو کیوں قتل کیا گیا؟کیا وہ کسی راز کے گواہ بن سکتے تھے کیا قاتل کو پکڑے جانے کا خوف تھا کیا کسی مزاحمت یا ناکامی کے بعد غصے میں اس نے ان معصوم جانوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

یہ سب سوالات تفتیش اور عدالت کے سامنے ہیں لیکن 18 ماہ کی معصوم بچی کا قتل انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے۔

ایک 18 ماہ کی بچی بھلا کس راز کی گواہی دے سکتی تھی۔

جب انسان شیطانیت پر اتر آئے تو پھر شیطان بھی شرما جائے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قاتل گرفتار ہو گیا ہے قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور ہمیں امید ہے کہ ریاست اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دے گی لیکن اصل اور مکمل انصاف تو میدان محشر میں ہوگا جہاں کسی مظلوم کی آہ کسی معصوم کے خون اور کسی ماں کے آنسو کا حساب ضائع نہیں ہوگا۔یہ واقعہ صرف ایک قتل کی خبر نہیں ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے۔

ہم کب سمجھیں گے کہ اسلامی قوانین محض کتابوں میں لکھے ہوئے چند احکام نہیں بلکہ ہماری حفاظت کے لیے ہیں۔جب اسلام پردے کا حکم دیتا ہے تو اس کا مقصد عورت کو معاشرے سے کاٹ دینا نہیں بلکہ حیا عزت خاندان اور معاشرتی پاکیزگی کو محفوظ رکھنا ہے۔جب اسلام نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے تو اس کا مقصد انسان کی آزادی چھیننا نہیں بلکہ اس کے دل اور کردار کو محفوظ رکھنا ہے۔جب اسلام محرم اور نامحرم کی حدود بتاتا ہے تو اس کا مقصد رشتوں میں نفرت پیدا کرنا نہیں بلکہ رشتوں کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے۔لیکن افسوس کہ جب شرعی قوانین کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو بعض لبرل سوچ رکھنے والے اور نام نہاد مسلمان ان احکام کا مذاق بناتے ہیں جیسے اسلام کے قوانین انسان کی زندگی کو مشکل بنانے کے لیے آئے ہوں۔

یاد رکھیں اسلام کا کوئی حکم بے مقصد نہیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شریعت کی حدود دراصل ہماری حفاظت کی دیواریں ہیں۔اگر ہمارے گھروں میں نامحرم رشتوں کے حوالے سے واضح شرعی حدود قائم ہوں اگر مرد اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں اگر خواتین حجاب و پردے کا اہتمام کریں اگر خاندان خلوت اور بے تکلفی کے خطرات کو سمجھیں اور اگر بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کی جائے تو بہت سے معاشرتی فتنے پیدا ہونے سے پہلے ہی روکے جا سکتے ہیں۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ہر بے پردگی لازماً قتل کا سبب بنتی ہے لیکن یہ ضرور حقیقت ہے کہ اسلام نے جن راستوں سے فتنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں ان سے پہلے ہی احتیاط کا حکم دیا ہے۔ہمیں اپنے گھروں میں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے:

کون محرم ہے

کون نامحرم ہے

کس سے پردہ ضروری ہے

کس کے ساتھ خلوت جائز نہیں

اور ہم اپنی اولاد کو ان بنیادی اسلامی احکام کی تعلیم کب دیں گے۔

سرجانی ٹاؤن کا یہ سانحہ ہمارے لیے ایک نشان عبرت ہے۔ہمیں اسلام کے احکام کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے بلکہ ان کی حکمت سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ہمیں اپنے گھروں میں حیا پردہ نگاہوں کی حفاظت اور شرعی حدود کو زندہ کرنا ہوگا۔کیونکہ اسلام ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ جرم ہونے کے بعد مجرم کو سزا کیسے دینی ہے اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ معاشرے کو ایسے راستوں سے کیسے بچایا جائے جہاں گناہ فتنے اور جرائم کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مہوش اور اس کے معصوم بچوں کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اگر گرفتار ملزم ہی اس جرم کا مرتکب ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون اور شریعت کے مطابق قرار واقعی سزا ملے۔اور اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں اسلامی احکام کو سمجھنے ان پر عمل کرنے اور اپنے گھروں اور معاشرے میں حیا پردہ اور شرعی حدود قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین!

کالم نگار : محمد فیاض قریشی
| | |
62