(+92) 319 4080233
کالم نگار

تاثرات : از ( مولانا ) محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند

تاثرات : از ( مولانا ) محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
حضرت خواجہ باقی باللہؒ اور مرزا مظہر جان جانان ؒ کے روضے پر حاضری
آج بتاریخ ۲۸ اگست ۲۰۲۸ء بعد نماز مغرب حضرت خواجہ باقی باللہ رحمہ اللہ علیہ کے روضۂ اقدس پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر ہمراہ مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی، ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند (نارتھ انڈیا)، مولانا عظیم اللہ صدیقی، ناظم نشر و اشاعت جمعیۃ علماء ہند، مولانا قاری احمد عبداللہ رسول پوری، سکریٹری جمعیۃ یوتھ کلب، اور مولانا ضیاء اللہ قاسمی، منیجر الجمعیۃ بک ڈپو، تھے۔ وہاں روضۂ اقدس پر مولانا عبدالسبحان قاسمی، ناظم جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، جناب معظم علی لڈو، نائب صدر جمعیۃ علماء چاندنی چوک، جمعیۃ علماء نبی کریم حلقہ کے صدر حاجی نعمت و دیگر احباب بھی موجود تھے۔

کچھ دنوں سے حضرت خواجہ باقی باللہؒ کے روضہ پر حاضری کا ارادہ ہو رہا تھا۔ ان کی شخصیت، علمی و روحانی خدمات اور ہندوستان میں سلسلۂ نقشبندیہ کے فروغ میں ان کے کردار کے بارے میں جوں جوں پڑھ رہا تھا، دل کی تشنگی اور زیارت کی خواہش بڑھتی گئی۔ بالآخر آج ارادہ کیا اور حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔

حضرت خواجہ باقی باللہؒ (پیدائش: 14 جولائی 1564ء– وفات: 29 نومبر 1603ء)برصغیر میں سلسلۂ نقشبندیہ کے اولین اور مؤثر بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ کابل سے ہندوستان تشریف لائے اور دہلی کو اپنی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ آپ ہی کے ذریعے سلسلۂ نقشبندیہ کو ہندوستان میں ایک مضبوط بنیاد حاصل ہوئی، اور آپ کے فیض سے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ جیسی عظیم شخصیت نے روحانی فیض پایا۔ آپ کی زندگی مختصر مگر اثرات کے اعتبار سے نہایت گہری تھی۔ دہلی میں آپ کا آستانہ آج بھی اس عظیم روحانی روایت کی یاد دلاتا ہے۔

روضہ پر پہنچ کر دل کو بہت سکون اور راحت محسوس ہوئی۔ محسوس ہوا کہ صدیوں کا ایک روحانی سفر آج بھی اس مقام پر اپنی تاثیر کے ساتھ موجود ہے۔ انسان جب ان بزرگوں کی زندگیوں، ان کی محنت، عبادت، علم اور اصلاحِ امت کے جذبے کا مطالعہ کرتا ہے تو دل میں اپنے لیے بھی احتساب اور عمل کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

حاضری کے دوران معلوم ہوا کہ حضرت ملا جیون امیٹھویؒ ) پیدائش 1633، وفات 717)کا مزار بھی اسی آستانے کے قرب و جوار میں ہے۔ یہ میرے لیے ایک خوش گوار حیرت تھی۔ حضرت ملا جیونؒ برصغیر کے ممتاز حنفی علماء، مفسرین اور فقہاء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اصل نام شیخ احمد بن ابی سعید تھا۔ قرآن کریم، تفسیر، حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ میں انہیں غیر معمولی مقام حاصل تھا۔ ان کی معروف تصنیف التفسیرات الأحمدیہ اور اصولِ فقہ کی مشہور کتاب نور الأنوار شرح المنار علمی حلقوں میں آج بھی معروف و مقبول ہیں۔حضرت خواجہ باقی باللہؒ کی شخصیت کے بارے میں پڑھتے ہوئے ایک واقعہ بار بار نگاہ کے سامنے آتا ہے، جو ان کی روحانی تاثیر اور اپنے خدام و متعلقین کے ساتھ شفقت کا ایک دل نشیں پہلو بیان کرتا ہے۔تذکروں میں آتا ہے کہ حضرت کی خانقاہ میں ایک نان بائی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ حضرت کے مہمانوں کی خاطر مدارات کا خاص اہتمام کرتا اور جب کبھی بے وقت مہمان آجاتے تو اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لیے کھانے کا انتظام کرکے حاضر ہوجاتا۔ ایک مرتبہ کچھ مہمان غیر معمولی وقت پر آئے۔ نان بائی نے کھانا تیار کرکے حضرت خواجہ باقی باللہؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت اس خدمت سے بہت خوش ہوئے اور شفقت سے فرمایا: "مانگ، کیا مانگتا ہے؟"

اس نے عرض کیا: "حضرت! مجھے اپنے جیسا بنا دیجیے۔"حضرت نے فرمایا کہ کچھ اور مانگ لو، مگر وہ اپنے اسی مطالبے پر مصر رہا۔ روایت کے مطابق حضرت خواجہؒ اسے اپنے حجرے میں لے گئے اور کچھ دیر بعد باہر تشریف لائے تو نان بائی کی صورت حضرت سے اس قدر مشابہ ہوگئی کہ دیکھنے والے دونوں میں امتیاز نہ کرسکتے تھے۔ نان بائی پر ایک خاص کیفیت طاری تھی اور صرف تین دنوں بعد اس کا انتقال ہوگیا۔ ملا جیونؒ کا تعلق امیٹھی سے تھا اور دہلی میں بھی ایک طویل عرصہ علمی تدریس و اشاعتِ علم میں گزرا۔ وہ مغلیہ دور کے ممتاز علماء میں تھے اور بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ سے ان کے علمی تعلق کا ذکر متعدد تاریخی و علمی مصادر میں ملتا ہے۔ 83 برس کی عمر میں بمقام دہلی انتقال ہوا۔وقت وفات حسب معمول طلبہ کے درس و تدریس سے فارغ ہوئے نماز مغرب مع اوابین و اوراد و ظائف ادا کی۔ رات کا کھانا تناول فرمایا۔ عشاء پڑھی اور سنن و نوافل ادا کیے نصف شب گذری تو سینہ میں کچھ سوزش محسوس کی جو بڑھتے بڑھتے پہلو میں بھی ہونے لگی۔ شام کے وقت جامع مسجد دہلی کے جنوبی دالان کی طرف ایک کوٹھڑی میں جا کے لیٹ گئے۔ کلمہ طیبہ ورد زبان تھا کہ روح اطہر جسد عنصری کو چھوڑ کر راہی جنت ہوئی اور پھر بر صغیر کے نامور بزرگ خواجہ باقی باللہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ایک ہی مقام پر سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم روحانی بزرگ حضرت خواجہ باقی باللہؒ اور برصغیر کے ممتاز عالم و مفسر ملا جیونؒ کی یادگار موجود ہونا دہلی کی علمی و روحانی تاریخ کی ایک خوب صورت جھلک ہے۔

اسی موقع پر دل میں خیال آیا کہ جب آج دہلی کے ان تاریخی اور روحانی مقامات کی زیارت کا موقع ملا ہے تو حضرت ابو الخیر میرزا مظہر جانِ جاناں شہیدؒ کے مزار پر بھی حاضری ہونی چاہیے۔ چنانچہ ترکمان گیٹ دہلی کا رخ کیا اور حضرت میرزا مظہر جانِ جاناںؒ کے روضے پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔

حضرت میرزا مظہر جانِ جاناںؒ (پیدائش: 13 مارچ 1699ء— وفات: 6 جنوری 1781ء)اٹھارہویں صدی کے دہلی کے ممتاز صوفی، عالم، عارف اور فارسی و اردو کے بلند پایہ شاعر تھے۔ آپ سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے جلیل القدر بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصر تھے۔ علمی، روحانی اور ادبی دنیا میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔ آپ نے فارسی و اردو میں شاعری کے علاوہ متعدد علمی و صوفیانہ خطوط اور تحریریں بھی یادگار چھوڑی ہیں۔ آپ کا دیوانِ مظہر اور مکتوبات آج بھی اہلِ علم و ادب کے لیے اہم سرمایہ ہیں۔

حضرت میرزا مظہر جانِ جاناںؒ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو شریعت و سنت سے گہری وابستگی اور اصلاحِ باطن کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ تھا۔ ان کی شخصیت میں علم، تصوف، ادب اور سنت کی پاس داری کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی کے آخری ایام بھی بڑی آزمائش میں گزرے اور 1781ء میں دہلی ہی میں ان کی وفات ہوئی۔

آج کی یہ حاضریاں محض تاریخی مقامات کی زیارت نہیں تھیں؛ بلکہ ایسا محسوس ہوا جیسے دہلی کی گلیوں میں چلتے ہوئے ہندوستان کی صدیوں پر پھیلی ہوئی علمی و روحانی تاریخ کے چند روشن ابواب سے ملاقات ہو رہی ہو۔ ایک طرف خواجہ باقی باللہؒ کی خانقاہی و روحانی روایت، دوسری طرف ملا جیونؒ کا علمی و فقہی مقام، اور پھر میرزا مظہر جانِ جاناںؒ کی علمی، روحانی اور ادبی شخصیت—یہ سب اس سرزمین کی اس عظیم علمی میراث کی یاد دلاتے ہیں جس نے نسلوں کی فکری و روحانی تربیت کی۔

اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی قبروں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے علوم و فیوض سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے اور ہمیں علم، اخلاص، تقویٰ، سنت کی پیروی اور خدمتِ خلق کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : تاثرات : از ( مولانا ) محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند
| | |
48