(+92) 319 4080233
کالم نگار

قاری حنیف ڈار

قاری حنیف ڈار

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
کرایہ داری اسٹام کی شرائط
اکثر یا ہر دوسرے دن یہ سننے پڑھنے کو ملتا ہے کہ مالک جائیداد بڑے ظالم ہیں یا یہ کہ کرایہ داران نے پراپرٹی کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ کرایہ اور بل نہیں دئیے گھر برباد کر کے بھاگ گئے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔سینکڑوں رینٹ ایگریمنٹ کرنے اور کروانے کے بعد جو تجربہ اور نتیجہ حاصل ہوا ہے وہ پبلک کے مفاد میں شئیر کر دیتا ہوں ۔ فی سبیل اللّٰہ

1. کرایہ نامہ ایک سال کی بجائے گیارہ ماہ کا لکھوائیں ورنہ ایک سال یا اس سے زیادہ کا ایگریمنٹ قانونی طور پر رینٹ کنٹرولر اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈ کروانا لازمی ہوتا ہے ورنہ عدالتی کارروائی کی صورت میں مشکلات یا ناقابل قبول ہو سکتا ہے ۔

2ـ گیارہ ماہ مدت کیساتھ ناقابل تجدید کا لفظ لازمی لکھوائیں ۔ یا لکھوائیں کہ ایگریمنٹ ہذا کی تجدید مالک جائیداد کی مرضی پر منحصر ہے ۔ ورنہ نہیں ۔

3ـ لکھوائیں کہ اگر کرایہ دار 6 ماہ سے پہلے خالی کر کے جانا چاہے تو سیکورٹی واپس نہیں ہو گی اور خالی کرنے سے قبل ایک ماہ پہلے تحریری نوٹس دینا لازمی ہو گا ورنہ کرایہ دار ایک ماہ کا اضافی کرایہ ادا کرنے کا پابند ہو گا۔

4ـ لکھوائیں کہ اگر کرایہ دار کے قیام کے دوران بجلی پانی گیس دروازے کھڑکیاں رنگ روغن موٹر پمپ وغیرہ تمام متعلقہ اشیاء دانستہ یا نا دانستہ خراب ہوتی ہیں تو تبدیلی یا درستگی کرایہ دار کے زمہ ہوں گی ۔

5ـ اگر کرایہ دار واجب الآدا بلز و بقایا جات ادا کئے بنا بغیر اطلاع گھر دکان خالی کر جاتا ہے یا کسی اور کو قبضہ حوالے کر کے غائب ہو جاتا ہے تو ایک سال کے کرایہ کے برابر جرمانہ اور قانون کارروائی کا تمام خرچ ادا کرنے کا پابند ہر صورت پابند ہو گا ۔

6ـ بتائے گئے افراد کے علاؤہ مذید کوئی فرد مالک کی اطلاع و رضامندی کے بغیر ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔

7ـ مہمان تین دن رحمت اور چوتھے دن زحمت ہوتا ہے ۔ زیادہ دن مہمان رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔

8ـ رہائش رکھنے والے تمام بالغ افراد کے شناختی کارڈ اور نابالغان کے ب فارم کی کاپیاں لازمی مہیا کرنا ہونگی ۔ جن کا اندراج متعلقہ تھانے میں کرایہ نام اندراج کرواتے وقت لازمی کروائیں ۔ یہ قانونی طور پر ضروری ہے ۔

9ـ تمام بلز آخری تاریخ سے پہلے جمع کرواکر رسیدات لازمی مالک کو بھیجنے کا پابند ہو گا۔

10ـ ماہانہ کرایہ نقد کی بجائے اکاؤنٹ میں وصول کریں اور اکاؤنٹ نمبر اور کرایہ کی تاریخ بھی لازمی ایگریمنٹ میں لکھوائیں ۔ تاخیر کی صورت میں یومیہ جرمانہ طے کر کے لازمی لکھوائیں ۔

11ـ لکھوائیں کہ ایگریمنٹ ہذا میں درج کی گئی تمام شرائط کو دونوں فریقین و گواہان نے پڑھ پڑھوا سن سنوا لیا ہے اور ڈسکس کے بعد تمام شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد دستخط اور نشان انگوٹھا ثبت کیا ہے اور اسکی تمام شرائط کی پابندی تمام فریقین اور انکے وارثان پر بھی لاگو ہے اور ہوگی ۔ خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی کارروائی کی صورت میں جرمانہ و ہرجانہ اور عدالتی کارروائی کے تمام اخراجات مخالف فریق ادا کرنے کا پابند ہو گا ۔

12ـ لکھوائیں کہ مالک مکان اپنی ضرورت کے تحت اگر چھ ماہ سے قبل مکان دکان خالی کرنے کا کہے تو وہ کرایہ دار کو ایک ماہ کا نوٹس دینے کیساتھ ایک ماہ کا کرایہ معاف یا واپس کرنے کا پابند ہوگا ۔

13ـ کہ مالک مکان تین ماہ سے قبل مکان وزٹ یا چیک کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔

14ـ یہ کہ کرایہ دار مکان دکان کی تعمیر میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی حق نہیں رکھتا 15ـ یہ کہ رہائشی مکان صرف رہائش کیلئے استعمال ہوگا ۔ کسی کاروباری مذہبی سیاسی یا غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں ہوگا خلاف ورزی یا آس پڑوس کی شکائیت کی صورت میں مالک مکان بغیر نوٹس فوری مکان خالی کروانے کا مجاز ہو گا ۔

16ـ لکھوائیں کہ مکان دکان صرف رہائش یا کاروبار کے مقصد کے لئے دیا جا رہا ہے کسی بھی قسم کے غیر قانونی غیر اخلاقی استعمال کی صورت میں مکمل زمہ دار کرایہ دار ہوگا اور مالک جائیداد ہر گز زمہ دار نہ ہوگا ۔

17ـ اگر کرایہ دار معاہدہ ہذا کی شرائط کلی یا جزوی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو فوری طور پر خالی کرکے قبضہ واپس مالک جائیداد کے حوالے کرنے کا پابند ہوگا ۔

یہ شرائط بظاہر مالک جائیداد کو زیادہ سپورٹ کرتی محسوس ہونگی مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ کرایہ دار کی حیثیت ایک مہمان کی ہوتی ہے ۔ آخر ایک دن اسے جانا ہوتا ہے ۔ مالک اپنی کروڑوں کی انویسٹمنٹ کی جائیداد چند ہزار کرایہ کے عوض کرایہ دار کو استعمال کیلئے حوالے کرتا ہے کرایہ کی آمدن سے اسکا اپنا کچن چل رہا ہوتا ہے ۔ سوچیں اگر کرایہ دار کو کروڑوں کا مکان دکان خرید کر رہنا استعمال کرنا پڑے تو اس کیلئے کتنا مشکل یا نا ممکن ہو گا ۔ جب کرایہ دار اس حقیقت کو دل سے تسلیم کریگا اور اپنے پ کو مہمان سمجھ کر رہیگا تو نہ تو وہ پراپرٹی کا نقصان کرے گا نہ ہونے دیگا اور مالک جائیداد کیساتھ بھی اچھی طرح بنا کر رکھے گا اور حتی الامکان شکائیت کا موقع نہیں دیگا اور یوں 90 فیصد مسائل و اختلافات علط فہمیاں ختم ہو جائیں گی یاد رکھیں اچھے کرایہ دار کو کوئی بھی عقلمند مالک جائیداد چھوڑ کر جانے نہیں دیتا ۔

کالم نگار : قاری حنیف ڈار
| | |
45