ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں فتنے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، شبہات عام ہیں، باطل نظریات تیزی سے پھیل رہے ہیں اور گمراہی کے راستے پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئے ہیں۔
فتنوں کے اس دور میں کون کب کسی شبہے کا شکار ہو جائے، کون کب کسی گمراہ کن فکر سے متاثر ہو جائے اور کون کب ہدایت کی راہ سے ہٹ کر گمراہی کے گڑھے میں جا گرے، کسی کو خبر نہیں۔اس لیے دوسروں کی گمراہی پر تعجب کرنے کے بجائے اپنے ایمان، اپنے دل اور اپنی عاقبت کی فکر کیجیے۔
خصوصاً اہلِ علم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ علم انسان کو فضیلت ضرور دیتا ہے، لیکن استقامت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ملتی ہے۔ اسی لیے بڑے بڑے اہلِ ایمان بھی اپنے دل کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے اور ہدایت و استقامت کی دعائیں مانگتے تھے۔
ایسے ماحول میں صرف اپنے علم، عقل، تجربے اور دینی ماحول پر بھروسا کافی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت، استقامت اور فتنوں سے حفاظت کی دعا کرتے رہنا انتہائی ضروری ہے۔
قرآن و سنت میں ایسی متعدد جامع دعائیں موجود ہیں جنہیں اہلِ علم بالخصوص اور عوام بالعموم اپنی روزمرہ دعاؤں اور اذکار کا حصہ بنائیں۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ(آل عمران: 8)
ترجمہ:اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرمانا، بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔
۲۔آنحضرت ﷺ جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ(سنن ابی داؤد، حدیث: 5094)
ترجمہ:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں، پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں، ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، جہالت کروں یا میرے ساتھ جہالت کی جائے۔
۳۔يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
ترجمہ:اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔
۴۔اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ
ترجمہ:اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔
یہ دعا حق کی معرفت، حق کی اتباع، باطل کی پہچان اور باطل سے اجتناب—چاروں بنیادی امور کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اس کاہرنماز کے بعدضرور اہتمام کریں۔
چند ماثور دعائیں:
مندرجہ ذیل دعاؤں کو روزانہ پڑھنے کا اہتمام کریں۔ ان شاء اللہ تمام گناہوں کی نفرت دل میں بیٹھ جائے گی اور دل اللہ کی محبت و معیت کی طرف مائل ہو جائے گا۔ کوشش کریں کہ صبح کے وقت پڑھا کریں:
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَىٰ دِينِكَ
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَىٰ طَاعَتِكَ
يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قَلْبِي إِلَىٰ طَاعَتِكَ
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ، وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ، وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ، وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ
اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ
اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا
اللَّهُمَّ اجْعَلْ قَلْبِي مُعَلَّقًا بِالآخِرَةِ، وَاجْعَلْ حُزْنِي فِيهَا، وَاشْتِغَالِي فِيهَا
اللَّهُمَّ اجْعَلْ قَلْبِي خَاشِعًا، وَرِزْقِي دَارًا، وَعِلْمِي نَافِعًا، وَعَمَلِي صَالِحًا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ هُدًى وَتُقًى وَعَفَافًا وَغِنًى
آئیے! ان دعاؤں کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کا مستقل معمول بنائیں۔
اے اللہ! ہمیں ہدایت عطا فرما، ہدایت پر ثابت قدم رکھ، ہمارے دلوں کو حق سے نہ پھیر، ہمیں ہر قسم کے فتنے، شبہے، گمراہی اور باطل سے محفوظ فرما، حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمارا خاتمہ ایمان و اسلام پر فرما۔ آمین!