(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر مولانا اکرام اللہ جان قاسمی

ڈاکٹر مولانا اکرام اللہ جان قاسمی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیتِ معلّم
یہ ایک حقیقت ہے کہ اصل علم، علم الہٰی ہے، یعنی وہ علم جس کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے انسانوں کی ہدایت کے لیے بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے۔ یہ علم حقیقی اور قطعی ہے اور اس میں کسی شک وشبہے، جھوٹ، غلط بیانی یا خلاف واقعہ ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ علم ہر پیغمبر کو ودیعت کیا گیا ہے اور اس سلسلے کے سب سے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کے بالمقابل ایک علم وہ ہے جو انسانی حواس اور عقل وتجربے سے وجود میں آتا اور تشکیل پاتا ہے۔ یہ علم غیر یقینی، غیر قطعی اور غیر حتمی ہوتا ہے۔ اس میں نا مکمل اور غلط ہونے اور ردوبدل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اور یہ اس لیے کہ انسانی حواس اور عقل محدود ہے اور اس سے حاصل شدہ علم اور تجربہ بھی محدود اور نامکمل ہوتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے، جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة﴾․ (الاحزاب: 12) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بہترین نمونہ ہونا زندگی کے ہرشعبے میں ہے۔ لہٰذا تعلیم کے باب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین نمونہ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا والوں کے لیے مثالی معلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

”اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا“․

”مجھے معلم بنا کر ہی بھیجا گیا ہے“۔

عام معلمین میں بھی بعض اوصاف کا ہونا ضروری ہوتا ہے، مگر ان میں موجود اوصاف کسبی ہوتے ہیں، یعنی انہوں نے یہ اوصاف سیکھنے سکھانے یا عقل اور تجربے سے حاصل کیے ہوتے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور کمالات کسبی نہیں، بلکہ وہبی ہیں۔ یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر ان کو ودیعت کیے گئے ہیں۔ پھر جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے سردار ہیں اور تمام پیغمبروں میں اعلیٰ شان اور مرتبے پر فائز ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بھی کامل، اکمل اور بلند ترین ہیں۔

اگرچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بیک وقت بے شمار صفات کے ساتھ متصف تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیک وقت ایک عظیم سیاست دان، مدبر، مصلح، مبلغ اور معلم تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معلم ہونے کی صفت بہت واضح ہے اور اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے معلم بنا کر بھیجا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز سے امت کو تعلیم دی ہے اور جس قدر مختصر مدت میں دی ہے، اس کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور اعمال وکردار سے اس وقت کے معاشرے میں انقلاب آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاشرے کو انسانیت کی اعلیٰ معراج تک پہنچا دیا۔ آج بھی انسانی معاشرہ اگر اس سے صرف نظر کرے تو وہ روحانی، معاشرتی، تمدنی، سیاسی اور تعلیمی ترقی کی حدود کو نہیں چھوسکتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ کون سے اوصاف تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے ساتھ تعلیم کے باب میں وہ کون سا طرز عمل اپنایا جس کی وجہ سے اتنا عظیم انقلاب برپا ہوا۔ جس نے وحشیوں کو تہذیب وشرافت کا امام بنایا۔ جس نے خون کے پیاسوں کو ایک دوسرے پر مرمٹنے والا بنایا اور جس نے عرب قوم کو وہ زندہ جاوید صفات بخشیں کہ ان کے کارنامے سنہری حروف کے ساتھ تاریخ انسانی کے اوراق کا حصہ بن گئے۔ یہ سیرت نبوی سے متعلق ایک طویل موضوع ہے۔ اور ان اوصاف پر ہم قدرے تفصیل سے لکھیں گے۔ تاہم ان اوصاف میں سرفہرست جو چیزیں تھیں ان میں ایک بنیادی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نرم اندازِ تعلیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کی نرمی تھی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ، وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَولِک﴾․ (آل عمران: 159)

پس اللہ کی طرف سے رحمت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے نرم پڑ گئے ہیں اور اگر آپ سخت مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔

جنہوں نے سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ کفار ومشرکین نے ہر مقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستوں میں کانٹے بچھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاشرتی طور پر قطع تعلق (Social Boycott) کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مع پیروکاروں کے شعب ابی طالب میں محصور کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مقصد سے ہٹانے کے لیے خوب صورت عورتوں اور ملک ومال کی پیش کش کی۔ ڈرایا دھمکایا، قتل کے منصوبے بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر، مجنون اور ابتر کہا، مگر ان تمام چیزوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے ثبات میں لغزش تک نہیں آئی۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ ہر وقت ان کے لیے قہر وغضب کے بجائے رحم وشفقت کے جذبات رکھے ۔

اگر کبھی کسی نے فرمائش بھی کی کہ فلاں شخص یا فلاں قوم کو بد دعا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ شفقت ہمیشہ ان کی ہدایت کے لیے اٹھے۔ ساری ساری رات عبادت میں مشغول رہنے کے بعد صبح امت کی مغفرت اور رحمت کے لیے دعا فرمائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تعلیم عام اساتذہ کی طرح نہیں تھا کہ سبق پڑھایا، تشریح کی، کتاب بند کی اور بس۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف قرآن وحدیث کے الفاظ سکھاتے، تشریح بیان فرماتے، عملی انداز میں سمجھاتے اور پھر دوسری طرف امت کے افراد کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے۔ کمی بیشی اور کجی کا علاج فرماتے اور جب تک حالت سدھر نہ جاتی اصلاح کا عمل جاری رہتا۔ اسلام میں ایک خوبی یہ بھی ہے یہ اپنے پیروکاروں کو حرام اورناجائز کاموں کی فہرست ہاتھ میں نہیں تھماتا، بلکہ جہاں حرام اور ناجائز امور کی پیش بندی کرتا ہے وہاں حتی الامکان متبادل حلال اورجائز راہ عمل کی نشان دہی بھی کرتاہے اور امت کو اپنی ضروریات جائز طور پر پوری کرنے کے لیے پوری پوری راہ نمائی کرتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی حکم دیا سب سے پہلے اس پر خود عمل کر کے دکھایا، اس طرح اپنے اہل وعیال اور قریبی دوست واحباب کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا، بلکہ ان کے لیے دوسروں کے بہ نسبت عمل کو زیادہ لازم قرار دیا۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی قوم، ملک یا تحریک کے علم بردار اپنے آپ کو قانون اور اصول سے بالاتر سمجھتے ہیں اور جس چیز کی نصیحت دوسروں کو کرتے ہیں خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارشاد پر سب سے پہلے خود عمل کرتے۔ اس میں جہاں تواضع، انکسار، مساوات اور پابندی قانون کا درس ہے وہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے امت کے لیے عملی نمونہ بھی سامنے آجاتا ہے اور ایک نظریاتی امر (Theory) کو کس طرح عملی (Practical) انداز میں انجام دینا چاہیے اس کی معقول صورت آجاتی تھی۔ خلاصہ یہ کہ جس معلم میں اخلاص اور لگن ہو، نرمی اور شفقت ہو، اپنی تعلیمات پر خود یقین اور عمل ہو تو وہ نہ صرف کام یاب معلم ہوتا ہے، بلکہ دوسرے معلمین کے لیے بھی قابل تقلید نمونہ ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں یہ ساری چیزیں نہایت اعلیٰ پیمانہ پر جمع تھیں۔ آئیے! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے چند تعلیمی وتربیتی اوصاف کا ذکر کریں۔

(1) عام فہم انداز کلام:
معلم کے لیے ایک ضروری صفت یہ ہونی چاہیے کہ جب وہ درس دے تو نہایت صاف بات کرے۔ الفاظ کی ادائیگی الگ الگ کرے اور اس طرح فصاحت سے بولے کہ مخاطب ذہن پر بوجھ ڈالے بغیر سمجھ جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ بات بڑی فصاحت اور وضاحت کے ساتھ فرماتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”کان کلام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کلاما فصلا، یفھمہ کل من یسمعہ“․ (ابو داود سلمان بن الاشعث السجستانی، کتاب السنن، رقم الحدیث: 4839)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام الگ الگ الفاظ پر مشتمل ہوتا تھا، اس طرح کہ جو بھی اسے سنتا سمجھ جاتا“۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بعض اوقات سامعین کی تعداد زیادہ ہوتی اور ہر فرد تک بات پہنچانا مشکل ہوتا، یہ احساس رہتا کہ بعض افراد بات نہیں سمجھ پائیں گے، اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات کو تین دفعہ دہراتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ کی اس عادت کے بارے میں فرماتے ہیں:

”کان اذا تکلم بکلمة اعادھا ثلاثا حتی تفھم عنہ“ (مشکوة، باب العلم، حدیث: 197)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بات کرتے تو تین دفعہ دہراتے یہاں تک کہ بات سمجھ میں آجاتی۔ اسی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار سلام فرماتے۔ اس کا مقصد بھی یہی ہوتا کہ تمام مخاطبین تک آواز پہنچ جائے۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ استاد کو چاہیے کہ درس کے دوران ٹھہر ٹھہر کر بات کرے اور اگر بات کسی کی سمجھ میں نہ آئے یا مشکل مقام ہو تو دو تین بار بات دہرائے کہ یہ سارے اصول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ثابت ہیں۔

(2) مخاطب کی ذہنی استعداد کی رعایت:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہر تعلیم تھے اور ایک ماہر تعلیم اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ جو بات وہ کہنا چاہتا ہے، آیا وہ مخاطبین کی ذہنی استعداد کے مطابق بھی ہے یا نہیں؟ وہ کوئی ایسی بات نہیں کرتا جو مخاطب کی ذہنی استعداد سے بالا تر ہو۔ چناں چہ پرائمری اسکول کا استاد اپنے بچوں کو ان کی ذہنی استعداد کے مطابق سبق پڑھاتا ہے اور ہائی سکول کا استاد اپنے بچوں کو ان کی ذہنی استعداد کے مطابق درس دیتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا بڑا خیال فرماتے تھے کہ اگر ایک شخص نیا مسلمان ہوا ہے اور دوسرا قدیم الاسلام ہے تو دونوں کو سمجھانے میں فرق رکھیں، تا کہ دونوں اپنی ذہنی استعداد کے مطابق سمجھ سکیں۔ یہی فرق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شہری اور ایک دیہاتی کی تعلیم میں ذہنی استعداد کو مدنظر رکھ کر روا رکھتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے اپنے علاقے کی مخصوص زبان ولہجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کے دوران روزے کا حکم پوچھا۔ اس زبان میں مختلف حروف کو میم سے بدلا جاتا تھا۔ اس کا سوال تھا۔ ”امن امبر امصوم فی امسفر؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخصوص زبان ولہجے میں جواب دیا ”فقال لیس من امبر امصوم فی امسفر“․ (جمع الفوائد، رقم الحدیث: 3039) خود قرآن پاک کے تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کی اللہ نے یہی حکمت بیان فرمائی ہے۔ قرآن کریم سے قبل ساری آسمانی کتابیں اپنے اپنے پیغمبروں پر یکبارگی نازل ہوئی ہیں، جب کہ قرآن کریم کم وبیش تئیس سال کے عرصے میں نازل ہوا ہے۔ کافروں نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ سارا قرآن ایک دم کیوں نازل نہیں ہوتا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اس طرح نازل کرنے کی دو حکمتیں ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار رابطہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی اور دلجمعی کے لیے ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے ہم آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے نازل کرتے ہیں کہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ ارشاد ہے:

﴿وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القرآن جملة واحدة کذلک لنثبت بہ فؤادک ورتلناہ ترتیلا﴾ (الفرقان: 32) پیغمبر کی مثال ایک طبیب اور حکیم کی ہوتی ہے اور جس طرح ایک مریض دو چار دن کے بعد طبیب کو دوبارہ معائنہ کراتا ہے، مرض کے احوال بتاتا ہے، دوا کے اثرات بیان کرتا ہے اور پھر مزید ہدایات لے کر دوا استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی باطنی امراض کا بار بار معائنہ فرماتے اور ارشادات کے ذریعہ اصلاح فرماتے۔

(3) تعلیم میں تدریج کا اصول:
بدی یک دم ختم نہیں ہوتی اور نیکی فوراً نہیں آسکتی۔ اس کے لیے بڑی محنت اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ایک طویل جدوجہد کے بعد معاشرہ صحیح معنوں میں اصلاح پذیر ہوسکتا ہے۔ عرب کا معاشرہ بہت بگڑ چکا تھا اور اس کی اصلاح کے لیے تدریج کے اصول کے ضرورت تھی۔ یعنی اس کی خرابیوں کو آہستہ آہستہ اور مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات حکیم ہے اور حکمت کا تقاضا ہے کہ اصول کا خیال رکھا جائے۔ یہ اصولِ اصلاح اسلام نے کس طرح بتدریج رائج کیے، اس کی ایک واضح مثال شراب کی حرمت ہے۔ چوں کہ شراب کا استعمال عرب معاشرے میں بہت زیادہ تھا اور اسے فوراً ختم کرنا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شراب سے متعلق قرآن پاک میں پہلے آیت نازل فرمائی:

﴿یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیہما اثم کبیر ومنافع للناس واثمہما أکبر من نفعہما﴾․ (البقرة: 219)

یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرمادیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد دوسری آیت نازل ہوئی۔ اس میں حکم تھا:

﴿ یا ایہا الذین امنوا لا تقربوا الصلوة وانتم سکاریٰ﴾․ (النساء: 43)

”اے ایمان والو! تم نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ“۔

اس میں عبادت کے وقت شراب کے استعمال اور اس کے اثرات سے بچنے کی ممانعت تھی۔ اس کے کچھ عرصے بعد سختی کے ساتھ شراب سے منع کیا گیا اور اسے مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا۔ جس کی تفصیل سورة المائدہ میں مذکور ہے۔ یہی اصول رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں کارفرما تھے۔ امت کو پہلے پہل آسان طریقے سے راہ عمل کی نشان دہی فرماتے اور پھر آہستہ آہستہ اس مقام تک پہنچاتے جہاں تک مشیت ایزدی ہوتی۔

(4) تعلیم میں زبردستی کرنے سے اجتناب:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ دین اور حصول علم کے سلسلے میں کسی پر زبردستی کوئی حکم نہیں تھونپتے تھے․ بلکہ ترغیب اور نرمی سے کام لیتے اور عمل کے فضائل بیان فرماتے۔ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لا اکراہ في الدین قد تبین الرشد من الغی﴾․ (البقرة: 256)

دین کے قبول کرنے میں کسی پر زور زبردستی نہیں ہے۔ بے شک ہدایت کو گم راہی سے واضح کر کے الگ کر دیا گیا ہے۔

مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور برے راستے کو خوب واضح کر کے بیان فرما دیا ہے۔ اب ہر عقل مند انسان اپنے لیے اچھے یا برے راستے (یعنی اسلام یا کفر) کا انتخاب خود کر سکتا ہے۔ اسی طرح اسلامی احکام میں بھی تکلیف بما لا یطاق کا تصور نہیں ہے۔ یعنی ایسی چیز جو انسان کے لیے خواہ مخواہ تکلیف دہ اور ضرر رساں ہو اسلام میں کسی انسان کو اس کے کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔

اس لیے ارشاد ہے: ﴿لا یکلف اللّٰہ نفساً الا وسعہا﴾․ (البقرة: 286) اللہ تعالیٰ کسی کو ایسی چیز کا مکلَّف نہیں بناتا جو اس کی وسعت اور طاقت سے باہر ہو۔ ایک دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے:

﴿فذکر انما انت مذکر، لست علیہم بمصیطر﴾․ (الغاشیہ: 21، 22)

آپ نصیحت کریں، آپ کا کام تو بس نصیحت کرنا ہے اور آپ ان پر نگران نہیں ہیں۔ اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے:

﴿وما انت علیہم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید﴾․ (سورہ ق: 45) اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ سو قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت کیجیے جو ہماری وعید کا ڈر رکھتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر نظر دوڑائیں گے تو اسے ان آیتوں کی عملی تفسیر پائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات بڑی حکمت، موعظت اور نرمی کے ساتھ امت کو منتقل کی ہیں اور اس سلسلے میں کبھی زور زبردستی اور جبر واکراہ سے کام نہیں لیا ہے۔

(5) دوسروں کو اُکتانے سے بچانا:
عبادت ہو یا حصول علم، دونوں کے لیے ضروری ہے کہ انسان اس کے لیے ہشاش بشاش ہو اور اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔ چناں چہ وہ معلم جو طالب علموں کی نفسیات کو ملحوظ خاطر رکھتا ہو، اس بات اہتمام کرتا ہے کہ طالب علم درس لیتے وقت تازہ دم ہو۔ وہ تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا شکار نہ ہو اور درس اس پر بوجھ نہ بنے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس اصول کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتی ہیں۔

”کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: خذوا من العمل ماتطیقون، فان اللّٰہ لا یمل حتی تملوا“․ (البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح، ج 1، ص 264)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنا تمہارے بس میں ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ (تمہارے کثرتِ عمل سے) نہیں اُکتاتا، ہاں! تم اُکتا جاؤ گے۔

دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یتخولنا بالموعظة فی الایام کراہة السامة علینا“․ (بخاری، ج 1، ص 16) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چند روز کے بعد ہمیں وعظ ونصیحت فرمایا کرتے تھے، تا کہ ہمارے اوپر اکتاہٹ غالب نہ آجائے۔

اس سلسلے میں بخاری ومسلم میں ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان ہوا ہے۔ راوی کہتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مسجد نبوی میں داخل ہوئے، دیکھا کہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ رسی کس لیے ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ام المؤمین حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے لٹکائی ہے۔ جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لے کر تھکاوٹ اتارتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسی کھول دو۔ جب تک تم میں سے کوئی تازہ دم رہے تو نماز پڑھا کرے اور جب تھک جائے تو آرام کر لیا کرے۔ (بخاری: ج 1، ص 154)۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ عبادت کی طرح طلب علم میں بھی طالب علم کے لیے ہشاش بشاش اور تازہ دم ہونا ضروری ہے۔ جب تھکاوٹ اور اکتا ہٹ ہوتو اسے آرام کا موقع دینا چاہیے۔

(6) مشفقانہ رویہ:
معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرم خُو اور شفیق ہو۔ تعلیم جس طرح نرمی اور شفقت سے انسان کے ذہن میں جگہ پاتی ہے اس طرح سختی سے نہیں پاتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عام لوگوں کے ساتھ بہت نرم تھے اور خودان کو حکم فرماتے کہ نرمی سے کام لیا کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرتی ہیں: ”ان اللّٰہ رفیق، یحب الرفق فی الأمر کلہ“ (البخاري: 10، 375، مسلم: رقم الحدیث 2165)

”بے شک اللہ تعالیٰ نرم فرمانے والا ہے اور تمام کاموں میں نرمی کو پسند فرماتا ہے“۔

ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی روایت کرتی ہیں۔

”ان الرفق لایکون فی شیٴ الا زانہ، ولا ینزع من شیٴ الا شانہ“․(مسلم: رقم الحدیث، 2594) ”نرمی جس چیز میں شامل ہو جائے تو اسے خوب صورتی بخشتی ہے اور جس چیز سے نکالی جائے تو وہ بد مزہ ہو جاتی ہے“۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم خو تھے اور قرآن پاک میں یہ نرمی اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت قرار دی گئی ہے۔

ارشاد ہے:

﴿فبما رحمة من اللّٰہ لنت لہم ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک﴾․ (آل عمران: 159)

”اللہ کی رحمت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے نرم پڑگئے ہیں اور اگر سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے ہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے“۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

﴿لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین روٴف رحیم﴾․ (التوبہ: 128)

”بے شک آیا ہے تمہارے پاس ایک پیغمبر، جو تم ہی میں سے ہے، گراں گذرتی ہے ان پر وہ بات جو تم کو مشقت میں ڈالے، تمہاری بھلائی کی حرص رکھتے ہیں، مومنوں کے لیے شفیق اور رحم دل ہیں“۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دس سال تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشفقانہ رویے کے بارے میں فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے نرم کوئی چیز نہیں دیکھی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کی طرح کوئی خوش بودار چیز سونگھی ہے۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی ہے، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ”اوہو“ تک نہیں فرمایا۔ کبھی نہیں فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا؟ اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا؟“ (بخاری: ج 1، ص 420، 421/ مسلم: رقم الحدیث 2330) اسی طرح ایک دوسرے صحابی اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچپن میں انصار کے نخلستان (کھجور کے باغ) میں گیا اور ڈھیلے مار مارکر کھجور گراتا۔ لوگوں نے پکڑ کر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ڈھیلے کیوں مارتے ہو؟ میں نے کہا کھجوروں کے لیے۔ فرمایا جو کھجور زمین پر گرے کھالیا کرو، ڈھیلے مت مارا کرو۔ پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر میرے حق میں دعا فرمائی۔ اس سے ثابت ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم وتربیت ایسا تھا کہ خرابی بھی دور ہو جائے اور انسان کی اصلاح اس طرح ہو جائے کہ اس کو گراں محسوس نہ ہو۔ اگر حقیقی معنوں میں معلمان امت اس طریقہ کو اختیار کر لیں تو علم وادب اور اخلاق وکردار بہت جلد اسلامی رنگ میں طلبہ کے دل ودماغ میں جگہ پکڑ لیں گے۔

(7) حکیمانہ رویہ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تعلیم نہایت حکیمانہ تھا۔ حکمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاشرے میں موجود خرابی بھی دور ہو جائے۔ خدا اور رسول کی منشا بھی پوری ہو جائے اور اصلاح ایسے طریقہ سے ہو جائے کہ کسی کو کوئی شکایت بھی نہ ہو۔ ایک نو جوان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے زنا کی اجازت دی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جو فعل تم کسی اجنبی عورت کے ساتھ کرنا چاہتے ہو اگر کوئی شخص یہی تمہاری ماں کے ساتھ کرے تو کیا تم برداشت کر لو گے؟ اس نے کہا ہر گز نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اچھا، اگر یہی فعل کوئی تمہاری بہن کے ساتھ کرنا چاہے تو؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس کے ساتھ یہ فعل کرنا چاہتے ہو وہ بھی کسی کی ماں بہن ہوگی۔ جس طرح تم برداشت نہیں کر سکتے اس طرح کوئی دوسرا بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد اس کے حق میں دعا فرمائی۔ یہ نو جوان جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر جارہا تھا تو زنا سے پکی تو بہ کر چکا تھا۔ (نور الدین ہیثمی، مجمع الزوائد، کتاب العلم ج1، ص 129)۔ اسی طرح ایک دفعہ ایک دیہاتی آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں پیشاب کے لیے بیٹھ گیا۔ صحابہ اس کو مارنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمایا۔ جب دیہاتی فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا:

”ان ہذہ المساجد لا تصلح لشیء من البول والقذر انما ہی لذکر اللّٰہ والصلوة وقراء ة القرآن“․

”یہ مسجدیں بول وبراز کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر،نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں“۔

”وامر رجلا من القوم فجآء بدلوٍ من ماء فشنہ علیہ“․ (جمع الفوائد ج 1، ص 63)

”پھر ایک شخص کو حکم دیا، وہ ایک ڈول پانی لایا اور اس پیشاب پر بہادیا“۔

اسی طرح ایک دوسرا واقعہ احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے، جو بڑا دلچسپ بھی ہے۔ حضرت معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ سفر پر تشریف لے گئے، اس وقت نماز میں سلام کا جواب دینے اور اشارے سے بات کرنے کی اجازت تھی۔ جب یہ سفر سے واپس تشریف لائے تو یہ اجازت ختم ہو چکی تھی، ان کو معلوم نہ تھا۔ جب نماز میں کھڑے ہو گئے تو کسی کو چھینک آئی، انہوں نے جواب میں یرحمک اللہ کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کو نماز ہی میں چپ رہنے کا اشارہ کیا انہوں نے جواب میں کہا کہ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو اور اشارے کر رہے ہو؟ جب نماز ختم ہوئی تو یہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکیمانہ اور مشفقانہ انداز تعلیم کے بارے میں قسم کھا کر خود فرماتے ہیں:

”فبأبی ہُوَ وَأمی، مَا رَأَیتُ مُعَلّماً قَبلَہُ وَلَا بَعدَہُ اَحسَنَ تَعلِیمًا منہ، فَوَاللّٰہِ مَا قَہَرَنِی ولا ضَرَبَنِی وَلَا شَتَمَنِی، فَقَالَ: إِنَّ ہَذِہِ الصّلوة لا یصلح فِیہَا شَیْءٌ مِن کَلَامِ النَّاسِ، إنما ہی التسبیح والتکبیر وقراء ة القُرآن“․ (جمع الفوائد، ج 1، ص 221/ مسلم ج 1 ص 223)

”میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قربان ہوں، میں نے آپ سے بہترین تعلیم دینے والا معلم نہ پہلے دیکھا ہے نہ بعد میں، خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو مجھے ڈانٹا نہ مارا اور نہ برا بھلا کہا، بلکہ فرمایا کہ نماز میں لوگوں کی طرح کا کلام مناسب نہیں۔ اس میں تو خدا کی تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے“۔

ان واقعات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تعلیم کس قدر حکیمانہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ تعلیمات پوری دنیا میں پھیل گئیں اور لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئیں۔

(8) آسانی کا راستہ اختیار کرنا:
اسلام اس لیے آیا ہے کہ انسان سے بے مقصد بوجھ ہٹا دے۔ چناں چہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے:

﴿ویضع عنہم اصرہم والاغلٰل التی کانت علیہم﴾․ (الاعراف: 157)

”اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اتارتا ہے ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں جو ان پر تھیں“۔

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے:

﴿یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر﴾․ (البقرة: 185)

”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے سختی نہیں چاہتا“۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا“ وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، (بخاری: ج 1، ص 150/ مسلم: رقم الحدیث 1734)

”لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور سختی مت کرو اور خوش خبریاں سنایا کرو اور نفرت مت دلاؤ“۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔ (بخاری: 6، 419، 420/ مسلم: رقم الحدیث 2327) نماز کتنی اہم ترین عبادت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا ہے، لیکن اس کے بارے میں بھی فرمایا کہ جب تم دوسرے لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو مختصر پڑھایا کرو، کیوں کہ ان میں کم زور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی اکیلے نماز پڑھے تو جتنا جی چاہے لمبی کرے۔ (مسلم: ج 1 ص 208) اس سے معلوم ہوا کہ دین میں بے جا سختی نہیں ہے اور خصوصاً طالب علم کے ساتھ نرمی، آسانی اور سہولت کا معاملہ کرنا چاہیے۔

(9) مزاج اور نفسیات کی رعایت:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہر نفسیات تھے اور تعلیم بھی۔ ایک ماہر نفسیات کی طرح مزاج اور نفسیات کو سامنے رکھ کر مشورہ دیتے تھے۔ یا یوں کہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہر طبیب تھے اور مریض کی بیماری کے مطابق اس کا روحانی علاج کیا کرتے تھے۔ اگر کوئی شخص والدین کا نافرمان ہوتا اور آکر نصیحت طلب کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے والدین کی فرماں برداری کا حکم دیتے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کچھ نصیحت فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غصہ مت کیا کرو“۔ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ کچھ مزید نصیحت کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غصہ مت کیا کرو“ اور کئی بار یہ سوال وجواب ہوا۔ (بخاری: ج 2 ص 132) اس لیے کہ اس شخص میں یہی بری بیماری تھی، جس کا علاج کرنا ضروری تھا۔

(10) جنگ وجدال سے پر ہیز:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام زندگی میں اور خصوصاً تعلیم کے باب میں جنگ وجدال سے ہمیشہ پرہیز کیا ہے۔ بلکہ یہ حکم فرماتے کہ اگر کوئی حق دار بھی ہو اور جنگ وجدال کی نوبت آئے تو اپنے حق سے دست بردار ہو جائے، مگر لڑائی جھگڑا نہ کرے۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ میں اس شخص کے لیے جنت کے کنارے پر ایک محل کی ضمانت دیتا ہوں جو حق دار ہوتے ہوئے بھی جھگڑانہ کرے۔ (ابوداوٴد، رقم الحدیث: 4800) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر زیب تن فرمائی ہوئی تھی، جس کے کنارے موٹے تھے۔ ایک دیہاتی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چادر کے اطراف سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے پر اس کے نشان پڑ گئے۔ اس نے کہا اے محمد! اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے مجھے بھی کچھ دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور پھر مسکرا دیے اور اسے مال دینے کا حکم فرمایا۔ (بخاری: 10، 234/ مسلم: رقم الحدیث 1057) دیکھیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ بدلہ لیا، نہ تلخ گفتگو فرمائی، بلکہ ہنس دیے اور اسے مال دینے کا حکم فرمایا۔ یہ طرز عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا عملی نمونہ تھا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اَحسن إِلَی مَن أَسَاء اِلَیکَ“․

”جو تیرے ساتھ برائی کرے تو جواب میں اس کے ساتھ اچھائی کر“۔

(11) تعلیم، عملی انداز میں:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ جو چیزیں محض زبانی طور پر سمجھانے سے سمجھ میں نہ آتیں، بلکہ عملی طور پر سمجھانے کی ضرورت ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیزیں عملی طور پر سمجھاتے۔ چناں چہ بچوں کی تربیت کے پیش نظر ان کو اپنے ساتھ کھانے پر بٹھاتے، تا کہ کھانے پینے کے عملی آداب سیکھ جائیں۔ حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ ایک صحابی ہیں، جن کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا، جب میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتا تو بوٹی، سبزی کی تلاش میں میرا ہاتھ پورے برتن میں پھرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”یا غلام، سم اللّٰہ تعالی، وکل بیمینک، وکل مما یلیک“․ (بخاري: 9، 458/ احمد بن حنبل، المسند: 4، 26)

”بچے! بسم اللہ پڑھا کرو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاوٴ“۔

ایک دفعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی زندگی، خواہشات، امیدوں اور اس کے ساتھ لگی مصیبتوں اور حادثات کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سمجھانا چاہا تو عملی طور پر سمجھانے کے لیے زمین پر ایک نقشہ کھینچا جو اس طرح تھا:

فرمایا کہ اس نقشہ میں چار تکونی خانہ انسانی زندگی ہے۔ درمیانی لکیر انسان ہے۔ چھوٹی چھوٹی لکیریں مصائب ومشکلات ہیں۔ جس نے انسان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ اور لمبی لکیر کا جو سرا باہر نکلا ہے یہ اس کی امیدیں ہیں، جو اس کی زندگی سے بھی لمبی ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ انسانی زندگی مختصر ہے۔ مصائب و مشکلات نے اسے ہر طرف سے گھیرے رکھا ہے، جب کہ امیدیں زندگی سے بھی زیادہ لمبی ہیں، ان کے پورا ہونے سے قبل ہی موت آجاتی ہے۔ (بخاری: 11، 202/ ترمذی: رقم الحدیث 2456 / ابن ماجہ: رقم الحدیث: 4231) یہ عملی تعلیم کی کتنی واضح مثال ہے کہ ایک ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ انسان بھی اس کے ذریعے بات کو آسانی کے ساتھ سمجھ جاتا ہے۔

(12) اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور تعلیمات میں جو ایک واضح چیز ہمارے سامنے آتی ہے۔ وہ تمام کاموں میں اعتدال اور میانہ روی ہے۔ اسلام کا یہ اصول آج کل زبان زد عام ہے۔ ”خیر الامور اوسطہا“، بہترین کام میانہ روی والا ہے۔ ایک بار تین افراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ عبادت کے بارے میں پوچھ رہے تھے، ایک نے کہا میں ساری رات عبادت کروں گا، دوسرے نے کہا میں ساری عمر روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں ساری عمر نکاح نہیں کروں گا اور شہوت پوری کرنے سے دور رہوں گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا اور زیادہ پرہیزگار ہوں، اس کے باوجود میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور بغیر روزے کے بھی رہتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور میں نے نکاح بھی کیے ہوئے ہیں۔ جو میرے طریقے کے خلاف کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ (بخاری: 9، 89، 90/ مسلم: رقم الحدیث: 1401)۔ اس سلسلے میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کنت اصلی مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الصلوت فکانت صلوتہ قصدا وخطبتہ قصداً“․ (مسلم، رقم الحدیث: 866) ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانہ درجے کی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ درجے کا ہوتا تھا“۔

(13) اختصار اور جامعیت:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور تعلیم کا انداز اس طرح ہوا کرتا تھا جس میں اختصار بھی ہوتا اور جامعیت بھی ہوتی تھی۔ یعنی الفاظ مختصر ہوا کرتے تھے، مگر ان کے ذریعے پورا پورا مطلب واضح ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چند احادیث کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان میں غور کریں کہ کتنے مختصر الفاظ اور کس قدر جامعیت ہے۔ حضرت ابو عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اسلام میں ایسی چیز بتادیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے پوچھنے کی حاجت باقی نہ رہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قل امنت باللّٰہ ثم استقم“․ (مسلم: رقم الحدیث 38) ایمان لانے کے بعد اس پر مضبوطی سے جم جاوٴ۔ اس طرح ایک دوسری مختصر اور جامع حدیث ہے، جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے۔ ارشاد ہے: ”کل معروف صدقة“ (بخاری: 10، 374/ مسلم: رقم الحدیث 1005) ہر ایک نیکی صدقہ ہے۔ ایک اور مختصر اور جامع حدیث ہے، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں: ”المرء مع من أحب“․ (بخاری: 10، 462/ مسلم: رقم الحدیث 2641) انسان کا حشر اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھے گا۔ ظاہر ہے جو جس کے ساتھ محبت رکھے گا۔ اس کے نقش قدم اور طریقے کے مطابق زندگی بسر کرے گا، جو دونوں کے لیے ایک جیسے حشر کا ذریعہ بنے گا۔

(14) دل نشین ضرب الامثال:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں ایک یہ چیز بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کی وضاحت کے لیے بعض مواقع پر بہت پیاری پیاری مثالیں بیان فرماتے، جس کی وجہ سے ایک طرف بات مخاطب کے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جاتی اور دوسری طرف اس سے مجلس میں رونق اور تازگی بھی پیدا ہو جاتی۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی ایک گناہ کبیرہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کو گالی دے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ایک شخص اپنے ماں باپ کو کس طرح گالی دے سکتا ہے؟ فرمایا کہ کوئی شخص دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے اور وہ جواب میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ اس طرح ایک شخص کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواب میں اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ یہ اس طرح ہوا جیسے اس نے اپنے ماں باپ کو گالی دی۔ (بخاری: 10، 338/ مسلم: رقم الحدیث 90)۔ ایک روایت میں ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مضبوط توکل کرو، وہ تم کو اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے۔ پرندے صبح سویرے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ آتے ہیں․ (ترمذی، رقم الحدیث: 2345/ ابن ماجہ، رقم الحدیث: 4164)۔

(15) تعلیم میں اجارہ داری کا خاتمہ:
اسلام وہ پہلا مذہب ہے جس نے حصول علم کو ہر انسان کا حق قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں کسی قوم یا جماعت کے قبضے اور اجارہ داری کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اسلام میں بچوں کی تعلیم کی بھی تاکید کی گئی ہے، مردوں اور عورتوں کی تعلیم کی بھی تاکید موجود ہے۔ یہاں تک کہ غلاموں اور لونڈیوں کو بھی زیور تعلیم سے مزین کرنے کا حکم ہے اور اس کے بارے میں فضائل بیان ہوئے ہیں۔ ایک باررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں غریب اور نادار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے کہ چند مال دار کا فر آئے اور کہا کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مجلس میں بیٹھتے ہیں مگر اس شرط پر کہ ان غریب افراد کو اپنے سے دور کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الہٰی کا انتظار کرنے لگے۔ وحی نازل ہوئی: ﴿ولا تطرد الذین یدعون ربہم بالغداة والعشی یریدون وجہہ﴾․ (الحجر: 88) جو لوگ صبح وشام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے اسے پکارتے ہیں ان کو اپنے سے دور مت کیجیے، (مسلم، رقم الحدیث: 2413)۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اور علم مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسی بارش کی سی ہے جو زمین کے کسی حصے پر برسے اور اچھی زمین ہو، جو پانی جذب کرے سبزہ اور گھاس اگائے اور اس زمین کا بعض حصہ ایسا ہو جو پانی کو اپنے اندر جمع کرے اور لوگ اس سے فائدہ حاصل کریں۔ یعنی خود پانی پییں اور کھیتی کو بھی پانی دیں۔ اور زمین کا ایک حصہ بنجر ہو جو نہ پانی جذب کرتا ہو اور نہ کچھ اُگا تا ہو۔ اسی طرح اس علم کو بعض لوگ سمجھ جاتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور بعض اس طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔(بخاری، 1، 160، 161/ مسلم، رقم الحدیث: 2282) مقصد یہ ہے کہ دین اور اس کی تعلیم عام ہے۔ اگر کوئی اسے قابل اعتنا نہ سمجھے اور حاصل نہ کرے تو یہ اس کی اپنی بدقسمتی ہے، اس میں دین کا کچھ قصور نہیں۔

(16) عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم کی ترغیب:
اسلام علم اور تعلیم کا مذہب ہے، جو ہر انسان کو تعلیم کا حق دار ٹھہراتا ہے۔ اسلام سے قبل عورتوں کے حقوق متعین نہ تھے۔ اسلام نے ان کو دیگر حقوق سمیت تعلیم حاصل کرنے کا بھی حق دیا۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی پرورش کرے، ان کو ادب سکھائے اور ان پر رحم اور شفقت کرے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں اور پھر ان کا نکاح کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب فرما دیتے ہیں۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش اور تربیت کا کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا بھی یہی ثواب ہے۔ راوی کہتا ہے کہ اگر کوئی ایک بیٹی یا ایک بہن کے بارے میں پوچھتا تو اسے بھی یہی جواب دیا جاتا۔ (مشکوة: ج 2، ص 441) یہ تو آزاد عورت کے لیے حکم ہے، اسلام میں غلاموں اور لونڈیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جس کے پاس ایک لونڈی ہو اور یہ اسے تعلیم دے اور بہتر طریقے سے دے اور بہتر طریقے سے ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لے تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے“۔ (ابن عبد البر، جامع بیان العلم وفضلہ، ص 107) اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کی تعلیم کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے میں ایک دن مقرر فرمایا تھا، جس میں عورتوں کو نصیحت کیا کرتے تھے۔ البتہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ علم کا حصول اگر مرد سے ہو تو مکمل پردے میں ہو۔ عورت کا مرد اسا تذہ اور طلبہ میں گھل مل جانا اور ان سے پردہ نہ کرنا کسی طرح جائز نہیں۔

(17) خود مثال اور نمونہ بننا:
ایک معلم اس وقت تک کام یاب معلم نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے نظریات اور تعلیمات پر خود عمل نہ کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ خود عمل سے تعبیر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہترین نمونہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی اس لیے بھیجی ہے کہ قرآنی تعلیمات کی عملی صورت امت کے سامنے آجائے اور قرآن کی تفسیر واضح اور متعین ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ، حج، زکوة کا حکم دوسروں کو دیا ہے اور خود ان عبادات کی ادائیگی میں سب پر سبقت لے گئے ہیں۔

بہت سی روایات ہم تک آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی پہنچی ہیں جن میں آپ سے زبانی ہدایات منقول نہیں ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ہی حکم اور طریقہ متعین ہوا ہے۔ سلام کرنا اسلام کے بنیادی اور معروف اعمال میں سے ایک ہے۔ معاشرے میں اس سنت کو رواج دینے کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سلام کرنے میں پہل کی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے۔ بچوں کے قریب سے گزرتے ہوئے ان کو سلام کرتے اور فرماتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری، 11، 27/ مسلم، رقم الحدیث: 2168)۔ یہی وجہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بہت جلد دنیا میں پھیل گئیں اور لوگوں کے دلوں میں جگہ پکڑ گئیں، لہٰذا معلم کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خود نمونہ اور مثال بنے۔

(18) بے فائدہ سوال وجواب سے احتراز:
اصل علم اور تعلیم وہ ہے جو ایک خاص مقصد کے تحت ہو۔ بے مقصد تعلیم فائدے کے بجائے نقصان دیتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا خاص اہتمام فرماتے تھے کہ بے فائدہ سوال جواب سے احتراز ہو۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿یا ایہا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیاء أن تبدلکم تسؤکم﴾․ (المائدة: 101) اے ایمان والو! بہت ساری ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو، اگر تمہیں حقیقت معلوم ہو جائے تو تم کو برا لگے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”ذرونی ما ترکتکم، فإنما ہلک من کان قبلکم بکثرة سؤالہم واختلافہم علی انبیائہم“․ (مسلم: ج 1، ص 452)

”جس کام کے بارے میں میں خود وضاحت نہ کروں اس کے بارے میں تم مت پوچھا کرو، کیوں کہ تم سے قبل لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں کہ (بے ضرورت) زیادہ سوالات کیا کرتے تھے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرتے تھے“۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ مسلمان بندے کے اسلام کی خوبی بھی یہی ہے کہ بے معنی اور فضول کاموں اور باتوں سے احتراز کرے۔ مختصراً یہ کہ اسلام ایک بامقصد مذہب ہے اور لایعنی باتوں، بے مقصد کاموں اور فضول سوال وجواب سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

(19) بلا معاوضہ تعلیم:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی خصوصیات میں سے ایک یہ چیز تھی کہ اس پر کسی قسم کی اجرت یا معاوضہ طلب نہ فرماتے۔ تعلیم عام تھی اور مفت بھی۔ بلکہ علم کے طلبہ پر اپنی طرف سے خرچ فرمایا کرتے تھے۔

مدینہ منورہ میں اصحاب صفہ دین کے طالب علم تھے، جب کہیں سے کوئی صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھیجتے۔ دین اور علم پر اجرت طلب نہ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دیتے ہیں: ﴿قل لا اسئلکم علیہ اجرا﴾․ (الشوریٰ: 23) ”فرما دیجیے کہ میں تم سے اس دین پر کسی قسم کی اجرت طلب نہیں کرتا“ ان ہی تعلیمات کے تناظر میں متقدمین علما

کالم نگار : ڈاکٹر مولانا اکرام اللہ جان قاسمی
| | |
36