آج صبح قرآن پڑھتے ہوئے ایک آیت پر دل تھم سا گیا, جتنا اس پر غوروخوض کیا اتنا ہی غم بڑھا اور آنکھیں کھلیں :
سورہ النساء میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا
تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں۔ اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے.
یہ بات یہاں یہودیوں کے لئے کہی۔ تو پھر محفوظ کرکے ہم تک کیوں پہنچائی گئی؟ یہ پچھلی قوموں کے واقعات ہمیں کیوں بتائے گئے؟
تاکہ خود پر اپلائی کرکے دیکھیں، سبق حاصل کریں، خود کو درست کریں ۔
ہمارے ہاں گھروں میں جھگڑے ہوتے ہیں۔ کیسے کیسے خوان بنے پڑے کے پڑے رہ جاتے ہیں۔ کوئی دیکھتا تک نہیں۔ ہونے کے باوجود کسی کے نصیب میں نہیں ہوتے۔
میرے پاس روزانہ ایسے مریض آتے ہیں جو بہت کچھ کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ کچھ کو میں خود بھی کسی ضروری وجہ سے وقتی طور پر کچھ چیزیں کم کھانے کا مشورہ دیتا ہوں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی وجہ کے یا کسی شارٹ کٹ کے چکر میں یا محض سنی سنائی پر صاف اور پاکیزہ غذائیں چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ اللہ کی نعمتیں خود پر خود ہی حرام کر چکے ہوتے ہیں اس چکر میں کہ دوا نہ کھانی پڑے۔ اور پھر چھ مہینے سال بعد شدید کمزوری اور بہت سے مسائل کے ساتھ ہمارے پاس آتے ہیں ۔
تین باتیں کہنا چاہتا ہوں :
نمبر 1۔ اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے میانہ روی میں رہتے ہوئے صحت مند طریقے سے لطف اندوز ہوں ۔
نمبر 2- جب وقتی طور پہ یا کچھ عرصے کیلئے کچھ کھانے سے پرہیز بتایا جائے تو اپنی صحت کیلئے بہت احتیاط کریں۔ باقاعدگی سے مستند علاج کروائیں تاکہ آپ پر لگی ہوئی وہ غذائی پابندیاں کم یا ختم ہو سکیں۔
نمبر 3۔ غور کریں۔ میری کون سی غلطی اللہ کو اتنی ناپسند ہوئی کہ حلال غذائیں میرے نصیب سے نکل گئیں۔ اللہ سے جڑ جائیں۔ مغفرت طلب کریں۔
یاد رکھیں!
ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں ان یہودیوں کی طرح خودسری کا مظاہرہ نہیں کرنا جن کا ذکر اللہ نے عبرت کے طور پر کیا ہے۔خود پہ توجہ دیں، غلطیوں کا ازالہ کریں، جھک جائیں، اللہ کے آگے رو دیں۔ جیسے بھی ہو اسے منائیں ۔یقین رکھیں! اللہ سے مغفرت کی، اس سے دل جوڑنے کی کوئی ڈوز لمٹ نہیں۔ اس راستے پر کوئی نقصان نہیں، کوئی سٹریس نہیں۔۔۔۔ سب سکون، سب خیر ہے ۔
اللہ تعالٰی ہماری، ہمارے والدین کی اور اولاد کی مغفرت فرمائے ۔ اور ہم پر دونوں زندگیاں آسان کردے ۔اللہ تعالٰی ہمیں عطا کیا ہوا رزق اور نعمتیں ہمارے اور ہماری اولاد کے نصیب میں بھی کردے ۔