بلندوبالا پہاڑوں پر حادثات کا ہونا ایک مستقل باب ہے ۔۔ لیکن اس سال چار مختلف چوٹیوں پر ہونیوالے واقعات میں ایک قدر مشترک رہی جس کا تذکرہ نہ کرنا سخت ناانصافی ہوگی ۔۔۔ سوات کالام کی بلند ترین چوٹی فلک سر پر سید علی میاں حادثہ کا شکار ہوئے ۔۔جان کی بازی ہار گئے ۔۔۔براڈ پیک پر ہونیوالے ایک بڑے سانحہ میں پاکستانی کوہ پیماء سہیل سخی جان کی بازی ہار گئے ۔۔۔سپانٹک گولڈن پیک بلتستان میں اسماء مشتاق حادثہ کا شکار ہوئیں جان کی بازی ہار گئیں ۔۔۔مانسہرہ موسی کا مصلہ چوٹی سے اترتے غیر ملکی سیاح الیگزینڈر حادثہ کا شکار ہوے جان کی بازی ہار گئے ۔۔۔ان چاروں واقعات میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے موت ۔۔۔پھر دوسری چیز ہے ڈیڈ باڈیز کا دیر سے ملنا اور تیسری چیز سب سے اہم ہے جس کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے ۔
فلک سر پر حادثہ کا شکار ہونیوالے سید علی میاں کی لاش فلک سر کے برف زاروں میں گم ہوگئ ۔ ۔سکردو سے کوہ پیماء آتے ہیں لیکن جس جگہ لاش کی موجودگی بتائ جارہی تھی وہاں لاش موجود نہیں تھی ۔۔مستقل طور پر لاپتہ قرار دے دیا گیا۔۔۔غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کردی گئ۔ ان کے اہل خانہ اور دیگر قرابت داروں کو قرار کیا آتا ان کی بے چینی دن بہ دن بڑھتی دیکھ کر مقامی نوجوانوں کا ایک گروہ رضا کارانہ طور پر آگے آیا اور پھر ایک خطرناک اور مشکل ترین تلاش مہم کے بعد فلک سر کی ڈھلوان پر موجود ایک گلیشیر پر میاں صاحب کا جسد خاکی تلاش کرلیا گیا ۔۔۔یہاں تک تمام کوشش اور مہم میں مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت شامل تھے ، بغیر کسی سرکاری امداد کے ،نامساعد حالات ،کوہ پیمائی کا نامکمل سامان اور دیگر تمام مشکلات کو پس پشت ڈال کر ان نوجوانوں نے دوستی ، انسانیت اور بھائ چارہ کی ایک مثال قائم کردی ۔۔لاش کے مقام کا تعین ہونے کے بعد حکومتی پیمانے پر لاش کو وہاں سے اٹھانے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے ۔۔لیکن اس واقعہ کا تمام تر کریڈٹ مالاکنڈ ڈویژن کے ان نوجوانوں کو جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کے ناطے اس لاش کو تلاش کرنے کی مشکل مہم کو کامیاب بنایا ۔
ایک اور واقعہ میں جہاں براڈ پیک پر ہونیوالے ایک بڑے حادثہ میں ہنزہ کے نوجوان سہیل سخی جان کی بازی ہار گئے تھے ۔۔نیپالی شرپاز اپنی لاشیں تلاش کرکے واپس جاچکے تھے ۔سہیل سخی کی لاش منوں برف کے نیچے کہیں دب چکی تھی۔تلاش مہم ختم کی جاچکی تھی ۔۔ایسے میں شگر کے نوجوانوں کا اپنی مدد آپ کے تحت سہیل سخی کا جسد خاکی تلاش کرنا ،اسے تین گھنٹے کھدائی کرکے نکالنا اور پھر نیچے بیس کیمپ تک پہنچانا بھی ایک کارنامہ ہی تھا ۔۔یہاں بھی حکومت اور ادارے ہاتھ کھڑے کر چکے تھے ۔۔مقامی نوجوانوں نے اپنے اس ہیرو کو تلاش کیا پھر انتظامیہ کے ہیلی حرکت میں آئے اور پھر سہیل سخی کے جسد خاکی کو پہلے سکردو اور بعد ازاں ہنزہ لیجایا گیا اور ان آخری رسومات ہنزہ میں ادا کی گئیں ۔۔۔سہیل سخی کی والدہ کے کلیجے کو ٹھنڈ پہنچانے والے شگر کے ان سپوتوں کو سلام ۔
سپانٹک گولڈن پیک کے 6400 میٹر پر خاتون کوہ پیماء ڈاکٹر اسماء مشتاق جان کی بازی ہار جاتی ہیں ۔۔۔لاش برف زار پر پڑی ہے ، لواحقین سکردو اور اپنے گھر میں پل پل جی رہے ہیں ۔۔پل پل مر رہے ہیں ۔۔۔موت کا یقین کرلیا لیکن اپنے ہاتھوں دفنانے کی خواہش ہے ۔۔۔روز ایک نئی بات سامنے آرہی ہے ۔۔ایک ٹیم جاتی ہے لاش نہیں ملتی ، پیسوں کا تقاضا، مختلف لوگ اعلان کررہے ہیں ۔۔کہ ہم جائیں گے اور لاش تلاش کر لائیں گے ۔۔۔لیکن کب ۔۔۔۔کچھ پتہ نہیں ۔۔۔بڑے بڑے نام بیس کیمپ پر بیٹھے بیان داغ رہے ہیں ، کچھ لوگ رضاکارانہ جانے کا اعلان کررہے ہیں ۔۔۔صرف فیس بک پر ۔۔۔موسم روز بروز خراب ہورہا ہے ۔۔۔اسماء مشتاق کے جسد خاکی کا ملنا ناممکن سا لگنے لگتا ہے ۔۔الزامات ،اعلانات اور بیانات کی بھرمار میں ارندو کے کچھ نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت خاموشی سے لاش تلاش کرنے کی مہم پر نکلتے ہیں ۔۔۔کامیابی کی امید ایک فیصد بھی نظر نہیں آتی ۔۔۔لیکن خالص نیت اور لگن رنگ لاتی ہے ۔۔۔ان نوجوانوں کا خالص جذبہ کام کرتا ہے ۔۔لاش کو نہ صرف تلاش کرلیتے ہیں بلکہ اسے بیس کیمپ تک پہنچاتے ہیں ۔۔۔یہاں تک نہ انہیں کسی ادارے کا تعاون ہے ،اور نہ ہی انہیں کوئ سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔۔۔اپنی مدد آپ اور انسانیت کے جذبے سے سرشار ارندو کے یہ نوجوان اپنے علاقے کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لاتے ہیں ۔۔۔لالچ ،ہوس اور طمع کے الزامات کو چیرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ یہ گلگت بلتستان کا اصل چہرہ ہیں ۔۔اب یہاں سے آگے انتظامیہ اسماء مشتاق کے جسد خاکی کو سکردو اور پھر لاہور کیسے پہنچاتی ہے یہ اس کی ذمہ داری ہے لیکن اصل کام اور ناممکن کو ممکن کر دکھانا ارندو کے ان جوانوں کا ہی کام تھا ۔
چوتھے واقع میں ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ کی چوٹی موسی کا مصلہ سے واپسی پر دو غیر ملکیوں میں سے ایک لاپتہ ہوجاتا ہے ۔۔۔تلاش شروع ہوجاتی ہے ۔۔انتظامیہ بھرپور طریقے سے حرکت میں آتی ہے ۔۔لیکن یہاں بھی مقامی افراد اپنی اقدار کی حفاظت کرتے ہوے سامنے آتے ہیں ، پورٹر ،گائیڈ ،چرواہے ،ٹریکر اور سب مل کر انتظامیہ کے ہمراہ گھنے اور وسیع جنگلات میں پھیل جاتے ہیں ۔۔سینکڑوں فٹ گہری کھائیاں جہاں آج تک کسی انسان تو کیا جانور کے پاؤں بھی نہ پہنچے ہونگے ۔۔۔وہاں بھی تلاش کیا جاتا ہے اور بالآخر چھ روز بعد مقامی نوجوان ، محمکہ جنگلات کے ایک اہلکار کے ہمراہ برطانوی شہری الیگزینڈر کی لاش ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔۔لاش کی تلاش کے بعد اسے نیچے ڈھور بیس کیمپ پہنچایا جاتا ہے اور پھر وہاں سے انتظامیہ مانسہرہ پہنچاتی ہے ۔۔اس واقعہ میں گوکہ انتظامیہ بھی فعال رہی اور مسلسل تلاش مہم جاری رکھی گئ ۔۔لیکن مقامی افراد کے تعاون اور ان کی راہنمائ کے بغیر یہاں انتظامیہ کی کامیابی کا کوئ امکان نہ تھا ۔۔۔مقامی افراد نے لاپتہ ہو جانے والے شخص کی لاش ملنے تک سکون کا سانس نہ لیا اور پھر آخر کار الیگزینڈر کی لاش ایک دو سو فٹ گہری کھائ سے تلاش کرلی گئ ۔
ہم مختلف صوبوں سے ،مختلف علاقوں سے ،مختلف زبانوں سے ،مختلف قوموں سے ہوسکتے ہیں ۔۔لیکن بحثیت پاکستانی ہم میں یہ قدر مشترک ہے کہ ہماری اکثریت آج بھی انسانیت کے آفاقی جذبہ سے سرشار ہے ۔۔اور یہ چار واقعات چار مختلف علاقوں میں ہونے کے باوجود ، ان چاروں میں مقامی افراد کا جذبہ ، ان کی انسانیت دوستی اس حد تک تھی کہ انہوں نے مردہ اجساد کو تلاش کرنے کے لیے اپنی جانوں کی پرواہ تک نہ کی اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر اپنے گمشدہ ، بھائیوں ،دوستوں اور مہمانوں کو تلاش کیا ۔۔یہ چھوٹی بات نہیں ہے ۔۔۔نہ کسی پیسے کا لالچ ، نہ عہدے کی طمع ، نہ انعام کی تمنا ، خواہش تھی تو صرف ایک کہ کسی طرح حادثہ کا شکار ہونیوالے اجساد کو تلاش کرکے ان کے لواحقین تک پہنچایا جائے تاکہ انہیں کچھ تو قرار مل سکتے ۔
صوبائ اور مرکزی حکومت کی جانب سے جو قومی اعزازات بے دریغ بانٹے جاتے ہیں ۔۔یہ لوگ ان اعزازت کے حقیقی مستحق ہیں ۔۔۔اج پوری پاکستانی قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے اور اپنی بے پایاں محبت کا تمغہ سے ان کو نوازتی ہے ۔
سوات ، بلتستان اور ہزارہ کے عظیم سپوتو تم پورے پاکستان کا فخر ہو ہمیں تم پر ناز ہے ۔۔۔تم ہو اصل پاکستان ، تم ہو پاکستان کا اصل چہرہ ۔۔۔!!