کیا آپ نے کبھی قرآنِ کریم کے کسی ایک حرف میں پوشیدہ معنی پر غور کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:**﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾**
’’مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھا کریں۔‘‘(النور: 30، ترجمہ عثمانی)
غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ **«يَغُضُّوا أَبْصَارَهُمْ»** یعنی ’’اپنی نگاہیں بند کرلیں‘‘، بلکہ فرمایا: **«يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ»**۔ درمیان میں **«مِنْ»** کا لفظ ایک نہایت لطیف معنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اپنی آنکھوں کے پردے ہمیشہ کے لیے گرا دے اور دنیا میں نابینا بن کر چلے، بلکہ حکم یہ ہے کہ اپنی نگاہ کا کچھ حصہ نیچا رکھے، نگاہ کو توڑے، اسے بے لگام نہ چھوڑے۔
ایک نگاہ اور دوسری نگاہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
ایک نگاہ وہ ہے جو چہروں اور مناظر پر سے اس طرح گزر جاتی ہے جیسے ہوا پھولوں کو چھو کر گزر جاتی ہے؛ نہ ٹھہرتی ہے، نہ چمٹتی ہے اور نہ جزئیات کا جائزہ لیتی ہے۔
اور دوسری نگاہ وہ ہے جو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی ہے، آنکھوں کو بھر لیتی ہے، جزئیات تلاش کرتی ہے اور فتنہ انگیز چیزوں کے مقامات اسی طرح ڈھونڈتی ہے جیسے کوئی چور کھلے ہوئے دروازے کی تلاش کرتا ہے۔
پہلی نگاہ محض **دیکھنا** ہے، جبکہ دوسری کے پیچھے **شہوت** کارفرما ہوتی ہے۔
قرآنِ کریم نے **«مِنْ»** کے ذریعے ان دونوں کیفیتوں کے درمیان ایک لطیف فرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
آنکھ کو ہم عموماً ایک بے ضرر عضو سمجھتے ہیں، حالاں کہ اکثر اوقات یہی کسی بڑے فتنے کی پہلی چنگاری بنتی ہے۔
کتنی ہی خواہشات ایسی ہیں جو ایک نگاہ سے حرکت میں آتی ہیں، اور کتنے ہی قدم ایسے ہیں جو لغزش سے پہلے نگاہ کی لغزش کا شکار ہوتے ہیں۔
اسی لیے اس آیت میں نگاہ اور شرم گاہ کا ذکر ایک ہی تسلسل میں آیا ہے: پہلے نگاہ، پھر شرم گاہ؛ پہلے مقدمہ، پھر نتیجہ؛ پہلے دروازہ، پھر گھر۔
قرآنِ کریم میں **حفاظتِ فرج** سے عمومی طور پر مراد زنا سے بچنا اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنا ہے، جو اس کا واضح اور متفق علیہ مفہوم ہے۔ تاہم بعض سلف، مثلاً ابن زید رحمہ اللہ، نے اس آیت کے سیاق میں اس کے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا ہے؛ یعنی یہاں نگاہ کی حفاظت بھی مقصود ہے: انسان اپنی آنکھ کو اس چیز سے بچائے جو اس کے لیے حلال نہیں، اور دوسروں کی نگاہ سے بھی اپنی ان چیزوں کو محفوظ رکھے جنہیں دیکھنا ان کے لیے جائز نہیں۔
گویا اس مقام پر معاملہ نگاہوں ہی کا ہے: ایک آنکھ دیکھ رہی ہے اور دوسری آنکھ دیکھی جا رہی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:**﴿ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ﴾**
’’یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘
کتنا جامع اور معنی خیز لفظ ہے: **أَزْكَىٰ**۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ نگاہ نیچی رکھنا ان کے لیے زیادہ سخت یا زیادہ دشوار ہے، بلکہ فرمایا کہ یہ ان کے لیے **زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ** ہے۔
نگاہ کو قابو میں رکھنا انسان سے کوئی حقیقی آزادی نہیں چھینتا، بلکہ اسے محفوظ رکھتا ہے۔ جس طرح آگ سے ہاتھ دور رکھنا گرمی سے محرومی نہیں بلکہ ہاتھ کو جلنے سے بچانا ہے، اسی طرح حرام مناظر سے نگاہ بچانا خواہشات کی جائز تکمیل سے محرومی نہیں بلکہ انسان کی پاکیزگی اور سلامتی کا ذریعہ ہے۔
ہم نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو یہ سمجھتے رہے کہ آزادانہ نگاہ انسان کے جذبات کو سکون دیتی اور نفسیاتی دباؤ کو کم کرتی ہے۔ انہوں نے ہر کھڑکی کھول دی، ہر پردہ اٹھا دیا اور اسے آزادی کا نام دیا۔
لیکن نتیجہ کیا نکلا؟
کیا شہوت ختم ہوگئی؟ کیا بے قراری کم ہوگئی؟ کیا وہ نفسیاتی الجھنیں دور ہوگئیں جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ صرف پابندی اور محرومی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں؟
اس کے برعکس، خواہش میں مزید شدت پیدا ہوئی، پیاس بڑھتی گئی اور آنکھ جتنا دیکھتی گئی، اتنی ہی مزید دیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی گئی۔
کیونکہ انسانی خواہش کوئی ایسا برتن نہیں کہ اسے بھر دیا جائے تو وہ خالی ہوکر پرسکون ہوجائے؛ بلکہ بے قابو خواہش آگ کی مانند ہے، جس میں جتنا ایندھن ڈالا جائے، وہ اتنی ہی مزید بھڑکتی ہے۔
یہی **«مِنْ»** کی حکمت کا ایک پہلو ہے۔نگاہ میں تھوڑی سی احتیاط بہت زیادہ پاکیزگی کی حفاظت کرتی ہے، اور نگاہ کو معمولی سی لغزش سے روک لینا روح کے بڑے انکسار اور شکست سے بچا سکتا ہے۔
پھر آیت کا اختتام نہایت مؤثر انداز میں ہوتا ہے:**﴿إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾**
’’بے شک اللہ اس سے باخبر ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔‘‘
انسان جب تنہائی میں اپنی نگاہ اس وقت جھکا لیتا ہے جب اسے کوئی دوسرا دیکھنے والا نہیں ہوتا، تو اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ ایک ایسی ذات موجود ہے جس سے کوئی نگاہ پوشیدہ نہیں، حتیٰ کہ وہ مختصر سی نظر بھی نہیں جو کسی انسان سے چھپ کر ڈالی گئی ہو، اور نہ وہ خیال جو دل میں اچانک گزر جائے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ علم صرف تنبیہ اور خوف کا سبب نہیں، بلکہ اہلِ ایمان کے لیے اطمینان کا ذریعہ بھی ہے؛ کیونکہ جو ذات تمہاری ہر نگاہ سے باخبر ہے، وہی تمہاری اس قربانی اور پاکیزگی کو بھی جانتی ہے جو تم نے صرف اس کی رضا کے لیے اختیار کی ہے۔پس نگاہ کی حفاظت محض ایک ظاہری پابندی نہیں، بلکہ دل، کردار اور روح کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔