(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناڈاکٹرعبدالخالق ہمدرد

مولاناڈاکٹرعبدالخالق ہمدرد

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
شہرِ کتاب بند ہو گیا
سنہ 2000ء میں جب میں کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو عربی اخبارات اور رسائل کی تلاش میں نکلا۔ اس تلاش میں سپر مارکیٹ میں ’’مسٹر بکس‘‘ اور ’’وینگارڈ‘‘، جناح سپر میں پرانی کتابوں کی ایک دکان اور ’’سعید بک بینک‘‘، جبکہ کوہسار مارکیٹ میں ’’لندن بکس‘‘ نامی کتابوں اور قلم قرطاس کی دکانیں ملیں۔ یہاں سے میں عربی رسائل اور کبھی کبھی عربی اخبار خریدا کرتا تھا۔ چونکہ ان سے مطلوبہ زبان سیکھنا ہوتی تھی، اس لیے اخبار اور رسالے کے پرانے ہو جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

اس زمانے میں انٹرنیٹ کا زور نہیں تھا، اس لیے کاغذی اخبار، کتاب اور رسالے زندگی کا حصہ ہوتے تھے۔

اس کے بعد اسکرین کا انقلاب آیا۔ پھر موبائل فون کا طوفان آیا اور اس نے ایک ایک کرکے کاغذی چیزوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ یوں اسلام آباد کی مشہور دکانوں سے عربی اخبارات اور رسائل ایک ایک کرکے غائب ہو گئے۔ اس کے بعد سفارت خانوں میں آنے والے اخبارات بھی بند ہو گئے، کیونکہ اب ایک دن کے انتظار کے بجائے آپ لمحہ بہ لمحہ کی خبر اسکرین پر دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔

اس انقلاب کے اگلے مرحلے میں قلم قرطاس کی دکانیں سکڑنا شروع ہو گئیں۔ ایک دن میں کوہسار مارکیٹ گیا تو ’’لندن بکس‘‘ کی کتابیں باہر پھٹوں پر کم قیمت میں لگی ہوئی تھیں اور اندر دکان میں کوئی کھانے پینے کی دکان کھولنے کی تیاری ہو رہی تھی۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ اب لوگوں کو کتاب سے رغبت نہیں رہی۔

مجھے اس پر دکھ ہوا۔ رفتہ رفتہ لندن بکس کی کتابیں اونے پونے فروخت ہو گئیں اور وہاں ایک جدید ریستوران قائم ہو گیا۔ اس لیے اب بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کسی زمانے میں کوہسار مارکیٹ میں ’’لندن بکس‘‘ کے نام سے کتابوں کی کوئی دکان بھی ہوا کرتی تھی۔

یہ کہانی اس لیے یاد آئی کہ چند روز قبل میں ٹکٹوں کی ایک البم کی تلاش میں نکلا۔ میلوڈی سے نہ مل سکی تو جناح سپر چلا گیا۔ وہاں جو تین دکانیں کتابوں کی تھیں، ان سے بھی مراد حاصل نہ ہو سکی تو ’’شہرِ کتاب‘‘ کا رخ کیا۔

یہ جناح سپر میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے تعاون سے کتابوں کی پندرہ، بیس دکانوں پر مشتمل ایک بازار تھا، لیکن افسوس کہ اب وہاں اگی ہوئی جھاڑیاں منہ چڑا رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ ’’شہرِ کتاب‘‘ بھی بند ہو گیا ہے۔

مجھے اس پر بھی بڑا دکھ ہوا اور یوں لگا کہ اب ہم دماغ سے نہیں بلکہ پیٹ سے سوچنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس لیے کھابوں کی دکانیں تو دھڑا دھڑ کھل رہی ہیں، لیکن دماغ کی خوراک ناپید ہو رہی ہے۔

اس وقت یورپ کے بہت سے ممالک کتاب کی طرف واپسی کا سفر شروع کر چکے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں ایک تو پہلے ہی کتاب معاشرے میں، بقولِ سعدی، ’’یتیم بر خوانِ لئیم‘‘ تھی، اور ابھی ہمارا کتاب سے دوری کا سفر جاری ہے۔

صاحبو! دماغ ایک درخت کی مانند ہے، جسے آب، ہوا اور خوراک تینوں کی ضرورت ہے۔ اگر مناسب انداز سے اس کی پرورش نہیں کی جائے گی تو پہلے مرحلے میں درخت کی طرح اس کے پھول پھل کم ہو جائیں گے، پھر پتے مرجھانا اور سوکھنا شروع ہو جائیں گے، اور آخر میں جڑوں سے روح نکل جائے گی اور درخت زمین پر آ رہے گا۔

اسی طرح ہمارا دماغ بھی مناسب آبیاری نہ ہونے کی وجہ سے سوکھتا چلا جائے گا اور آخرکار کوڑھ مغزوں کا ایک ہجوم وجود میں آ جائے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ کتابوں کے منظرنامے سے ہٹنے کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پھر ہم دماغ سے نہیں، بڑی بڑی توندوں سے سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے؛ کیونکہ پیٹ پوجا کی دکانوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دماغ کو قوت پہنچانے والی دکانیں مسلسل بند ہو رہی ہیں۔

کالم نگار : مولاناڈاکٹرعبدالخالق ہمدرد
| | |
36