اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انسان اگر صرف اپنی بساط کے مطابق کام کرے تو شاید بہت سی مشکلات سے بچ جائے، لیکن اللہ کی ذات پر توکل شاید انسان کو اپنی بساط سے آگے قدم رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پھر توکل کے اپنے امتحانات ہوتے ہیں، اور وہ ہمیشہ آسان بھی نہیں ہوتے۔
جامعہ بیت العتیق میں الحمدللہ آج 114 کے قریب اساتذہ و عملہ اور 2,500 سے زائد طلبہ و طالبات کا ایک بڑا تعلیمی و تربیتی نظم ہے۔ مختلف شعبے ہیں، کئی کیمپس ہیں، رہائشی طلبہ ہیں اور ان سب کے ساتھ روزانہ کی بے شمار ذمہ داریاں جڑی ہوئی ہیں۔ باہر سے بہت سی چیزیں جتنی آسان نظر آتی ہیں، اندر رہ کر انہیں چلانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ مہینے کے اخراجات دیکھ رہا تھا تو تقریباً 87 لاکھ روپے بنے۔ تنخواہیں، راشن، کھانا، بجلی، پانی، علاج، تعمیر و مرمت اور روزمرہ کی نہ جانے کتنی ضروریات۔ ہر مہینے یہ فکر نئے سرے سے سامنے کھڑی ہوتی ہے کہ یہ پورا نظام بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہے۔
ہم پانچ بھائی ہیں۔ الحمدللہ سب اپنی اپنی جگہ جامعہ کی خدمت کے ساتھ اپنے ذاتی کام بھی کرتے ہیں، اور ذاتی کام بھی کسی کا ایک نہیں، دو دو تین تین سلسلے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ گھر کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، ذاتی کام اپنی جگہ اور جامعہ کی ضروریات کے لیے دوڑ دھوپ اپنی جگہ۔ بعض اوقات مصروفیت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ آدمی کے لیے اپنے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
اس سب کے باوجود بات صرف جامعہ پر ختم نہیں ہوتی۔لوگوں کا جامعہ سے تعلق اور اعتماد الحمدللہ اتنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی پریشانیاں بھی ہمارے پاس لے آتے ہیں۔ کسی مستحق گھرانے کو راشن چاہیے، کسی خاتون کے گھر کا مسئلہ ہے، کسی کو علاج میں مدد درکار ہے، کسی کا تھانے کچہری کا معاملہ ہے اور کوئی اپنا کوئی اور مسئلہ لے کر بیٹھا ہے۔ اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔ ہمارے دوستوں کا بھی اللہ بھلا کرے کہ ہماری منت سماجت پر لوگوں کے کام کردیتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر توقع پوری کرنا ہمارے بس میں نہیں۔کبھی دل چاہتا ہے کہ فلاں کی اور مدد کردی جائے، فلاں جگہ خود پہنچ جائیں، کسی کی خوشی میں شریک ہوں، کسی کی غمی میں بیٹھیں، علاقے کے لوگوں سے پہلے کی طرح ملاقاتیں رہیں، مگر وقت اور ذمہ داریاں اجازت نہیں دیتیں۔ بعض اوقات قریبی لوگوں کی تقریبات اور خوشی غمی میں بھی نہ پہنچ سکنا اندر سے تکلیف دیتا ہے۔یہ سب لکھنے کا مقصد نہ شکایت ہے، نہ اپنی مصروفیت جتانا۔ بس ایک کیفیت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کے ساتھ بہت سے لوگوں کو آپ سے وابستہ کردیں تو ذمہ داری صرف وقت نہیں لیتی، آدمی کی سوچ، توجہ اور زندگی کا بڑا حصہ بھی اپنے ساتھ لے لیتی ہے۔لوگوں کا اعتماد ہمارے لیے یقیناً بہت بڑی نعمت ہے، لیکن ساتھ بہت بڑی امانت بھی ہے۔
دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق دیں، ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں، جہاں ہماری بساط ختم ہو وہاں اپنے فضل سے راستے کھول دیں، اور کسی کی ہم سے وابستہ امید ہماری وجہ سے نہ ٹوٹے۔اور اگر کبھی کسی کی خوشی، غمی یا ضرورت میں ہم اس طرح شریک نہ ہوسکیں جیسے ہونا چاہیے تھا تو اسے بے رخی نہ سمجھیں، بس ذمہ داریوں کی مجبوری سمجھ کر معاف کردیجیے گا۔