وہ مسجدِ نبوی ﷺ میں صرف عمرہ کرنے آیا تھا… مگر اسے کیا خبر تھی کہ اللہ اسے ایسی خدمت کے لیے چُن چکا ہے جس کی آواز قیامت تک کروڑوں مسلمانوں کے کانوں تک پہنچتی رہے گی!1997ء میں ترکی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ صوتیات ساؤنڈ انجینئر *احمد تکین توپوزداغ* عمرے کی نیت سے مدینہ منورہ پہنچے۔دل میں صرف ایک خواہش تھی… روضۂ رسول ﷺ پر حاضری، مسجدِ نبوی ﷺ میں نماز، اور اللہ کے گھر میں عبادت۔
مگر اسے خبر نہیں تھی کہ یہ آقا کا بلاوا ہے اپنے غلام کےلئے جسے ایک سعادت سے نوازنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس سفر میں کچھ اور لکھ رکھا تھا۔نماز کے دوران انہوں نے ایک ایسی فنی مشکل محسوس کی جس پر شاید عام نمازی کی نظر نہ جاتی۔مسجدِ نبوی ﷺ کی وسعت اور تعمیر کے باعث آواز کے انعکاس اور باہمی اختلاط کی وجہ سے بعض مقامات پر امام اور مؤذن کی آواز مطلوبہ وضاحت کے ساتھ نہیں پہنچ رہی تھی۔
احمد تکین نے سوچا… "اگر اللہ نے مجھے یہ ہنر دیا ہے تو کیوں نہ اسے اللہ کے گھر کی خدمت میں استعمال کیا جائے؟"
وہ مسجدِ نبوی ﷺ کی انتظامیہ کے پاس گئے اور اپنی فنی مہارت کے ذریعے اس مسئلے کو بہتر کرنے کی پیشکش کی۔ابتدا میں انہیں ایک محدود حصے میں اپنے طریقۂ کار کو آزمانے کا موقع ملا۔اور پھر…
ایک چھوٹا سا تجربہ، ایک ایسی خدمت کا آغاز بن گیا جو تقریباً دس سال تک جاری رہی۔ احمد توپوزداغ نے مسجدِ نبوی ﷺ کے صوتی نظام پر انتہائی باریک بینی سے کام شروع کیا۔مائیکروفون، کیبلز، لاؤڈ اسپیکرز اور دوسرے آلات کی ترتیب بدلی گئی۔مسجد کے وسیع رقبے کو مختلف صوتی علاقوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ آواز ایک دوسرے میں مدغم ہونے کے بجائے زیادہ صاف، متوازن اور واضح انداز میں نمازیوں تک پہنچے۔
مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ آواز اونچی ہو…مقصد یہ تھا کہ آواز صاف ہو۔ امام کی تلاوت مسجد کے دور ترین حصے میں کھڑے نمازی تک بھی واضح پہنچے۔ مؤذن کی اذان مسجد کے گوشے گوشے میں یکساں سنائی دے۔ قرآن کی آیات جب زبانِ مبارک سے ادا ہوں تو ان کی آواز لاکھوں دلوں تک پوری وضاحت کے ساتھ پہنچے۔اور یہی وہ مقام تھا جہاں ایک انجینئر کی پیشہ ورانہ مہارت… عبادت جیسی خدمت میں تبدیل ہوگئی۔
اب جب تک حرمین شریفین میں یہ سسٹم کام کرتا رہے گا، اس کا ثواب انجینئر صاحب کو ملتا رہے گا۔ حرم میں اذان کی گونج، امام کی آواز اور قرآنِ کریم کی تلاوت لاکھوں دلوں تک پہنچتی ہے۔ جس کا معیار اتنا بلند اور زبردست ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں۔
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا نام شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں… مگر ان کا کام لاکھوں لوگ ہر روز محسوس کرتے ہیں۔ نام دنیا میں کتنا مشہور ہوا، یہ اہم نہیں…اصل سوال یہ ہے کہ ہماری صلاحیت اللہ کے ہاں کتنی مقبول ہوئی؟ اگر اللہ نے آپ کو بھی کوئی ہنر، علم یا صلاحیت عطا کی ہے تو آپ اسے اپنی ذات کے لیے استعمال کر رہے ہیں… یا اللہ کی مخلوق کے فائدے کے لیے؟ اور اگر آج اللہ آپ سے پوچھ لے کہ "میں نے تمہیں جو صلاحیت دی تھی، تم نے اسے کہاں استعمال کیا؟تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟ "یا اللہ! میری صلاحیت کو بھی اپنی رضا کا ذریعہ بنا دے۔ آمین!