بارہ ربیع الاول گزر چکا، اظہارِ محبت کرنے والوں نے اپنے اپنے انداز میں اظہارِ محبت کر دیا۔ جلوس نکالے گئے۔ شرکائے جلوس نے جوشیلے نعرے لگا کر در و دیوار ہلا دیے۔ سرکاری اور نجی دفاتر پر چراغاں کیا گیا۔ پورے پورے شہر کو جھنڈوں اور جھنڈیوں سے سجا دیا گیا۔ محافلِ نعت کا انعقاد ہوا۔ مشہور نعت خوانوں نے اپنے سوز اور ساز سے سماں باندھ دیا۔ سننے والے جھوم اٹھے اور تا سحر جھومتے رہے۔ مقررین اور واعظین کی شیریں بیانی اور شعلہ نوائی نے سامعین کو تڑپا کر رکھ دیا۔
ابھی یہ سلسلہ بہت دن، بلکہ کئی ہفتے جاری رہے گا۔ کیونکہ اکثر ادارے اور جماعتیں کسی نہ کسی عنوان سے اس تاریخی مہینے میں سرورِ دو عالم ﷺ کی یاد میں تقریب کا انعقاد ضروری سمجھتے ہیں۔ مگر صاحبِ نظر دوستو! انصاف کی بات کیجیے گا کیا صرف جلسے اور جلوس، چراغاں اور شیرینی، نعتوں اور تقریروں، جھنڈوں اور بینروں، اونچے بولوں اور نعروں سے تاریخ انسانی کے اس عظیم ترین انسان کی یاد کا حق ادا ہو گیا جس کی زندگی کا ہر پہلو بےمثال تھا؟ بچپن اور جوانی، تجارت اور سیاست، حاکمیت اور محکومیت، خطابت اور تعلیم و تربیت، سیرت اور صورت، غرضیکہ ہر پہلو ہی بےنظیر تھا۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے والا انسان فیصلہ نہیں کر پاتا کہ آپ کو کون سے پہلو کے اعتبار سے بےمثال کہوں؟
معصوم بچپن، بے داغ جوانی، خوش مزاج شوہر، دیانت دار تاجر، سادگی پسند فرمانروا، جرات مند سپہ سالار، رحم دل فاتح، انسانی نفسیات پر نظر رکھنے والا خطیب، دردمند مصلح، شب بیدار عابد و زاہد، دونوں ہاتھوں سے دوست پر لٹانے والا غنی، بیواوں کا غمخوار، یتیموں کا نگہبان، کمزوروں کا ساتھی اور مظلوموں کا سرپرست....یہ سارے عنوان آپ کی سیرت کے مختلف پہلو ہیں۔ آپ کے اصحاب نے یہ سارے پہلو تمام تر جزئیات کے ساتھ آنے والوں کے لیے اس طرح محفوظ رکھے ہیں کہ ان کے حافظے پر بھی رشک آتا ہے، اور ان کے بےپناہ عشق و محبت پر بھی۔
عاشق وہ بھی تھے، عاشق ہم بھی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ان کا عشق ان کے عمل سے ظاہر ہوتا تھا۔ ہمارا عشق باتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہیں بتانا نہیں پڑتا تھا وہ عاشق ہیں۔ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ ایں جناب بھی عاشقِ رسول ہیں۔ بتائے بنا کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم بھی اپنے نہاں خانہ قلب میں یہ مقدس چنگاری رکھتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا اہتمامِ عبادت، معاملات کی درستی، مساجد کی ظاہری اور باطنی تعمیر سے دلچسپی، جذبہِ جہاد، باہمی محبت، شوقِ شہادت، حسنِ معاشرت، گناہوں سے اجتناب، اکلِ حرام سے پرہیز اور ہر ہر شعبے میں اتباعِ سنت، ان کے عشق کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی تھی۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”پانچ باتیں سارے صحابہ اور تابعین میں مشترکہ طور پر پائی جاتی تھیں۔ جماعت کا التزام، سنت کی اتباع، مساجد کی تعمیر، قرآن کی تلاوت اور جہاد فی سبیل اللہ۔“
جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت کا یہ عالم تھا مرد تو مرد، عورتیں بھی کسی سے پیچھے نہ رہتی تھیں۔ ایک موقع پر حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم ﷺ سے یہ کہہ کر جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی کہ میں مریضوں کی تیمارداری کروں گی۔ شاید مجھے درجہ شہادت حاصل ہو جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر ہی میں رہو، اللہ تمہیں وہیں شہادت دے گا۔“ یہ معجزانہ پیش گوئی کیونکر غلط ہو سکتی تھی؟ چنانچہ ان کے اپنے ہی غلام اور لونڈی نے بے وفائی کرتے ہوئے انہیں شہید کر دیا۔
میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ یوں تو سارے غزوات میں شریک رہے،۔مگر ان کی زندگی کا یادگار سفر وہ تھا جب انہوں نے اسّی سال کی عمر میں قسطنطنیہ کے جہاد میں حصہ لیا۔ تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ بیمار ہو گئے۔ امیرِ لشکر جب عیادت کے لیے حاضر ہوئے تو پوچھا کوئی ضرورت ہو تو فرما دیجیے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مسلمانوں کو میری طرف سے سلام کہو اور ان سے کہو ابوایوب تم کو وصیت کرتے ہیں کہ تم دشمن کے آخری حد تک چلے جاؤ اور مجھے بھی ساتھ لے چلو اور قسطنطنیہ کے فصیل کے پاس مجھے دفن کر دو۔“ یہ وصیت کرنے کے بعد آپ مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ مسلمانوں نے ان کی نعش وصیت کے مطابق فصیلِ شہر کے پاس دفن کر دی۔
ایک قسم کے عاشق وہ تھے جن کا بڑھاپا بھی وقفِ جہاد تھا۔ ایک قسم کے عاشق ہم ہیں جن کی جوانیاں راگ رنگ اور کوڑا کرکٹ میں گزر جاتی ہیں۔ ایک وہ تھے جن کے لاشے بھی دشمن کی طرف بڑھتے چلے جاتے تھے۔ ایک ہم ہیں جن کا وجود زمین پر چلتے پھرتے لاشوں کی مانند ہے۔ دشمن ہماری بیٹیاں اچک لے جاتے ہیں، مگر ہمیں دم مارنے کی جرات نہیں ہوتی۔ ہمارے بیٹوں کو ہماری ہی زمین پر دن دیہاڑے بےدردی سے قتل کر دیا جاتا ہے، مگر ہم قصاص تک کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
ایک وہ تھے جن کی محبت اور نفرت کا معیار اللہ کی رضا اور ناراضی تھا۔ایک ہم ہیں جن کی محبت کا معیار دھن دولت، عہدہ، منصب، فرقہ، قبیلہ، رنگ اور زبان ہے۔ ایک وہ تھے جن کے گھروں سے شب کے سناٹے میں گریہ و بکا اور ذکر و عبادت کی آواز آتی تھی۔ ایک ہم ہیں جن کے گھر رات گئے تک موسیقی کی منحوس آوازوں سے گونجتے رہتے ہیں۔ ایک وہ تھے جو بہن اور بیٹی کی ناموس کی حفاظت کی خاطر جان تک قربان کر دیتے تھے۔ ایک ہم ہیں جو بہنوں اور بیٹیوں کی ردائے عصمت تار تار کرنے کے لیے خود بےتاب رہتے ہیں۔ ایک وہ تھے جن کے پیٹ میں غلطی سے چند مشتبہ لقمے چلے جاتے تو قے کیے بغیر انہیں سکون نہ آتا تھا۔ ایک ہم ہیں جن کا لباس، جن کی غذا، جن کی گاڑی، جن کا بنگلہ، کروفر، سیر سپاٹے اور شان و شوکت....سب رزقِ حرام کے کرشمے ہیں۔
ایک وہ تھے جو اتباع سنت کے ذریعے ہر دن اور ہر رات ”جشنِ میلاد“ مناتے ہیں۔ ایک ہم ہیں جو سال بھر میں ایک بار چند ظاہری رسمیں ادا کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ایک وہ تھے جن کے دل عشقِ رسالتِ مآبﷺ سے چمکتے اور مہکتے تھے۔ ایک ہم ہیں جن کی کوٹھیاں اور دفاتر قمقموں سے روشن ہوتے ہیں، مگر دلوں میں ایسی ظلمت کا راج ہوتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دیتا۔ ایک وہ تھے جو آپس میں مہربان اور دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار تھے۔ ایک ہم ہیں جو باہم دست و گریباں اور دشمن کے لیے ریشہِ خطمی ہیں۔
نہیں دوستو نہیں! کسی کے عشق و محبت کا انکار مقصود نہیں۔ یقیناً عاشق ہم بھی ہیں، وہ بھی تھے مگر بہت فرق ہے۔ بہت فاصلہ ہے۔ بہت بُعد ہے۔ شاید اتنا جتنا مشرق و مغرب میں ہے۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔ اپنے عشق کو معتبر بنانے کے لیے ہمیں عشقِ صحابہ کو معیار تسلیم کرنا ہو گا۔ یہی معیار سچا بھی ہے اور کامل بھی۔ باقی سب باتیں ہیں۔ ڈائیلاگ ہیں۔ لفاظی ہے۔ نعرے ہیں۔ دعوے ہیں۔ کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر!