مسجد الحرام سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع جنت المعلیٰ قبرستان صرف ایک قبرستان نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جہاں خاندانِ نبوت کی جلیل القدر ہستیاں مدفون ہیں۔
بہت سے زائرین اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ یہاں رسول الله ﷺ کے سب سے بڑے صاحبزادے حضرت قاسم اپنی والدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ (رضی الله عنہا) کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔
حضرت قاسم، رسول الله ﷺ اور حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی پہلی اولاد تھے۔ آپ کی پیدائش پر ہی نبی کریم ﷺ نے اپنی کنیت "ابوالقاسم" (قاسم کے والد) رکھی، جو آپ ﷺ کو نہایت عزیز تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت قاسم کا انتقال دو یا تین برس کی عمر میں ہو گیا تھا۔
جنت المعلیٰ کی زیارت کرنے والے اکثر لوگ یہ جان کر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ حضرت قاسم اپنی والدہ حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے قریب ہی مدفون ہیں۔ بعض تاریخی نقشوں اور کتب کے مطابق ان کی قبر مبارک حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے قدموں کی جانب بتائی جاتی ہے، جو ان دونوں ہستیوں کے گہرے رشتے کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ قبرستان اسلام سے قبل بھی مکہ کا مرکزی قبرستان تھا اور یہاں کئی اہم ہستیاں مدفون ہیں، جن میں نبی کریم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب جنہوں نے آپ ﷺ کی پرورش کی۔ حضرت ابوطالب، آپ ﷺ کے شفیق چچا شامل ہیں ۔
1925 تک ان قبور پر خوبصورت گنبد اور مزارات موجود تھے لیکن بعد میں انہیں سادہ کر دیا گیا۔ آج یہ قبریں بغیر کسی نام کی تختی کے سادہ مستطیل صورت میں موجود ہیں، جو انسان کو دنیا کی فانی حقیقت کی یاد دلاتی ہیں۔