(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمحمدمشتاق احمد

ڈاکٹرمحمدمشتاق احمد

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
غامدی صاحب کی "گلابی عربی" اور "نیم پختہ اصول فقہ"
غامدی صاحب نے فقہ اور اصول فقہ کا کوئی سمجیدہ مطالعہ نہیں کیا، نہ ہی شاطبی کی موافقات کے چند ابواب کے سوا اصول فقہ کی امہات الکتب میں کوئی کتاب بالاستیعاب پڑھی ہے، لیکن ہمارے بعض دوست کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح انھیں اصول فقہ کے مباحث کی طرف لے آئیں۔

ابھی ایک دوست نے توجہ دلائی کہ غامدی صاحب نے بعض پروگراموں میں یہ بات کہی ہے کہ قرآن کی کوئی آیت "محتمل الوجوہ فی المعنی" نہیں، جسے اصولیین "مجمل" کہتے ہیں، ہاں "محتمل الوجوہ فی الاطلاق" ہے، جیسے مہر معروف کا حکم دیا تو اجتہاد کے ذریعے معروف کی کوئی مقدار مقرر کرلینا۔

اس پر میں نے عرض کیا:

"محتمل الوجوہ فی الاطلاق" کی ترکیب سے یہ مفہوم لینا لغتاً غلط ہے؛ یہ عجمی و ہندوستانی، بلکہ پنجابی عربی ہے؛ اور محض خبط ہے۔ اصول فقہ میں "اطلاق" کا یہ مطلب نہیں ہوتا جو اردو میں رائج ہے اور جس کا انگریزی میں ترجمہ application کیا جاتا ہے (یہ لکھا تو خیال آیا کہ انگریزی میں بھی application کا یہی ایک مفہوم نہیں ہے، بلکہ application تو "درخواست" کو بھی کہتے ہیں، اف خدایا!)۔ اصول فقہ میں اطلاق سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کوئی لفظ "بغیر قید کے" ہے، جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے "فتحریر رقبۃ" اور دوسری جگہ ہے "فتحریر رقبۃ مؤمنۃ"، تو پہلے مقام پر یہ مطلق ہے اور دوسری جگہ یہ مقید ہے۔ ایسے مقام پر مطلق کا انگریزی میں ترجمہ absolute کیا جاتا ہے۔

چنانچہ "محتمل الوجوہ فی الاطلاق" کی گلابی یا پنجابی عربی ترکیب کا قرآن کی عربی مبین یا اصول فقہ کے ساتھ کیا تعلق؟

بہرحال، اس کے بعد عرض یہ ہے کہ اگر application کے معاملے وہ قرآن میں کسی لفظ کو "محتمل الوجوہ" مانتے ہیں، جسے مجتہد کا اجتہاد متعین کرتا ہے، تو قرآن میں ایسے "محتمل الوجوہ" کا وجود وہ کیوں نہیں مانتے جسے اصول فقہ میں "مجمل" کہتے ہیں اور جس کی تعیین خود شارع کرتا ہے؟

نیز وہ خود مانتے ہیں کہ الصلوۃ، الزکوۃ اور ایسی دیگر شرعی "اصطلاحات" کا مفہوم امت میں متواتراً نقل ہوا ہے۔ جسے وہ اردو میں اصطلاح کہتے ہیں، وہی اصول فقہ میں مجمل ہوتا ہے۔ یہاں بھی اصول فقہ میں ان کےلیے مشکل اردو اور عربی کے اختلاف نے پیدا کرلی۔

عمران خان نے کہا تھا: ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں، اوپر سے کوشش بھی نہیں کرتے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمحمدمشتاق احمد
| | |
45