کمال خرازی 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر خارجہ رہے۔یہ وہی عرصہ تھا جب ایران عراق میں اپنے مسلح اثر و رسوخ کو تیزی سے بڑھا رہا تھا۔بدر کور ایران میں تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے والی ایرانی حمایت یافتہ قوت تھی۔2003 کے بعد ایران نے بدر کے ساتھ ساتھ مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور دوسرے شیعہ مسلح گروہوں کو بھی مالی مدد، تربیت اور ہتھیار فراہم کیے، مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا پر عراق کے اہلِ سنت کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے بھی سنگین الزامات اور ثبوت سب کے سامنے ہیں۔
میری معلومات کے مطابق 2004 تک ایرانی کیمپوں میں عراقی جنگجوؤں کی تربیت جاری تھی، پھر 2005 میں ابو مصطفیٰ الشیبانی کے نیٹ ورک کے ذریعے ایرانی ساختہ EFP بم، 107 اور 122 ملی میٹر راکٹ، کاتیوشا اور مارٹر عراق پہنچنے کی تفصیلات سامنے آئیں۔انہی پرانے بدر اسمگلنگ روٹس کے ذریعے مہدی آرمی، بدر اور دوسرے گروہوں کو اسلحہ اور مالی معاونت پہنچنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
مزے کی بات یہ کہ جب یہ سب چل رہا تھا تو عین اسی وقت کمال صاحب کمال فنکاری سے انکاری تھے کہ ایران ایسا کچھ نہیں کررہا، مارچ 2003 میں کمال خرازی نے بدر کور کے اہلکاروں کو عراق بھیجنے کی تردید کی اور کہا کہ ایران جنگ میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے رہا، اسی موقع پر انہوں نے ایران کے عراق میں کردار سے متعلق الزامات کو رد کیا۔یعنی ایک طرف یہ مؤقف کہ عراق میں ہمارا کوئی کردار نہیں، اور دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ مسلح نیٹ ورک، تربیتی کیمپ، اسلحہ کے راستے اور EFP جیسے مہلک ہتھیاروں کی تفصیلات۔لبنان میں بھی خرازی کا مؤقف کسی ابہام میں نہیں تھا، 2005 میں انہوں نے کالعدم تخریبی گروہ حزب اللات کے ہتھیاروں کا دفاع کیا اور اسے محض ملیشیا ماننے کے بجائے مزاحمتی تحریک قرار دیا۔
یہ تعارف اس شخص کے دورِ وزارت اور اس وقت کی ایرانی پالیسی کا تاریخی ریکارڈ ہے کہ جب ایران نے اپنی پراکسیز کو مسلم ممالک میں مسلح کرکے داخل کرنا شروع کیا اور یہ شخص مکمل طور پر اس ساری سازش اور تخریب کا ایک بہت بڑا کردار اور حصہ تھا۔
جواد نقوی صاحب ایک ایسے سعودی سفیر پر، جو پاکستان آیا ہی نہیں ، یہ الزام لگا بیٹھے کہ اس نے پاکستانی مفتیوں کو ناشتہ کرایا۔ایک ایسے شخص کی میزبانی اور اس کے خلاف الزام، جس کی پاکستان آمد ہی نہیں ہوئی، اگر اتنا بڑا موضوع بن سکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کمال خرازی کی میزبانی کے وقت یہ تاریخی پس منظر کیوں یاد نہیں آیا؟جب آپ اپنے ادارے کے بچوں اور بچیوں کو ایرانی خانہ فرہنگوں کے اسٹاف کے سامنے پیش کرتے ہیں، ایرانی شخصیات کو اپنے تعلیمی ادارے میں مدعو کرتے ہیں، اور دوسری طرف سعودی عرب کے بارے میں محض ایک مفروضے پر الزامات عائد کرتے ہیں تو آپکو آپکا ضمیر بھی نہیں ملامت کرتا؟
سوال یہ ہے کہ جس شخص کے دور میں ایران عراق میں اپنے مسلح نیٹ ورکس، تربیت، اسلحہ رسانی اور پراکسی اثر و رسوخ کو وسعت دے رہا تھا، لبنان میں حزب اللات کے مسلح کردار کا دفاع کیا جا رہا تھا، اور دنیا کے سامنے عراق میں ایرانی کردار سے انکار بھی کیا جا رہا تھا تو اس شخص کو ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں مدعو کرنے کی ضرورت آخر کیا تھی؟کمال خرازی کو عروۃ الوثقیٰ کیوں بلایا گیا؟ وہاں کیا پیغام دیا گیا؟ کس بیانیے کو انجیکٹ کیا گیا؟ اور آخر اس دعوت کے پیچھے ایجنڈا کیا تھا؟