باباجی غلام حسین کا تعلق بہاولپور، پنجاب سے تھا۔ وہ ایک سادہ اور عام زندگی گزارنے والے انسان تھے، زمینداری کرکے زندگی کی گاڑی چلا رہے تھے۔ ان کا بیٹا ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔ جب عمرے کا ٹکٹ نکلا تو بیٹے نے اپنا عمرے کا ٹکٹ والد کو دے دیا کہ بابا! آپ عمرہ کر آئیں۔
شاید اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ سفر صرف عمرے کا سفر نہیں، بلکہ باباجی کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔
اللہ کی شان دیکھیے کہ اکثر اللہ تعالیٰ مجھے ایسے لوگوں تک خود پہنچا دیتا ہے جنہیں واقعی کسی مدد، توجہ یا خدمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ باباجی سے بھی اسی طرح ملاقات ہوئی۔ چند لمحوں کی گپ شپ نے ہمیں ان کے خاندان سے رابطے کا ذریعہ بنا دیا، کیونکہ جب سے وہ اسپتال میں داخل تھے، اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر سکے تھے اور ان کے پاس موبائل فون بھی نہیں تھا۔
میں نے ان کی کچھ باتیں بھی ریکارڈ کر لیں تاکہ یادگار رہیں، باباجی کے بیٹے سے رابطہ کروایا اور یوں ایک باپ اور بیٹے کے درمیان دوبارہ رابطہ قائم ہوا۔ جب بیٹے نے باباجی کی آواز سنی تو وہ حد سے زیادہ خوش ہوا اور شکریے کے ساتھ بہت ساری دعائیں بھی دیں۔
باباجی کے دائیں پاؤں میں **Necrotizing Fasciitis** کا انفیکشن ہوا تھا، جس میں بعض اوقات متاثرہ عضو کاٹنے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ ساتھ ہی انہیں سانس لینے میں بھی شدید دشواری تھی، یعنی پھیپھڑے بھی کمزور تھے۔ علاج جاری رہا، مگر بیماری نے شدت اختیار کرلی۔
کل، منگل کے روز، ان کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ جب میں ڈیوٹی پر آیا تو باباجی کو وینٹیلیٹر پر منتقل کیا جا چکا تھا اور انہیں آئی سی یو میں شفٹ کیا جا رہا تھا۔ فوری طور پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
آئی سی یو کے ڈاکٹروں نے انہیں **DNR** کیا تھا، کیونکہ کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی تھی اور شدید نمونیا کی وجہ سے ان کی حالت مزید خراب ہوگئی تھی۔آج بدھ، 16 ستمبر 2026ء، دوپہر تقریباً 2:30 بجے باباجی کی حالت مزید بگڑ گئی اور وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔**إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔**
ایک خواہش جو پوری ہوگئی:
لیکن باباجی کے اس سفر کی سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والی بات ان کے بیٹے سے گفتگو کے دوران معلوم ہوئی۔باباجی کی خواہش تھی کہ جب اللہ تعالیٰ انہیں عمرے کی سعادت عطا فرمائے تو اسی مقدس سرزمین پر انہیں موت نصیب ہو اور وہ دوبارہ اپنے وطن واپس نہ جائیں۔
اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور بندے کی تقدیر کے راز کون جان سکتا ہے؟ باباجی مکہ مکرمہ آئے، عمرہ نصیب ہوا، بیماری کی آزمائش آئی، اسپتال پہنچے، زندگی کی آخری سانسیں لیں اور پھر اسی شہر میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ان کے بیٹے سے جب میں نے ان کی اس خواہش کا ذکر کیا تو وہ بھی انتہائی صبر و رضا کے ساتھ اس بات پر آمادہ ہوگئے کہ ان کے والد کو مکہ مکرمہ ہی میں دفن کیا جائے۔
ان شاء اللہ ان کی نمازِ جنازہ حرم شریف میں ادا کی جائے گی اور اسی مقدس سرزمین میں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
نیک انجام کی امید:
ایسے موقع پر قرآنِ کریم کی یہ آیات دل کو چھو جاتی ہیں:﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾(سورۃ یونس: 62-63)
ترجمہ :یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے۔"**
اور اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے آخری وقت کے بارے میں فرمایا:﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ﴾(سورۃ فصلت: 30)
ترجمہ :**"بیشک جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ اس جنت پر جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔"**
ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ فلاں شخص یقینی طور پر اللہ کا ولی ہے یا اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام ہے، لیکن کسی نیک بندے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھنا اور اس کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرنا ایمان کا ایک خوبصورت تقاضا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر آسمان والوں میں اس کی محبت کا اعلان ہوتا ہے اور زمین میں اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔(صحیح بخاری: 3209)
باباجی کے بارے میں بھی ان کی سادگی، عمرے کا سفر، حرم کی حاضری، اسی سرزمین پر وفات کی خواہش اور پھر اسی مقدس شہر میں دفن ہونے کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے رحمت اور اچھے انجام کی امید ضرور رکھتے ہیں۔
ہمارے لیے ایک پیغام:
ہمیں اس واقعے میں اپنے لیے بھی ایک پیغام تلاش کرنا چاہیے۔ہم دنیا بھر میں گھومتے ہیں، مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں، گھر بناتے ہیں، مال جمع کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ہماری آخری منزل کہاں اور کب لکھی جا چکی ہے۔باباجی عمرے کے لیے گھر سے نکلے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے واپسی کا راستہ ہی بدل دیا۔ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس نہ گئے، مگر اپنے رب کے پاس واپس چلے گئے۔دنیا سے ہر شخص کو جانا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کس حال میں، کس جگہ اور کس رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔یا اللہ! باباجی غلام حسین کی مغفرت فرما، ان کی خطاؤں سے درگزر فرما، ان کی بیماری اور تکلیف کو ان کے لیے کفارہ بنا دے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔یا اللہ! ان کے اس سفرِ عمرہ کو قبول فرما اور ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کے بیٹے کو صبرِ جمیل عطا فرما۔یا اللہ! جب ہمارا آخری سفر شروع ہو تو ہمیں بھی ایمان، توحید، توبہ، اپنی رضا اور نیک اعمال کی حالت میں اپنے پاس بلا۔ ہمیں بھی ایسا خاتمہ نصیب فرما جس سے تو راضی ہو اور ہم تجھ سے راضی ہوں۔**آمین ثم آمین یا رب العالمین!