(+92) 319 4080233
کالم نگار

انتخاب:کاشف جاوید

انتخاب:کاشف جاوید

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
اب بھی وقت ہے رک جائیں
جب شروع شروع میں تصویر عام ہوئی اور اس کے بعد ٹیلی ویژن آیا تو مفتیانِ کرام نے اسے حرام قرار دیا۔

اب ذرا ہم واپس اس وقت میں جاتے ہیں۔ کیا تب آپ کو برصغیر پاک و ہند میں یوں زنا کار لوگوں کی کثرت ملتی تھی؟

کیا بازاروں میں یوں سرِعام تنگ لباس، کھلے گلے اور کھلے بالوں کے ساتھ سج دھج کرتی خواتین نظر آتی تھیں؟

کیا تب چھوٹی چھوٹی بچیوں کے آئے روز ریپ ہوتے تھے؟

کیا تب رزق کمانے کے نام پر آپ کو ہر جگہ خواتین اس نظام کا حصہ نظر آتی تھیں؟

لیکن پھر ٹی وی عام ہوا۔ گھروں میں باپ اور بیٹی دونوں بیٹھے ہیں، سامنے اسکرین پر ایک نامحرم عورت موجود ہے جسے باپ دیکھ رہا ہے، اور ایک نامحرم مرد موجود ہے جسے بیٹی دیکھ رہی ہے، جب کہ دین نے تو دونوں کو حکم دیا تھا کہ نامحرم پر نظر پڑ بھی جائے تو نگاہ جھکا لی جائے، نہیں؟

لیکن چونکہ ٹی وی پر موجود نامحرم ہمارے سامنے حقیقت میں موجود نہیں، اس لیے اسے یوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے میں کیا ہی قباحت ہوگی؟ ہے نا؟

اچھا، شیطان کیا کرتا ہے؟ کیا وہ کسی عبادت گزار، زاہد اور تقویٰ کے پابند شخص کو ایک دم سے زنا کرنے پر ورغلاتا ہے؟ اور اگر ورغلانے کی کوشش بھی کرے تو کیا ہوگا؟ یقیناً شیطان منہ کی کھائے گا۔

تو پھر شیطان کیا کرتا ہے؟

سب سے پہلے اسے اس کی پہلی نظر سے قابو کرتا ہے۔ اس کی کسی خوب صورت لڑکی پر نظر پڑی۔ شیطان نے فوراً حملہ کیا کہ خیر ہے، اللہ کی مخلوق ہے، اتنی خوب صورت ہے کہ اسے دیکھا جائے۔

پھر پہلی نظر کی شرم آہستہ آہستہ ختم ہوتی جاتی ہے، اور درجہ بہ درجہ بے حیائی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ آخرکار شیطان اس زاہد و متقی انسان کو گناہ کی طرف مائل کر ہی لیتا ہے۔

(یہ میری اپنی تھیوری ہے، ضروری نہیں کہ کوئی اس سے متفق ہو۔)

یہی کام ہمارے ساتھ ہوا۔

ٹی وی پر پہلے دوپٹے کے ساتھ خواتین دیکھیں، پھر آہستہ آہستہ دوپٹہ اترا، جینز نے جگہ لی، تنگ لباس آئے اور اب تو الامان! ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب ہم اپنی آنکھوں کی حیا کھو بیٹھے، کب ہمارے دلوں سے شرم رخصت ہوگئی۔

اب ہم اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ایسے ڈرامے دیکھتے ہیں جہاں لڑکا لڑکی جپھیاں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ ایسی فلمیں دیکھتے ہیں جہاں رومانس کے نام پر کئی حدیں پار کی جا رہی ہوتی ہیں۔ لیکن آج ہمیں یہ سب نارمل محسوس ہوتا ہے۔ کیوں؟

آج جو کچھ ہو رہا ہے، آئے روز زنا کے قصے، آئے روز زنا بالجبر کے واقعات، اور اب چھوٹی بچیوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کی خبریں—یہ سب اچانک آج سے شروع نہیں ہوا۔

یہ اس وقت شروع ہوا جب ہم نے ان مفتیانِ کرام کو دقیانوسی قرار دے دیا تھا۔ فتوے جاری ہوئے، تنبیہات کی گئیں، مگر ہم نے کان نہ دھرے۔

اگرچہ مفتیانِ کرام کو بھی چاہیے تھا کہ جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں میں حیا کا شعور پیدا کرنے کی زیادہ کوشش کرتے۔ لوگوں کو یہ سمجھاتے کہ محض ٹی وی کا وجود ہی مسئلہ نہیں، بلکہ ٹی وی پر کیا دیکھا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ وہ حلال ہے یا حرام۔ شاید اس طرح لوگوں کو درست سمت بھی مل جاتی۔

لیکن آج جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی شروعات آج کل میں نہیں ہوئی۔ یہ دہائیوں پہلے ہو چکی تھی۔ بس یہ ایک ’’Slow Poison‘‘ تھا جسے کسی نے محسوس نہیں کیا، لیکن اب اس کے اثرات پے در پے سامنے آ رہے ہیں۔

تاہم ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔

آج بھی اگر ہم اپنی اصلاح کرلیں، حلال و حرام کی ان حدود کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں، اور ساتھ ہی دورِ جدید کی ہر جائز سہولت سے فائدہ اٹھائیں، تو شاید ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک بہتر مستقبل دے سکیں۔

ورنہ ایک طرف حکومت کو گالیاں دیتے رہیں گے اور دوسری طرف راہ چلتی کسی لڑکی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے رہیں گے۔فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں اپنی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جانا ہے۔

مأخَذ

تحریر:حوارالجنۃ،بشکریہ:فیس بک

کالم نگار : انتخاب:کاشف جاوید
| | |
51