(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرشاہد صدیقی،انڈیا

ڈاکٹرشاہد صدیقی،انڈیا

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
عبید اللہ سندھی، تاجِ برطانیہ اور مزاحمت
پنجاب میں مارچ کے مہینے میں بہار کی آہٹ ہر طرف سُنائی دیتی ہے، درختوں پر نئی کونپلیں اور رنگا رنگ پھول منظروں کو خوش نما بنا دیتے ہیں، مارچ کے اسی مہینے میں سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک سکھ گھرانے کے آنگن میں بھی ایک پھول کھِلا تھا، اس وقت کسِے خبر تھی کہ اس پھول کی مہک ایک عالم کو اپنا اسیر بنا لے گی، بچے کی پیدائش پر خوشیاں منائی گئیں لیکن ایسے میں بچے کی ماں کو اپنے شوہر کی کمی بُری طرح محسوس ہوئی جس کا انتقال بچے کی پیدائش سے چار ماہ قبل ہو گیا تھا، اب بچے کی پرورش کا ذمہ دادا نے لے لیا لیکن دو ماہ بعد ہی بچے کے دادا کا انتقال ہوگیا، تب بچے کی ماں اسے لے کر اپنے والدین کے گھر ڈیرہ غازی خان چلی گئی، ماں کی آرزو تھی کہ اس کا لعل لکھ پڑھ کر بڑا آدمی بنے، بچے کو سکول داخل کرایا گیا، جہاں اس نے اپنی ذہانت اور شوقِ مطالعہ سے اپنے اساتذہ کو حیران کر دیا، اساتذہ نے دیکھا، اس بچے کا رجحان تاریخ، فلسفہ اور ریاضی کی طرف ہے، انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اس بچے میں غیر معمولی صلاحیتیں ہیں _

کہتے ہیں ”کتابوں کی دنیا عجیب دنیا ہوتی ہے، زمانوں کی دانائی چند صفحات میں سمٹ آتی ہے اور پھر اچانک کوئی کتاب ایسی بھی ہوتی ہے جو پڑھنے والے کی کایا پلٹ دیتی ہے“ اس بچے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ایک دن اس کے ہاتھ ایک کتاب لگی جس کا نام ”تحفۃ الہند‘‘ تھا، اس کے مصنف کا نام عبید اللہ تھا، کتاب کی کہانی میں مصنف کی ذاتی داستان تھی کہ کس طرح وہ ہندو برہمن سے مسلمان بن گیا، کتاب میں مصنف نے ہندو مذہب کے بارے میں کئی سوالات اُٹھائے تھے، اس کتاب کے مطالعے نے بچے کی زندگی میں ہلچل پیدا کر دی، اس نے اس کتاب کا مطالعہ اتنی بار کیا کہ وہ اسے زبانی یاد ہوگئی تھی، اس کے واقعات، اس کا اسلوب، ہندو مذہب کے بارے میں سوالات سب اس کے نوخیز ذہن کی دنیا بدل چکے تھے، اسے یوں محسوس ہوا یہ کتاب جیسے اسی کےلئے لکھی گئی ہو، وہ چوری چھپے اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں پڑھنے لگا، کوئی شوق تھا جو اس بچے کو ایک نئے سفر پر لئے جا رہا تھا، تب ایک اور واقعہ ہوا، جس نے اس کے شوق کی چنگاری کو شعلے میں بدل دیا _

اس بار بھی یہ کام ایک کتاب نے کیا، یہ کتاب شاہ اسمٰعیل شہید کی ”تقویۃُ الایمان‘‘ تھی، کتاب کے مطالعے سے اس کے یقین کی دنیا اور مستحکم ہوگئی، اب بچے کی عمر پندرہ برس ہوچکی تھی اور اسے اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ وہ جس منزل کی تلاش میں ہے وہ اس کے سامنے ہے، اس نے گھر والوں سے چوری چھپے رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیے، گھر والوں کو پتا چلا تو اس کی خوب سر زنش ہوئی، اب صورت حال عجیب سی ہو گئی تھی، اسے یوں لگ رہا تھا کہ اگر وہ مزید اس تضاد بھری زندگی میں رہا تو اس کا جینا دوبھر ہو جائے گا، پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا کیوں نہ میں اپنا گھر چھوڑ دوں اور کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں اپنی سوچ کے مطابق عمل کر سکوں، پھر اسے اپنی ماں کا خیال آیا، جس نے اسے لاڈ پیار سے پالا تھا، وہی اس کی امیدوں کا مرکز تھا، چند دن یونہی سوچ بچار میں گزر گئے، آخر اس نے اپنی زندگی کا ایک کڑا فیصلہ کر لیا اور ایک رات چپکے سے گھر سے نکل آیا، اس کی منزل مظفر گڑھ کا گاؤں کوٹلہ شاہ تھی _

وہ 29 اگست کا دن اور 1887ء کا سال تھا جب اس نے ایک تقریب میں باقاعدہ اسلام قبول کر لیا، اسے یوں لگا جیسے اس کے دل کی بے قرار دھڑکنوں کو قرار آ گیا ہے، جب اس کا اسلامی نام رکھنے کا وقت آیا تو اسے ”تحفۃ الہند‘‘ کے مصنف عبید اللہ کا خیال آ گیا جس نے اس کی زندگی کو بدل کے رکھ دیا تھا، اس نے فیصلہ کیا کہ اس کا نام عبید اللہ ہوگا، یہی عبید اللہ سندھی بعد میں برصغیر میں ایک ممتاز عالمِ دین اور تحریکِ آزادی کے مجاہد کے طور پر معرو ف ہوئے لیکن یہ تو ذرا بعد کی باتیں ہیں _

ابھی تو کم سِن عبید اللہ نے کئی پُر خار راستوں کا سفر کرنا تھا، ادھر اس کے باقاعدہ اسلام قبول کرنے کا اعلان ہوا، اُدھر اس کے رشتے دار ڈھونڈتے ڈھونڈتے کوٹلہ شاہ آ پہنچے اور اسے گھر واپس جانے کےلئے کہا لیکن اب عبید اللہ اپنی منزل کا تعین کر چکا تھا، اس نے تمام تر کوششوں کے باوجود گھر جانے سے انکار کر دیا اور نئے سفر کے نئے منظروں کی تلاش میں سرگرداں ہوگیا، اس نے عربی زبان اور اس کے قواعد پر مزید کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا، تب اسے ایک روحانی رہنماء کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس کی طلب اسے سندھ میں شیخ المشائخ حافظ محمد صدیق بھرچونڈی کے پاس لے آئی، یہ وہی حافظ صدیق تھے جنہیں شاہ اسمٰعیل شہید کی محفلوں میں بیٹھنے کا شرف حاصل تھا، عبید اللہ سندھی نے تقریباً دو ماہ یہاں قیام کیا، علم کی پیاس انہیں ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف لے جا رہی تھی، اس زمانے میں سفر آسان نہ تھے لیکن کوئی شوق تھا جو ان کا رہبر تھا اور اس شوق کی انگلی پکڑے وہ نئی منزلوں کی طرف رواں تھے، ان کی اگلی منزل مظفر گڑھ تھی، جہاں انہوں نے مولانا خدا بخش سے نحو کی تعلیم حاصل کی _

یہ 1888ء کا سال تھا، جب عبید اللہ سندھی کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا، جس نے ان کی زندگی کی کایا پلٹ دی، یہ وہ سال تھا جب ان کی علم کی پیاس انہیں دار العلوم دیوبند کی دہلیز پر لے آئی تھی، منطق اور فلسفہ کی تعلیم ان کے بچپن کا شوق تھا اور اب دار العلوم دیوبند اس شوق کی تکمیل کا ذریعہ بن رہا تھا، عبید اللہ سندھی کو مطالعے کا جنون تھا لیکن بعض اوقات انہیں یہ احساس ہوتا کہ بہت سی کتابیں پڑھنے کےلئے بہت سا وقت چاہیے اور ان کے پاس مطالعے کےلئے وقت کم ہے، تب ان کے ایک عربی استاد نے انہیں بتایا کہ کتاب پڑھنے کی تکنیک کیا ہے؟ اور ہم کیسے مختصر وقت میں زیادہ کتابوں سے استفادہ کر سکتے ہیں؟ بعد میں یہ تکنیک ان کے بہت کام آئی _

عبید اللہ سندھی اپنی آپ بیتی ”سرگزشتِ حیات‘‘ (جو عربی زبان میں ہے اور جس کا خوب صورت اور با محاورہ اردو ترجمہ مفتی عبد الخالق رائے پوری صاحب نے کیا ہے) میں لکھتے ہیں، انہوں نے کتابوں کے مطالعے کی تکنیک جو اپنے عربی استاد سے سیکھی تھی کی مدد سے زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں لیکن اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے غور و فکر (Reflection) کو اپنی عادت بنا لیا تھا، یوں وہ کتاب یا استاد کی اندھی تقلید کے قائل نہیں تھے، عبید اللہ سندھی کی یہ بات تعلیم کا اصل جوہر ہے، طالبِ علم کے اندر سوچ بچار کی صلاحیت کی بیداری ہی تعلیم کا مقصدِ اوّل ہے، دار العلوم کے شب و روز یونہی گزر رہے تھے کہ ایک روز خبر ملی کہ اب انہیں ایک نئے استاد پڑھائیں گے، عبید اللہ سندھی کے پوچھنے پر ان کے ساتھی نے بتایا کہ استاد کا نام شیخ الہند محمود حسن ہے، شیخ الہند کا نام سن کر عبید اللہ سندھی کے اندر بہار کے رنگ بکھرنے لگے، شیخ الہند کی کلاس میں بیٹھنا ہی ایک اعلیٰ ترین اعزاز کی بات تھی، اس وقت عبید اللہ سندھی کو کیا خبر تھی ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ تاجِ برطانیہ کے خلاف مزاحمت میں وہ شیخ الہند کے دستِ راست ہوں گے لیکن آج تو انہیں اپنے ہم جماعتوں سمیت شیخ الہند کی کلاس کا بے تابی سے انتظار تھا جو کچھ ہی دیر میں شروع ہوا چاہتی تھی _

عبید اللہ سندھی علم کی تلاش میں کتنے ہی اساتذہ کی چوکھٹ تک گئے تھے؟ کیسے کیسے کُتب خانوں کی خاک چھانی تھی؟ اور آخر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ سوچ کی راہوں پر اندھی تقلید کا پہرہ نہیں ہونا چاہیے، مطالعہ اور غور و فکر ہی علم کے خزانوں تک رسائی کا طریقہ ہے لیکن شیخ الہند محمود حسن کی کلاس کا رنگ ہی کچھ اور تھا، وہ کتاب کا متن پڑھاتے، تشریح کرتے اور چند ایسے گوشوں کی نشاندہی کرتے جو پڑھنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے _

عبید اللہ سندھی کو شیخ الہند کی کلاس میں احساس ہوا کہ استاد کیسے شاگردوں کو سوچ کے نئے زاویے مہیا کر سکتا ہے، شیخ الہند کی تدریس نے عبید اللہ سندھی کےلئے غور و فکر کے نئے در کھول دیے تھے، دار العلوم کی دنیا کتابوں، درس و تدریس اور غور و فکر کی دنیا تھی، عبید اللہ سندھی جو پہلے ہی کتابوں کے رسیا تھے دارالعلوم کے کُتب خانے سے استفادہ کرنے لگے، یہ 1890ء کا سال تھا، اس وقت ان کی عمر محض اٹھارہ برس تھی اور وہ فقہ اور حدیث کی اہم اور بنیادی کتابوں کا بغور مطالعہ کر چکے تھے، اب سالانہ امتحان کا وقت آ پہنچا تھا، وہ دن عبید اللہ سندھی کی زندگی کا ایک یادگار دن تھا جب مولانا سیّد محمد دہلوی نے اپنے ہاتھوں سے عبید اللہ سندھی کو امتحان میں اعلیٰ درجے کی کامیابی کی سند عطاء کی تھی، کہتے ہیں دیوبند کی تاریخ میں اس سے پہلے اتنے اعلیٰ درجے کی کامیابی کی صرف ایک دو مثالیں تھیں لیکن یہ عبید اللہ سندھی کی منزل نہیں تھی، علم کے طویل راستے پر انہیں آگے بہت آگے جانا تھا _

1890ء میں ہی عبید اللہ سندھی نے ”مقاصد الاصول‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی، شیخ الہند نے عبید اللہ سندھی کی یہ تحریر دیکھی تو اسے پسند کیا، شیخ الہند کی تحسین نے عبید اللہ سندھی کے شوق کو اور ہوا دی، یہ وہ اہم نکتہ ہے کہ کس طرح ایک استاد کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی شاگردوں میں شوق کی چنگاریوں کی شعلوں میں بدل سکتی ہے، کیسے استاد کا مہربان رویہ شاگردوں میں اعتماد کی سطح کو بلند کرتا ہے اور انہیں نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتا ہے، شیخ الہند کی شخصیت بھی پارس کی طرح تھی جو اپنے حلقۂ اثر میں آنے والوں کو سونا بنا دیتا ہے، اب عبید اللہ سندھی کی اگلی منزل مولانا قاسم نانوتوی کی کتابوں کا مطالعہ تھی، عبید اللہ سندھی کو مولانا قاسم نانوتوی کی تحریروں میں ایک منفرد اسلوب نظر آیا، ان کی ہر تحریر میں استدلال کا رنگ صاف نظر آتا تھا اور پھر وہ اہم نکات کو سمجھانے کےلئے ریاضی کی مثالیں پیش کرتے تھے، ریاضی وہ مضمون تھا جو عبید اللہ سندھی کو سکول کی ابتدائی سطح سے پسند تھا، یوں انہیں مولانا قاسم نانوتوی کی تحریروں میں ایک خاص لطف محسوس ہونے لگا، یہ تحریریں سادہ اور پُر اثر تھیں، بھاری بھرکم اصطلاحات سے قصداً گریز کیا گیا تھا، یوں کتاب کا متن پڑھتے ہوئے اضافی تشریح کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی _

وقت کے ساتھ ساتھ عبید اللہ سندھی کی علم کی پیاس کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی تھی، وہ جتنا پڑھتے جاتے اتنا ہی انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہوتا تھا کہ علوم کے کتنے ہی خزانے ہیں جن تک ان کی رسائی نہیں ہے، اب انہوں نے شیخ الہند سے جامع ترمذی کا درس لینا شروع کیا اور پھر مولانا رشید احمد گنگوہی سے ”سننِ ابو داؤد‘‘ کے کئی حصے پڑھے، وہ دن عبید اللہ سندھی کی زندگی کا ایک خوش قسمت دن تھا، جب شیخ الہند محمود حسن نے انہیں حدیث کی تمام کُتب کی اجازت مرحمت فرمائی _

اگلے ہی سال عبید اللہ سندھی کو علاج کی غرض سے دہلی منتقل ہونا پڑا جہاں حکیم محمود خان نے ان کا علاج کیا، دہلی میں یہ قیام تین ماہ پر محیط تھا، علالت کے اس عرصے میں بھی عبید اللہ سندھی نے حصولِ علم کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا، دہلی کے اس قیام میں انہیں اپنے استاد سیّد العارفین کا خیال آیا جنہوں نے عشق کے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ان کی رہنمائی کی تھی، عبید اللہ سندھی نے رختِ سفر باندھا اور بھرچونڈی کا رُخ کیا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، ان کے بھرچونڈی پہنچنے سے دس روز قبل ان کے مرشد کا انتقال ہو چکا تھا، ان کے خلفاء مولانا ابو السراج اور مولانا ابو الحسن تاج محمود امروٹی نے ان کی تربیت کی، عبید اللہ سندھی نے یہاں دس سال قیام کیا، یہیں پر ان کی شادی ہوئی، شادی سے قبل وہ اپنی والدہ کو گھر لے آئے تھے، اس قیام کے عرصے میں عبید اللہ سندھی نے تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف پر پوری توجہ دی اور متعدد کتابیں لکھیں، کتابوں کی اشاعت کےلئے محمود المطابع کے نام سے پرنٹنگ پریس قائم کیا، یہیں سے 1899ء میں سندھی زبان کا ایک ماہنامہ ”ہدایۃُ الاخوان‘‘ شروع کیا _

درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری تھا اور ملکی سطح پر سیاسی حالات نئی کروٹ لے رہے تھے، ان کا ملک ہندوستان تاجِ برطانیہ کے غاصبانہ قبضے میں تھا، عبید اللہ سندھی کے دل میں لہریں اٹھتیں اور بے چینی بڑھ جاتی، تب ایک روز انہوں نے دیوبند جانے کا فیصلہ کیا اور شیخ الہند سے شاہ اسمٰعیل شہید کی جہاد اور سیاست کے بارے میں لکھی گئی تحریروں پر رہنمائی حاصل کی، شاہ عبد العزیز اور شاہ محمد اسمٰعیل شہید کے خیالات عبید اللہ سندھی کےلئے نشانِ منزل تھے، عبید اللہ سندھی اب عملی میدان میں با معنی کردار ادا کرنے کے خواہش مند تھے، شیخ الہند کی ہدایت پر انہوں نے 1901ء میں سندھ میں دار العلوم کی ایک شاخ ”دارالرشاد‘‘ کے نام سے قائم کی، 1909ء میں شیخ الہند نے عبید اللہ سندھی کو دیوبند منتقل ہونے کی ہدایت کی اور اسی سال جمعیت الانصار کی بنیاد رکھی، عبید اللہ سندھی دیوبند کے دعوت و ارشاد کے شعبے کے سربراہ تھے، دار الانصار کے قیام کا مقصد اُن تیس ہزار کے قریب علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا جو دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے، شیخ الہند کی سیاسی مد و جزر پر گہری نگاہ تھی، جب انہوں نے دیکھا کہ ہندوستان کا دار الحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل ہوگیا ہے اور سیاسی جماعتوں کا مرکز بن گیا ہے تو انہوں نے عبید اللہ سندھی کو دہلی میں ''نظارۃ المعارف القرانیہ‘‘ کے قیام کی ہدایت کی _

1914ء میں پہلی جنگِ عظیم کا آغاز ہو چکا تھا، اب وقت آ گیا تھا کہ مدرسوں کی عافیت گاہوں سے نکل کر عملی جدو جہد کا آغاز کر دیا جائے، شیخ الہند نے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر عملی جدو جہد کے آغاز کا فیصلہ کر لیا، ایک روز انہوں نے اچانک عبید اللہ سندھی سے کہا کہ انہیں کابل جانا ہوگا، عبید اللہ سندھی ذہنی طور پر اس کےلئے تیار نہیں تھے لیکن یہ مرشد کا حکم تھا اور ضرور اس میں شیخ الہند کی کوئی مصلحت تھی، ادھر خفیہ ایجنسیوں کے لوگ شیخ الہند اور ان کے ساتھیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے، عبید اللہ سندھی سندھ روانہ ہوگئے اور وہاں چار ماہ قیام کے بعد کابل کا رخ کیا، یہ 1915ء کا سال تھا اور اگست کا مہینہ، کابل ان کےلئے اجنبی جگہ تھی، دور تک پہاڑوں کا ایک سلسلہ تھا، ان کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں تھیں اور پھر خفیہ ایجنسیوں کے کارندے ان کی تلاش میں شکاری کتوں کی طرح سرگرداں تھے لیکن عبید اللہ سندھی نے خطروں سے ڈرنا سیکھا ہی نہیں تھا، اب رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیل چکا تھا، ہر طرف خاموشی کا راج تھا، ایسے میں آسمان پر آنکھیں جھپکتے ستاروں نے دیکھا کہ ایک مختصر قافلہ اونچی نیچی سنگلاخ راہوں پر چلتا ہو ایک ایسی منزل کی طرف رواں دواں تھا جو ان سب کےلئے اجنبی اور انجان تھی، بالکل اس گہری سیاہ رات کی طرح جس کے سینے میں کتنے ہی راز پوشیدہ تھے _

افغانستان کی سرحد پار کرتے ہی عبید اللہ سندھی اور ان کے ساتھی حکام کی نظر میں آ گئے، ان کے پاس سفری دستاویزات کی عدم موجودگی نے شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیا تھا لیکن انہوں نے اپنا اعتماد برقرار رکھا اور درخواست کی کہ انہیں قندھار تک پہنچا دیا جائے تو وہ حکومت کو پورے طریقے سے مطمئن کر دیں گے، ان کی درخواست منظور کر لی گئی، قندھار میں ان سے مزید تفتیش کی گئی بالآخر حکام ان کے جوابات سے مطمئن ہوگئے، خوش قسمتی سے قندھار میں ان کے چند شناسا لوگ مل گئے جن کی قندھار کے حکام سے جان پہچان تھی، انہی کے توسط سے عبید اللہ سندھی کی ملاقات نائب الحکومت سے ہوئی جنہوں نے انہیں نہ صرف عزت و احترام سے قندھار رہنے کی اجازت دی بلکہ ان کی خواہش پر ان کے کابل کے سفر اور کابل میں قیام کا بندوبست بھی کیا _

یہ قدرت کی خاص مہربانی تھی کہ ایک اجنبی علاقے میں انہیں رفقاء میسر آ گئے تھے، کچھ دن قندھار میں قیام کرنے کے بعد عبید اللہ سندھی اور ان کے ساتھیوں کےلئے حکومت کی طرف سے کابل کے سفر کا اہتمام کیا گیا، وہ 1915ء کا سال تھا اور اکتوبر کی پندرہ تاریخ جب عبید اللہ سندھی اور ان کے ساتھی کابل پہنچے۔ اس وقت ان کے تصور میں بھی نہیں تھاکہ انھیں ایک طویل عرصے تک یہاں رہنا ہوگا اور مقامی اور بین الاقوامی سیاست کا حصہ بننا ہوگا، یہ وہ زمانہ تھا جب ترک خلافت بچانے کےلئے ہندوستان کے عوام میں حد درجہ جوش و خروش پایا جاتا تھا، ہندوستان کے جوانوں نے ترکی کے شانہ بشانہ لڑنے کےلئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا، ان میں سے بہت سے نوجوان افغانستان میں حراست میں لئے گئے تھے اور رہائی کے بعد یہیں رہ کر عملی طور پر ترکوں کی مدد کر رہے تھے، ان دنوں افغانستان میں امیر حبیب اللہ خان کی بادشاہت تھی، رفتہ رفتہ عبیداللہ سندھی اور ان کے رفقاء کی رسائی امیر حبیب اللہ خان کے دربار تک ہوگئی، عبید اللہ سندھی کو کابل بھیجنا شیخ الہند مولانا محمود حسن کے اس منصوبے کا حصہ تھا کہ ہندوستان پر انگریزوں کی غاصبانہ حکومت کے خلاف ملک میں اور ملک سے باہر مزاحمت بڑھائی جائے _

عبید اللہ سندھی کو یہ کام بہت حکمت اور تدبر سے کرنا تھا، سب سے پہلے انہیں امیر حبیب اللہ خان کا اعتماد جیتنا تھا اور ملکی سطح پر اپنے سیاسی وجود کو منوانا تھا، اس کےلئے ضروری تھا کہ ہندوستان سے آئے ہوئے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے، یہ نوجوان پڑھے لکھے تھے، ضرورت اس بات کی تھی کہ انہیں ایک ایسی تنظیم کے نظم میں پِرویا جائے جہاں ان کی سیاسی، علمی اور عسکری تربیت ہو سکے، اس مقصد کےلئے ”جنود اللہ الربانیہ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی، رفتہ رفتہ یہ تنظیم مؤثر ہوگئی تھی اور اسکے تحت حکومتِ افغانستان کی اجازت سے، ہندوستان، ایران اور ترکمانستان میں وفد بھیجے گئے، اُدھر ہندوستان کی فرنگی حکومت ان کے معمولات سے بے خبر نہ تھی، وہ اور ان کے ساتھی سی آئی ڈی کی نظروں میں کھٹکنے لگے اور آہستہ آہستہ ان کا کام مشکل ہونے لگا، ایک طرف تو یہ چیلنج تھے اور دوسری طرف عالمِ غیب سے مدد آنے لگی تھی _ اسی زمانے میں ایک اور مزاحمتی کردار حاجی ترنگزئی کا تھا جو فرنگیوں کےلئے دہشت کا سامان بنے ہوئے تھے، حاجی ترنگزئی شیخ الہند مولانا محمود حسن کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے، ان کے بہت سے پیروکاروں نے ”جنود اللہ‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی، اسی طرح جماعتِ مجاہدین کے امیر شیخ عبد الکریم بن امیر مولانا ولایت علی عظیم آبادی سے ملاقات کر کے تعاون کے راستے تلاش کئے گئے، عبید اللہ سندھی اس بات سے باخبر تھے کہ انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کے تمام فرقوں اور ہندوستان کی تمام قوتوں کو متحد ہونا ہوگا، اس سلسلے میں انہوں نے عملی کوششیں بھی کیں، عبید اللہ سندھی نے غیر مسلموں کے ساتھ اتحاد کےلئے خاص طور پر زور دیا، اس سب کا مقصد ایک تھا، ”ہندوستان کی انگریزوں کے غاصبانہ قبضے سے رہائی“ _

افغانستان میں جمع ہندوستانی نوجوانوں کی کثیر تعداد کےلئے ایک تعلیمی مرکز کا قیام ضروری تھا، اس کےلئے تجویز ہوا کہ کابل میں ”ہندوستانی یونیورسٹی‘‘ کا قیام عمل میں لایا جائے، اس تجویز کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوؤں اور افغانستان کے باشندوں کو اتحاد کی لڑی میں پرونا تھا لیکن یہ انتہائی اہم منصوبہ ہندو مسلم اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا اور ہندوستانی یونیورسٹی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا، عبید اللہ سندھی نے ہمت نہ ہاری، انہیں معلوم تھا کہ ان کی کامیابی کا راز مسلمان اور ہندو حریت پسندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے، ان کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ کابل میں انڈین نیشنل کانگریس کی ایک شاخ قائم کی جائے، یہ خیال عمل میں ڈھل گیا تو انہوں نے ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس سے الحاق کی درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا، یہ تاجِ برطانیہ کی عمل داری سے باہر انڈین نیشنل کانگریس کی پہلی شاخ تھی جس کے صدر عبید اللہ سندھی منتخب ہوئے، یہ ایک اہم کامیابی تھی، اب وقت آ گیا تھا کہ مزاحمت کے عمل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے اور یہ افغانستان میں ایک عبوری ہندوستانی حکومت کا قیام تھا، اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں جرمنی، ترکی اور افغان حکام کی اشیر باد شامل تھی، اس عبوری ہندوستانی حکومت کے صدر راجہ مہندر پرتاب تھے، جن کا بھر پور ساتھ مولانا برکت اللہ نے دیا، عبید اللہ سندھی اس عبوری ہندوستانی حکومت کی کابینہ کے وزیر بن گئے، اس عبوری حکومت کا قیام دنیا بھی کےلئے ایک صاف اور واضح پیغام تھا کہ ہندوستانی عوام ہندوستان پر انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کو نہیں مانتے اور ان کی نمائندہ حکومت ہندوستان کی عبوری حکومت ہے _

اِدھر عبید اللہ سندھی افغانستان میں مزاحمت کی جنگ لڑ رہے تھے، اُدھر شیخ الہند محمود حسن حجاز میں ہندوستان کی آزادی اور ترکی میں خلافت بچانے کےلئے سرگرم تھے، انہی دنوں ”ریشمی رومال‘‘ تحریک کا شور اُٹھا، یہ در اصل وہ خطوط تھے جو فرنگی حکومت کے خلاف لکھے گئے تھے جن کی عبارت ریشمی رومال پر تحریر کی گئی تھی اور جن میں بنیادی کردار شیخ الہند مولانا محمود حسن کا تھا، بد قسمتی سے یہ خط خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ لگ گئے، یہ سراسر فرنگی حکومت سے بغاوت کا اعلان تھا، مولانا محمود حسن کو 1917ء میں حجاز سے گرفتار کر کے مالٹا بھیج دیا گیا، جہاں انہیں تین سال قید رکھنے کے بعد مارچ 1920ء میں رہا کیا گیا، رہائی کے بعد وہ ہندوستان آئے، اب وہ کمزوری اور نقاہت کی گرفت میں تھے لیکن شیخ الہند نے آخر دم تک ہار نہ مانی، ہندوستان آ کر انہوں نے جمعیتِ علمائے ہند کی بنیاد ڈالی اور اسی طرح معروف تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ کا سنگِ بنیاد رکھا اور ”نظارۃالمعارف القرانیہ‘‘ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کا حصہ بنا دیا، اکتوبر 1920ء میں جب شیخ الہند کا انتقال ہوا _

عبید اللہ سندھی کابل میں تھے، شیخ الہند کے انتقال کی خبر سُن کر ماضی کے دن رات ان کی آنکھوں میں روشن ہوگئے، برطانوی حکومت کے دباؤ کی وجہ سے عبید اللہ سندھی کےلئے اب کابل میں مزید کام ناممکن ہوگیا تھا، کابل میں آئے ہوئے انہیں سات سال اور سات مہینے ہو چکے تھے لیکن اب یہاں مزید کام کرنا ممکن نہیں رہا تھا، کافی سوچ بچار کے بعد عبید اللہ سندھی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کابل چھوڑ دیں گے مگر ہندوستان کی آزادی کے خواب سے دستبردار نہیں ہوں گے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس خواب کی تعبیر کے حصول کےلئے کسی اور جگہ چلے جائیں گے، جہاں وہ آزادی کے خوابوں میں رنگ بھر سکیں لیکن ایسی جگہ کون سی ہو گی؟ وہ خود ہی اپنے آپ سے سوال کرتے اور کوئی جواب نہ پاتے، اچانک ایک دن ان کی آنکھوں میں ایک دیار کا تصور جھلملانے لگا اور ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی _

عبید اللہ اور ان کے ساتھیوں کےلئے کابل چھوڑنا اتنا آسان نہ تھا، سات برس ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، یہاں گزرے ہوئے دنوں کی یادیں ان کے پاؤں پکڑ رہی تھیں لیکن ان کا جانا اب ٹھہر گیا تھا، اگلی منزل کون سی ہو؟ ایک طویل سوچ بچار کے بعد عبید اللہ سندھی کے دماغ میں معاً ایک خیال جگمگا اُٹھا، کیوں نہ روس کی سر زمین کو آزمایا جائے، اسی خیال کے تحت انہوں نے روس کے ایک وکیل سے بات کی اور پھر وہ اور ان کے ساتھی دریائے جیحوں کے پار اُتر گئے، یہ ایک اجنبی دیار تھا، مولانا عبید اللہ سندھی کے ہمراہ وہ نوجوان بھی تھے جو ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے تھے اور جو فرنگی سامراج کے خلاف مزاحمت کےلئے اپنے گھر بار اور تعلیم چھوڑ کر آ گئے تھے، ان سب کےلئے روس ایک نئی دنیا تھی _

عبید اللہ سندھی روس کے نظام کی انقلابی سوچ سے متاثر ہوئے، وہ انتہائی کثیر المطالعہ تھے اور غور و فکر کے بعد اپنی سوچ کی تشکیل کرتے تھے، کیسی کیسی کتابیں ان کی سوچ میں رنگ بھرتی گئی تھیں، ان سب کتابوں کے مطالعے اور ان پر غور و فکر نے ان کی سوچ کے افق وسیع کر دیے تھے لیکن ان کی سیاسی سوچ میں ارتعاش اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے الیاس برنی کی کتابیں ”علم المعیشت“ اور ”ہندوستان کی معاشی حالت“ پڑھی، ان کتابوں کے مطالعے نے انہیں سماج میں اقتصادیات کی اہمیت اور اشتراکی انقلاب کے بارے میں مزید جاننے کا شوق بڑھا دیا اور وہ سوچنے لگے، کیا ایسا عملی طور پر ممکن ہے؟ ان کے ساتھیوں میں بہت سے اس نظام کے حامی تھے، ان کے ہمراہ آئے ہوئے بہت سے نوجوانوں (جو ہندوستان میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر آئے تھے) نے یہاں کے انقلابی کالج میں داخلہ لے لیا تھا لہٰذا ہر شام کو بحث و مباحثہ کی محفلیں ہوتیں، جن میں عبید اللہ سندھی بھی حصہ لیتے، وہ آہسہ آہستہ اجتماعیت کے اس نظام کے حامی بن گئے جو شاہ ولی اللہ کے فلسفۂ انقلاب کے نزدیک تر تھا، انہوں نے روس کے نظام کو بہت قریب سے دیکھا اور دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ اب وہ کسی دوسرے ملک کے بجائے اپنی تمام تر توجہ ہندوستان پر مرتکز کریں گے اور اس انقلابی فلسفے کو ہندوستان کے باشندوں کے ذہنوں میں راسخ کریں گے، جس کے حوالے شاہ ولی اللہ کی تحریروں میں ملتے ہیں _

جب عبید اللہ سندھی نے روس کے کچھ دانشوروں سے شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کا تذکرہ کیا تو وہ حیران رہ گئے کہ وہ افکار جو مارکس سے منسوب ہیں، شاہ ولی اللہ نے ان انقلابی افکار کا اظہار مارکس سے سو سال پہلے کر دیا تھا، روس میں قیام کے دوران عبید اللہ سندھی کی ملاقاتیں حکومت کے اہم باشندوں سے بھی ہوئیں لیکن ان تذکروں میں کوئی حقیقت نہیں کہ ان کی ملاقات لینن سے ہوئی، عبید اللہ سندھی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ ان دنوں لینن بیمار تھا اور وہ اپنے قریبی دوستوں اور عزیزوں کو بھی نہیں پہچانتا تھا، روس میں سات ماہ کا یہ قیام اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ اس دوران عبید اللہ سندھی کی سوچ میں ایک واضح تبدیلی آئی اور ان کے فلسفۂ سیاست میں سماجی بھلائی اور انقلاب کا تصور نمایاں ہو کر سامنے آیا، عبید اللہ سندھی ہندوستان کے باشندوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کےلئے ٹھوس اقدامات کرنا چاہ رہے تھے لیکن ہندوستان کی فرنگی حکومت میں وہ اور ان جیسے انقلابی سوچ کے حامل افراد قابلِ گردن زدنی تھے، وہ سوچنے لگے، اگر ہندوستان نہیں تو ترکی کا سفر کیا جائے تا کہ قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے _

ترکی اور افغان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد انہوں نے جولائی 1923ء میں ترکی جانے کا قصد کیا، یہیں پر ان کی ملاقات ترکی کے انقلاب پسند رہنماؤں سے ہوئی جن میں عصمت پاشا اور رؤف بِک شامل ہیں، ان دنوں ترکی تبدیلیوں کی زد میں تھا، ترکی میں معاشرے کی سطح پر تبدیلیوں کا ادراک ان کےلئے آسان ہو گیا تھا کیونکہ انہوں نے روس کے نظام کو بہت قریب سے دیکھا تھا، یہ سوچ اور یہ طرزِ مشاہدہ ہندوستان کے بیشتر رہنماؤں کے پاس نہ تھا جس کی وجہ سے وہ اس تبدیلی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے، ترکی میں قیام کے دوران انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے عروج و زوال کا گہرا مطالعہ کیا، جس کا حاصل یہ تھا کہ بادشاہوں کی وراثت پر مبنی زوال پذیر قوت پر اعتماد کرنے کے بجائے مسلمانوں کی نجات اس میں ہے کہ وہ انقلابی اصولوں کی پیروی کریں، عبید اللہ سندھی کو اب نئی منزلیں بُلا رہی تھیں، وہ 5 جون 1926ء کو استنبول سے اٹلی اور پھر سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہوگئے _

اب ان کی اگلی منزل حجاز مقدس تھی، 15 اگست 1926ء کو وہ حجاز کی سر زمین پر پہنچے، انہیں اس بات کا افسوس ہوا کہ وہ حج کے بعد یہاں پہنچے تھے اور ہندوستان سے آنے والے حجاج کرام واپس جا چکے تھے، حجاز کی سر زمین پر درس و تدریس کا سلسلہ نئے سرے سے شروع ہوگیا، حجازِ مقدس میں ان کا قیام بارہ برس پر پھیلا ہوا تھا، ان دوران انہوں نے مقامی علماء سے کسبِ فیض کیا اور خود درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا، آخر کار انہیں ہندوستان واپس جانے کی اجازت مل گئی، یہ 1939ء کا سال تھا جب وہ ہندوستان کےلئے روانہ ہوئے، انہیں اپنے وطن، اپنے گھر بار اور اپنے پیاروں سے دور رہتے ہوئے تقریباً پچیس برس گزر گئے تھے، وہ مارچ کا مہینہ تھا جب وہ ہندوستان کی سر زمین پر پہنچے تھے، جگہ جگہ ان کا شاندار استقبال کیا گیا، لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کےلئے بے تاب تھے لیکن یہ والہانہ پن اس وقت آہستہ آہستہ کم ہونے لگا جب عبید اللہ سندھی نے اپنے انقلابی خیالات کا بے باک اظہار کرنا شروع کر دیا اور سیاست کے فرسودہ ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بنایا _

ان کی اس انقلابی سوچ نے سیاسی جماعتوں اور ان کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے، ان کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد اب غیر فعال ہوگئی تھی، یوں لگتا تھا 25 سال کی غیر حاضری کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا تھا، سیاسی جماعتوں کی غیریت دیکھ کر عبید اللہ سندھی نے اپنی جماعت بنانے کا اعلان کیا جس کا نام ”جمنا نربدا سندھ ساگر‘‘ تھا لیکن شاید زمانہ آگے نکل گیا تھا یا شاید عبید اللہ سندھی زمانے سے آگے نکل گئے تھے، ہر دو صورتوں میں نتیجہ تنہائی تھا، عبید اللہ سندھی کے آخری پانچ برس حیرت، افسوس اور مایوسی کے سال تھے، انہوں نے پیرانہ سالی کے باوجود کئی مراکز کا اجراء کیا لیکن اب نہ تو وہ پہلے جیسی طاقت تھی نہ ہی پیرو کاروں کا جوش و خروش، کبھی کبھی انھمہیں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے روز و شب یاد آ جاتے تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی، کیسے کیسے خواب تھے جو انہوں نے اپنی قوم کےلئے دیکھے تھے، کیسی کیسی رکاوٹیں تھیں جن سے وہ ٹکرا کر آگے بڑھ گئے تھے، کیسی کیسی قربانیاں تھیں جو ایک صبحِ نو کےلئے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے رضاکارانہ پیش کی تھیں، کبھی کبھی وہ حیران ہوتے کہ ان کی ایک زندگی میں کتنی ہی مختلف زندگیوں کے رنگ بھر گئے ہیں _

اب ان کی صحت جواب دے رہی تھی، آخر کار وہ 21 اگست 1944ء کو اس عالمِ فانی سے رخصت ہوگئے لیکن ان کی عمر بھر کی جدو جہد رائیگاں نہیں گئی تھی، ان کی رحلت کے ٹھیک تین سال بعد اگست ہی کے مہینے میں ہندوستان فرنگیوں کے قبضے سے آزاد ہوگیا، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کے اس رُوپہلی چہرے کے پیچھے عبید اللہ سندھی اور ان جیسے کتنے ہی حریت پسندوں کی قربانیوں کے چراغ جل رہے ہیں _

مأخَذ

بشکریہ،ماہ نامہ معارف،اعظم گڑھ

کالم نگار : ڈاکٹرشاہد صدیقی،انڈیا
| | |
67