(+92) 319 4080233
کالم نگار

نعیمہ امین

نعیمہ امین

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
اسکول مالکان کی 10 مہنگی غلطیاں
بعض اوقات اسکول مالکان بہت محنت کرتے ہیں، لیکن چھوٹی چھوٹی انتظامی غلطیوں کی وجہ سے مالی نقصان، طلبہ کے عدم اطمینان اور اسٹاف کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔

1۔ دوسرے اسکولوں کو دیکھ کر فیس مقرر کرنا
صرف اس بنیاد پر فیس مقرر نہیں کرنی چاہیے کہ دوسرے اسکول کتنی فیس لے رہے ہیں۔ ہر اسکول کے اخراجات، اسٹاف، سہولیات اور تعلیمی معیار مختلف ہوتے ہیں۔

فیس مقرر کرتے وقت اپنے حقیقی اخراجات، تعلیمی معیار، اسٹاف کی ضروریات، انتظامی اخراجات اور ادارے کی پائیداری کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

2۔ کمزور کارکردگی والے اسٹاف کو بہت دیر تک برداشت کرنا
اگر کوئی استاد مسلسل دیر سے آتا ہے، تیاری نہیں کرتا، ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا یا اسکول کے طریقۂ کار پر عمل نہیں کرتا تو اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

واضح expectations، supervision، guidance اور بہتری کا موقع دینا ضروری ہے، لیکن مسلسل ناقص کارکردگی کو معمول بنا دینا پوری ٹیم کے کام اور رویے کو متاثر کر سکتا ہے۔

3۔ ہر والدین کی شکایت کو حملہ سمجھنا
ہر شکایت بے عزتی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات والدین کسی ایسے مسئلے کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں جس پر مینجمنٹ کی نظر نہیں پڑی۔

شکایت کو سنیں، صورتحال کی تحقیق کریں اور اگر واقعی بہتری کی ضرورت ہے تو اسے ضرور بہتر کریں۔

اچھی مینجمنٹ تنقید سے سیکھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

4۔ ہر پالیسی میں غیر ضروری رعایت دینا
اگر ہر والدین، استاد یا طالب علم اپنی سہولت کے مطابق اسکول کے قوانین تبدیل کروا سکے تو پھر پالیسی کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

قوانین واضح ہوں، سب کو پہلے سے معلوم ہوں اور ان کا مستقل اور منصفانہ اطلاق کیا جائے۔

جس رویے کو ہم بار بار برداشت کرتے ہیں، وہی آہستہ آہستہ اسکول کی ثقافت بن جاتا ہے۔

5۔ بجٹ کے بغیر اسکول کا پیسہ خرچ کرنا
اسکول کے مالی معاملات میں سب سے اہم چیز planning ہے۔

ہر ضرورت کو فوراً خرید لینا، بغیر بجٹ کے اخراجات کرنا اور ضروری ادائیگیوں کو نظر انداز کرنا مالی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

تنخواہیں، بجلی، پانی، تعلیمی مواد اور دیگر ضروری اخراجات پہلے سے budget میں شامل ہونے چاہئیں۔

اکاؤنٹ میں رقم موجود ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ساری رقم خرچ کرنے کے لیے دستیاب ہے۔

6۔ اسکول کو مکمل طور پر اپنی ذات پر منحصر بنا دینا
اگر ہر فیصلہ صرف اسکول مالک کرے، ہر مسئلہ اسی کے پاس آئے اور اس کی غیر موجودگی میں کام رک جائے تو یہ مضبوط نظام کی علامت نہیں۔

ذمہ داریاں تقسیم کریں، staff کو train کریں، processes کو document کریں اور reporting structures واضح کریں۔

ایک ایسا اسکول بنائیں جو آپ کی leadership میں مضبوطی سے چلے، نہ کہ آپ کی جسمانی موجودگی کے بغیر رک جائے۔

7۔ تعلیمی نتائج سے زیادہ ظاہری خوبصورتی پر سرمایہ لگانا
خوبصورت اسکول ماحول یقیناً اہم ہے، لیکن اسے تعلیم کے معیار سے زیادہ اہم نہیں ہونا چاہیے۔

اگر اسکول کی سجاوٹ پر بہت زیادہ خرچ ہو رہا ہو لیکن اساتذہ کو مناسب training، teaching resources اور academic support حاصل نہ ہو تو ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آخرکار والدین یہ جاننا چاہتے ہیں:
"میرا بچہ حقیقت میں کیا سیکھ رہا ہے؟"

8۔ جذبات کی بنیاد پر اہم فیصلے کرنا
ہمدردی ضروری ہے، لیکن professional standards بھی ضروری ہیں۔

کسی ملازم کو صرف ترس کی وجہ سے نہ رکھیں، غصے میں کسی کو فارغ نہ کریں، پسند کی بنیاد پر کسی کو promotion نہ دیں اور صرف اس وجہ سے غلط رویہ برداشت نہ کریں کہ کوئی شخص کئی سال سے ادارے کے ساتھ ہے۔

اہم فیصلے حقائق، ریکارڈ، کارکردگی، رویے اور ادارے کے مفاد کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

9۔ خراب رویے یا مسلسل کم کارکردگی والے اسٹاف کو صرف "اچھا بننے" کے لیے برداشت کرنا
یہ misplaced kindness کی ایک مہنگی مثال بن سکتی ہے۔

اگر کوئی ملازم مسلسل منفی رویہ رکھتا ہے، gossip کرتا ہے، authority کا احترام نہیں کرتا، بچوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتا ہے، اصلاح قبول نہیں کرتا یا مسلسل کمزور کارکردگی دکھاتا ہے تو اسے صرف اس لیے برداشت کرنا کہ "اس کا دل نہ ٹوٹے" پوری ٹیم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اچھے ملازمین بھی اس وقت مایوس ہوتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ناقص کارکردگی اور خراب رویے کے باوجود کسی شخص کے ساتھ کوئی accountability نہیں ہے۔

بہتری کا موقع ضرور دیں، لیکن ادارے کے ماحول اور culture کو خراب ہونے نہ دیں۔

10۔ چھوٹے چھوٹے operational leakages کو نظر انداز کرنا
بہت سے اسکول خاموشی سے انہی چھوٹے نقصانات کی وجہ سے پیسہ کھوتے ہیں۔

مثلاً:

- پانی کا نل لیک ہونا - غیر ضروری لائٹس اور AC چلتے رہنا

- Fans اور computers کا بلاوجہ چلتے رہنا

- stationery کا ضیاع

- textbooks کا گم ہونا

- اسکول کی property کا بے احتیاطی سے خراب ہونا

- چھوٹی خرابیوں کی بروقت مرمت نہ کرنا

- بجلی کے استعمال پر مناسب نگرانی نہ ہونا

ہر نقصان الگ سے معمولی لگ سکتا ہے، لیکن پورے term یا سال میں یہی چھوٹے نقصانات ایک بڑی رقم بن سکتے ہیں۔

اس لیے inventory maintain کریں، resources کے استعمال کی نگرانی کریں اور negligence یا wilful damage کی صورت میں accountability ضرور قائم کریں۔

ایک financially healthy school صرف زیادہ آمدنی سے نہیں بنتا، بلکہ غیر ضروری اخراجات اور مالی نقصانات کو روکنے سے بھی بنتا ہے۔

اسکول کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مالکان اور مینجمنٹ بڑے فیصلوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی نظر رکھیں۔

اچھا اسکول وہی ہے جہاں تعلیم کا معیار، مضبوط ٹیم، واضح پالیسیز، مالی نظم و ضبط اور accountability ایک ساتھ چلیں۔

کالم نگار : نعیمہ امین
| | |
29