(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
اپنی اصلاح سے معاشرے کی بہتری تک
کیا ہماری زندگی یوں ہی رائیگاں گزر جائے گی:
وہ تمام بھائی جو کسی ایسی عادت میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنے کی خواہش تو رکھتے ہیں ، مگر راستہ نظر نہیں آتا۔ کوئی فحش مواد دیکھنے کا عادی ہے، کوئی بے قابو جنسی رویّوں میں مبتلا ہے، کوئی سوشل میڈیا، ڈراموں اور وی لاگز میں اپنے دن اور رات ضائع کر رہا ہے اور کوئی کسی انسان کے ساتھ ایسی جذباتی وابستگی میں پھنس گیا ہے کہ اس کی اپنی زندگی رک گئی ہے۔ ایسی شدید اور غیر اختیاری وابستگی کو عموماً “لمرنس” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کے خیالات، جذبات اور توجہ کسی ایک شخص کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔

میں یہ باتیں کسی کو شرمندہ کرنے یا گناہ گار ثابت کرنے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ اکثر ایسی عادات کے پیچھے تنہائی، بے مقصدیت، ذہنی دباؤ، ناکامی کا خوف، خاندانی مسائل یا اپنے آپ سے ناراضی چھپی ہوتی ہے۔ انسان وقتی سکون کی تلاش میں کسی ایسی چیز کا سہارا لے لیتا ہے جو بعد میں اس کی کمزوری بن جاتی ہے۔

یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہر خواہش، خیال یا جنسی میلان کو “ایڈکشن” کہنا طبی طور پر درست نہیں۔ مسئلہ وہ رویہ بنتا ہے جس پر انسان بار بار کوشش کے باوجود قابو نہ پا سکے اور جس کی وجہ سے اس کی تعلیم، روزگار، عبادت، صحت یا تعلقات متاثر ہونے لگیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی بے قابو جنسی رویّے کی پہچان اسی وقت کرتا ہے جب انسان اپنے مسلسل رویّے پر قابو کھو بیٹھے اور اس کی عملی زندگی کو واضح نقصان پہنچنے لگے۔ صرف اخلاقی احساسِ جرم کسی بیماری کی تشخیص کے لیے کافی نہیں۔ ہمیں اپنے دینی اور اخلاقی اصولوں پر قائم ضرور رہنا چاہیے، لیکن کسی انسان کی تذلیل نہیں کرنی چاہیے۔ انسان سے نفرت نہیں، نقصان دہ رویّے کی اصلاح مقصود ہونی چاہیے۔

خالی زندگی کو غلط عادتیں بھر دیتی ہیں:
ان بری یا فضول عادات سے باہر نکلنے کا ایک بنیادی راستہ اپنی زندگی کو بامقصد بنانا ہے۔ مگر مقصد صرف ایک خوب صورت جملے کا نام نہیں۔ مقصد وہ چیز ہے جو آپ کے روزانہ کے شیڈول، ترجیحات اور فیصلوں میں نظر آئے۔ مثلاً اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنی زندگی بہتر بنانی ہے لیکن دن کے پانچ چھ گھنٹے موبائل پر گزرتے ہیں، تو ابھی آپ کے پاس خواہش ہے ، مقصد نہیں۔ مقصد تب بنتا ہے جب آپ طے کرتے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں کون سی مہارت سیکھنی ہے ، تعلیم میں کون سی کمی پوری کرنی ہے ، روزگار کیسے بہتر بنانا ہے اور اپنی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کے لیے روزانہ کیا کرنا ہے۔

صرف مصروف ہو جانا ہر مسئلے کا مکمل علاج نہیں، لیکن بامقصد مصروفیت انسان کو صحت مند متبادل ضرور دیتی ہے۔ خالی وقت، تنہائی، موبائل اور آسان رسائی جب ایک جگہ جمع ہو جائیں تو پرانی عادت دوبارہ طاقت پکڑ لیتی ہے۔ اس کے برعکس جب دن میں کام، ورزش، نماز، مطالعہ، گھر والوں کے ساتھ وقت اور کسی مفید خدمت کے لیے جگہ بنائی جائے تو غلط عادت کا دائرہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے۔

ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت ہی نہیں:
میرے ہم وطنو ! ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مسائل کی کوئی کمی نہیں۔ نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہیں، مہنگائی نے خاندانوں کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے، خواتین پر ظلم کے واقعات سامنے آتے ہیں اور بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات دل ہلا دیتے ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 7.1 فیصد تھی، جبکہ 15 سے 19 سال کی عمر میں یہ شرح 13.6 فیصد اور 20 سے 24 سال میں 12.3 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ یعنی نوجوانوں کے لیے روزگار کا مسئلہ مجموعی آبادی سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اسی طرح 2025 کے دوران ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے بچوں سے زیادتی اور استحصال کے 3,630 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ صرف رپورٹ ہونے والے واقعات ہیں؛ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایسے بہت سے واقعات بدنامی، خوف اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے سامنے نہیں آتے۔

میں یہ اعدادوشمار آپ کو مایوس کرنے کے لیے نہیں بتا رہا۔ میں صرف یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جس معاشرے میں اتنا کام کرنے کو باقی ہو، وہاں ایک صحت مند اور صلاحیت رکھنے والے انسان کا اپنا پورا دن بے مقصد مواد دیکھتے ہوئے گزار دینا بہت بڑا نقصان ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی زندگی سنوارنی ہے، پھر اپنے گھر والوں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہے اور اس کے بعد معاشرے کے کسی ایک مسئلے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص کوئی بڑی تحریک شروع کرے۔ آپ کسی ایک بچے کو پڑھا سکتے ہیں، کسی بے روزگار نوجوان کا سی وی بنا سکتے ہیں، کسی ضرورت مند خاندان کی خاموشی سے مدد کر سکتے ہیں یا اپنے محلے میں ہونے والے ظلم کے خلاف ذمہ داری کے ساتھ آواز اٹھا سکتے ہیں۔

اگر کسی بچے یا خاتون کے ساتھ ظلم ہو رہا ہو تو محض ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دینا خدمت نہیں۔ متاثرہ شخص کی شناخت چھپانا، اسے محفوظ جگہ تک پہنچانا اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا زیادہ اہم ہے۔ خطرناک ملزم کا اکیلے سامنا کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے پولیس اور متعلقہ حفاظتی اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کی وزارتِ انسانی حقوق کی ٹول فری ہیلپ لائن 1099 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مفت قانونی مشورہ، رہنمائی اور متعلقہ اداروں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

آپ کی توجہ (فوکس) ایک قیمتی سرمایہ ہے:
آج بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہماری توجہ کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ جو ایپ ہمیں مفت دکھائی دیتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں مفت ہو۔ کئی مرتبہ ہم اس کی قیمت اپنے وقت، توجہ، نیند اور ذہنی سکون سے ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ امریکی سرجن جنرل کی سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق ایڈوائزری کے مطابق روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل کی علامات کا خطرہ تقریباً دو گنا پایا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سوشل میڈیا ہر انسان کو لازماً بیمار کر دیتا ہے، لیکن یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ استعمال کی مقدار، دیکھے جانے والے مواد اور استعمال کے انداز کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

26 اگست 2026 کو میٹا نے امریکی ریاستوں کے ساتھ 17 ارب ڈالر تک کے ایک مجوزہ تصفیے پر اتفاق کیا۔ یہ عدالتی جرمانہ نہیں، بلکہ عدالت کی منظوری سے مشروط تصفیہ ہے۔ مقدمے میں الزام تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام کے بعض فیچرز بچوں اور نوجوانوں کو مسلسل استعمال کی طرف دھکیلتے ہیں۔ مجوزہ شرائط میں کم عمر صارفین کے لیے روزانہ وقت کی حد، رات کے اوقات میں پابندی، اسکول کے دوران نوٹیفکیشن بند کرنا اور والدین کے لیے بہتر نگرانی کے ذرائع شامل ہیں۔ یہ واقعہ ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ہماری توجہ معمولی چیز نہیں۔ اگر ہم اس کی حفاظت خود نہیں کریں گے تو کوئی نہ کوئی اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا رہے گا۔

اپنی زندگی پر “ویلیو فلٹر” لگائیں:
میں نوجوانوں سے ہمیشہ کہتا ہوں کہ اپنے دوستوں اور روزانہ دیکھے جانے والے مواد پر ایک “ویلیو فلٹر” ضرور لگائیں۔ گھر والے اور خونی رشتے اپنی جگہ ، لیکن اپنے دوستوں، جاننے والوں، یوٹیوب چینلز، پیجز اور وی لاگرز کے بارے میں تین سوال ضرور پوچھیں:

* کیا یہ شخص یا مواد میرے علم، کردار یا ہنر میں اضافہ کر رہا ہے؟

* کیا اسے دیکھنے یا اس کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد میں بہتر کام کرتا ہوں یا مزید سست ہو جاتا ہوں؟

* کیا یہ مجھے سکون، امید اور ذمہ داری کی طرف لے جا رہا ہے یا حسد، بے چینی، شہوت اور وقت کے ضیاع کی طرف؟

جو دوست مسلسل آپ کو نیچے کھینچتے ہیں یا آپ کا وقت برباد کرتے ہیں ، ان سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ جو مواد آپ کو کمزور کرتا ہے، اسے اَن فالو اور بلاک کریں۔ ہر چیز صرف اس لیے دیکھنا ضروری نہیں کہ وہ مشہور ہے یا سب لوگ اس پر بات کر رہے ہیں۔

تبدیلی آج سے کیسے شروع ہو؟:
آج کوئی بہت بڑا وعدہ کرنے کے بجائے چند چھوٹے فیصلے کریں۔

اپنا ایک بنیادی ہدف لکھیں۔ اگر طالب علم ہیں تو اگلے چھ ماہ کی تعلیمی منزل طے کریں۔ اگر روزگار بہتر کرنا ہے تو مطلوبہ مہارت، کورس اور روزانہ سیکھنے کا وقت مقرر کریں۔ اگر بیرونِ ملک جا کر حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں تو صرف وہاں کی ویڈیوز دیکھنے کے بجائے زبان، سرٹیفکیشن، دستاویزات، بجٹ اور قانونی راستوں پر عملی کام شروع کریں۔

موبائل کو اپنے ارادے سے زیادہ طاقتور نہ بننے دیں۔ غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کریں، فحش اور اشتعال انگیز مواد کے ذرائع بلاک کریں، رات کو فون بستر سے دور رکھیں اور صبح اٹھتے ہی سوشل میڈیا کھولنے کی عادت ختم کریں۔ روزانہ کم از کم ایک ایسا وقت مقرر کریں جس میں فون دوسرے کمرے میں ہو اور آپ صرف اپنے اہم کام پر توجہ دیں۔

اگر کسی شخص کے ساتھ لمرنس یا غیر صحت مند جذباتی وابستگی ہے تو بار بار اس کی پروفائل دیکھنا، پرانی گفتگو پڑھنا اور خیالی مکالمے بنانا کم کریں۔ حقیقت اور اپنی بنائی ہوئی کہانی میں فرق لکھیں۔ غیر ضروری رابطہ محدود کریں، اپنے سماجی تعلقات وسیع کریں اور اپنی زندگی کے دوسرے حصوں کو دوبارہ توجہ دیں۔

اگر کوئی عادت بار بار لوٹ آتی ہے تو ہر لغزش کے بعد خود کو گندا، ناکام یا ناقابلِ اصلاح قرار نہ دیں۔ یہ دیکھیں کہ اس سے پہلے کیا ہوا تھا: کیا آپ تنہا تھے، پریشان تھے، رات دیر تک جاگ رہے تھے یا کسی خاص مواد نے آپ کو متحرک کیا؟ محرک کو پہچانیں، ماحول بدلیں اور اسی دن دوبارہ معمول کی طرف لوٹ آئیں۔ توبہ کا دروازہ بھی کھلا ہے اور اصلاح کا راستہ بھی۔

اور اگر کوئی رویہ آپ کے قابو سے باہر ہو رہا ہے، تعلیم، ملازمت، شادی، نیند یا ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے تو کسی مستند کلینیکل سائیکالوجسٹ یا سائیکاٹرسٹ سے مدد لینے میں شرم محسوس نہ کریں۔ بامقصد زندگی صحت یابی کی مضبوط بنیاد ہے، لیکن بعض مسائل میں پیشہ ورانہ علاج بھی ضروری ہوتا ہے۔

ایک زندگی، ایک موقع:
اللہ رب العزت نے ہمیں ایک ہی زندگی دی ہے۔ آرام کرنا، کھیلنا اور اچھی تفریح کرنا غلط نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تفریح ہماری پوری زندگی بن جائے اور ذمہ داری کے لیے وقت باقی نہ رہے۔

ذرا اپنے آپ سے پوچھیے: اگر میں اسی طرح چلتا رہا تو پانچ سال بعد کہاں ہوں گا؟ میرے والدین مجھ سے کیا امید رکھتے ہیں؟ میرے اندر جو صلاحیت رکھی گئی ہے، کیا میں اس کا حق ادا کر رہا ہوں؟ میرے محلے، خاندان اور معاشرے کو مجھ سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟

میں ہاتھ جوڑ کر اپنے تمام بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں: اپنا وقت ضائع مت کریں۔ آپ برے انسان نہیں ہیں، ہو سکتا ہے آپ صرف بکھر گئے ہوں۔ اور جو انسان بکھر سکتا ہے، وہ محبت، محنت، دعا اور درست مدد کے ساتھ دوبارہ سنبھل بھی سکتا ہے۔

آج سے اپنا بہتر ورژن بننے کا سفر شروع کریں۔ پہلے اپنی شخصیت، ایمان، صحت، تعلیم اور روزگار پر کام کریں۔ پھر اپنے گھر والوں کے لیے سہارا بنیں، اور اس کے بعد معاشرے کے کسی ایک زخم پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں۔

زندگی مختصر ہے۔ اسے فضول عادتوں، بے مقصد تعلقات اور نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ میں ضائع مت کیجیے۔ اپنے وجود کو کسی اچھے مقصد کے ساتھ جوڑیے۔ ممکن ہے آپ کی سنبھلی ہوئی زندگی صرف آپ کو ہی نہ بچائے، بلکہ کسی دوسرے انسان کے لیے بھی امید اور حفاظت کا سبب بن جائے۔

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
32