(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمداکرم ندوی،آکسفورڈ

ڈاکٹرمولانامحمداکرم ندوی،آکسفورڈ

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
موسیقی ،ایک سنجیدہ علمی کاوش
آسٹریلیا کے حالیہ سفر کے دوران ایک مفتی، حنفی عالم اور امام سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے ایک واقعہ ذکر کیا کہ ایک سفید فام آسٹریلین اسلام کی طرف مائل ہوا اور اس نے اسلام قبول کرنے کے لیے بعض علماء سے رابطہ قائم کیا۔ تاہم اس نے ایک شرط رکھی کہ اسے موسیقی سے محبت ہے اور وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی موسیقی سے اپنا تعلق برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ علماء نے اسے یہ کہہ کر جواب دیا کہ موسیقی حرام ہے، اور اس شرط کے ساتھ تم مسلمان نہیں ہو سکتے۔ یہ بات سن کر مجھے سخت حیرت ہوئی کہ ایک مختلف فیہ فقہی مسئلے کی بنیاد پر ایک انسان کے لیے ہدایت اور نجات کا راستہ کیوں بند کر دیا گیا؟ کیا ان علماء نے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث نہیں پڑھی: "جس نے لا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا، وہ جنت میں جائے گا۔" مجھے اس تشدد پر سخت حیرت ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے خود موسیقی سے کوئی دلچسپی نہیں، البتہ مجھے یہ معلوم ہے کہ ہمارے بہت سے علماء موسیقی کو مباح سمجھتے تھے، بلکہ اسے سیکھتے اور سکھاتے بھی تھے۔

اس سلسلے میں نزہۃ الخواطر میں شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمہ اللہ کے حالات میں یہ عبارت ملتی ہے: "اور ان کو تیر اندازی، گھڑ سواری اور موسیقی میں مہارت تھی۔" بلکہ شاہ صاحب کے تذکرے میں یہاں تک مذکور ہے: "حضرت شاہ عبدالعزیز اس تقویٰ اور طہارت پر ہندوستانی موسیقی کی ارتھ ودیا کو ایسا جانتے تھے کہ جب گویوں میں ... جھگڑا ہوتا تھا جو شاہ صاحب کی خدمت میں آ کر عرض کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ کردیجیے، شاہ صاحب اس تشریح کے ساتھ انہیں سمجھاتے تھے کہ وہ آپ كے قدم جوم لیتے تھے۔" (یہ دلی ہے، ص ۵۲، بحوالہ ناصر نذیر فراق)۔

گزشتہ ماہ شام کے معتبر حنفی عالم، ڈاکٹر محمد انس سرمینی سے ازبکستان میں امام بخاری پر منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران ملاقات ہوئی۔ ان سے میری شناسائی پرانی ہے۔ وہ ایک محقق عالم ہیں۔ دورانِ گفتگو انہوں نے موسیقی کے موضوع پر اپنی ایک کتاب کا حوالہ دیا، جس کا نام ہے: (الفقيه والمعازف)۔ یہ کتاب اسلام میں سماع، غناء اور آلاتِ موسیقی (المعازف) کے مسئلے کا ایک وسیع تاریخی اور فقہی مطالعہ ہے۔ مصنف کا بنیادی سوال یہ ہے کہ مسلم فقہاء اور محدثین نے موسیقی اور سماع کو کس طرح دیکھا، کن دلائل کی بنیاد پر اسے حرام یا مباح قرار دیا، اور مختلف ادوار میں اس مسئلے کے فقہی منہج میں کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مصنف محض کسی ایک فقہی موقف کو بیان نہیں کرتے، بلکہ مختلف صدیوں کے اہلِ علم کے اقوال کو تاریخی تسلسل میں رکھتے ہیں۔ چنانچہ ایک طرف ان علماء کا ذکر آتا ہے جنہوں نے سماع و معازف کی حرمت پر زور دیا، اور دوسری طرف ان اہلِ علم کے دلائل بھی تفصیل سے سامنے آتے ہیں جنہوں نے اصلِ اباحت، فطرت، سماعِ نبوی، عید و نکاح کے مواقع اور بعض صحابہ و تابعین کے آثار سے استدلال کرتے ہوئے غناء یا بعض آلاتِ موسیقی کو جائز قرار دیا۔ مصنف کے نزدیک اس مسئلے کی تاریخ یکساں نہیں رہی۔ ابتدائی دور میں حدیثی نقد اور حرمت کے دلائل زیادہ نمایاں رہے، جبکہ بعد کے ادوار، خصوصاً پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں، فقہی اور صوفیانہ استدلال کے ذریعے اصلِ اباحت کا تصور زیادہ نمایاں ہوا۔ اسی لیے کتاب میں امام غزالی، ابن حزم، ابن القیسرانی اور ابن العربی جیسے علماء کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کتاب کے مندرجات میں ابن حزم، ابو حامد غزالی، احمد غزالی، محمد بن طاہر ابن القیسرانی، ابن قدامہ اور محمد شمس الدین منبجی وغیرہ کے الگ الگ مواقف کا ذکر ہے۔

۱۔ امام ابن حزم: اصلِ اباحت اور حدیثی نقد:
کتاب میں امام ابن حزمؒ کو موسیقی کی اباحت کے موقف کے ایک نہایت اہم نمائندے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کے بیان کے مطابق ابن حزم نے سماع، غناء اور معازف پر تفصیلی فقہی بحث کی اور غناء کو مطلقاً جائز قرار دیا، خواہ اس کے ساتھ آلاتِ موسیقی ہوں یا نہ ہوں، اور مرد و عورت کے غناء میں بھی اس اعتبار سے کوئی بنیادی فرق نہیں رکھا۔

ابن حزم کا بنیادی منہج یہ ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے، جب تک کسی چیز کی حرمت پر معتبر اور واضح دلیل موجود نہ ہو۔ اسی بنیاد پر انہوں نے موسیقی کی حرمت میں پیش کیے جانے والے احادیثی دلائل کا سخت حدیثی نقد کیا۔ خصوصاً حدیثِ معازف – جس میں خمر، ریشم اور معازف کا ذکر آتا ہے – کے بارے میں انہوں نے سند پر متعدد اعتراضات کیے۔ ان کے اہم اعتراضات میں یہ بات شامل تھی کہ صحیح بخاری میں روایت معلّق انداز سے آئی ہے، نیز راویوں اور صحابی کے تعین سے متعلق بعض اشکالات بھی انہوں نے ذکر کیے۔ کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ بعد کے محدثین نے ابن حزم کے ان اعتراضات کو قبول نہیں کیا اور حدیث کے اتصال اور طرق کی صحت کے بارے میں ان سے اختلاف کیا۔

ابن حزم نے صرف احادیثِ حرمت کو رد کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جواز کے مثبت دلائل بھی پیش کیے۔ مثلاً حضرت عائشہؓ کی روایت میں دو بچیوں کے گانے، حبشیوں کے مسجد میں کھیلنے اور گانے، عید و شادی کے مواقع پر غناء کی اجازت اور بعض صحابہ کے عود سننے سے متعلق روایات کو انہوں نے سماع کی اباحت کے مؤیدات کے طور پر پیش کیا۔ ان کا ایک اہم استدلال یہ بھی تھا کہ قرآن میں "لَہْوَ الْحَدِیثِ" کو لازماً غناء قرار دینا درست نہیں؛ لہٰذا محض اس آیت کی بنیاد پر موسیقی کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

۲۔ امام ابو حامد غزالی: مطلق اباحت نہیں بلکہ مشروط اباحت:
کتاب میں امام ابو حامد غزالی کا موقف نہایت باریک اور اصولی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک سماع اور موسیقی کی اصل حیثیت یہ نہیں کہ وہ بذاتِ خود حرام ہوں؛ بلکہ ان کا حکم ان کے مقصد، مضمون، موقع، سننے والے کی کیفیت اور نتیجے کے اعتبار سے بدل سکتا ہے۔

غزالی نے انسانی فطرت اور حسنِ صوت کو اہم بنیاد بنایا۔ ان کے نزدیک خوبصورت آواز سے طبعی طور پر متاثر ہونا انسانی فطرت کا حصہ ہے؛ اس لیے محض خوبصورت آواز یا خوش آہنگی کو حرام قرار دینے کے لیے مستقل شرعی دلیل درکار ہوگی۔ وہ انسانی آواز اور آلاتِ موسیقی کے درمیان بھی ایک اصولی ربط قائم کرتے ہیں: اگر پرندوں کی خوبصورت آواز سننا بذاتِ خود ممنوع نہیں تو محض اس بنیاد پر انسانی یا مصنوعی صوت کو حرام قرار دینا آسان نہیں۔

لیکن غزالی کی اباحت بے قید نہیں۔ کتاب کے مطابق وہ بعض آلات کو اس لیے ممنوع قرار دیتے ہیں کہ ان کے زمانے میں وہ اہلِ فسق، شراب نوشی اور فحش مجالس کی علامت بن چکے تھے۔ چنانچہ ان کے ہاں بعض آلات کی حرمت ذاتی نہیں بلکہ ایک اضافی وصف کی وجہ سے ہے۔

اسی اصول پر وہ غناء اور موسیقی کو پانچ بنیادی موانع سے متاثر سمجھتے ہیں:

(۱) سننے والا ایسا عام شخص ہو جس پر شہوت غالب ہو اور وہ سماع کے اثر سے گناہ کی طرف کھنچ جائے۔ (۲) سماع اتنا زیادہ ہو کہ فرائض، عبادات یا ضروری ذمہ داریوں سے غافل کر دے۔ (۳) گانے کے الفاظ فحش، شہوانی یا گناہ پر مشتمل ہوں۔ (۴) عورت کی آواز ایسی صورت میں ہو جہاں فتنہ کا اندیشہ پیدا ہو۔ (۵) آلات ایسے ہوں جو فسق و فجور کی مجالس کی علامت بن چکے ہوں۔

اس طرح غزالی کے نزدیک اصل سوال صرف یہ نہیں کہ "موسیقی ہے یا نہیں؟" بلکہ یہ بھی ہے کہ: "کس موسیقی کو، کون، کس مقصد سے، کس ماحول میں اور کس نتیجے کے ساتھ سن رہا ہے؟" یہی وجہ ہے کہ کتاب غزالی کے موقف کو ایک مشروط فقہی اباحت کے طور پر پیش کرتی ہے، نہ کہ ہر قسم کی موسیقی کے غیر مشروط جواز کے طور پر۔

۳۔ احمد غزالی: سماع کی وسیع تر اباحت:
احمد غزالی نے اپنے بھائی ابو حامد غزالی سے بھی زیادہ پُرجوش انداز میں سماع کے جواز کا دفاع کیا۔ کتاب کے مطابق انہوں نے صوفیانہ طریقۂ سماع کو اختیار کرتے ہوئے اس کی اباحت کی، بلکہ اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا۔ ان کا استدلال حضرت عائشہؓ کی روایت میں موجود گانے والی بچیوں، حبشیوں کے کھیل، شادی کے مواقع پر غناء وغیرہ سے تھا۔ وہ ان روایات کو صرف مخصوص مواقع تک محدود کرنے کے بجائے ان سے سماع کے عمومی جواز کی طرف استدلال کرتے ہیں۔

البتہ مصنف ان کے بعض استدلالات پر سخت تنقید بھی کرتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ احمد غزالی بعض اوقات مطلق سماع اور غناء و معازف کے درمیان فرق پوری طرح برقرار نہیں رکھتے۔ ان کا موقف ابن حزم کے مقابلے میں زیادہ جدلیاتی اور صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ احمد غزالی نے سماع کے منکر کو کافر اور تارکِ سماع کو فاسق قرار دینے تک سخت موقف اختیار کیا، جسے مصنف ضعیف اور متعسف استدلال قرار دیتا ہے۔ اس لیے احمد غزالی کے موقف سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ تمام اہلِ علم نے اسی شدت کے ساتھ موسیقی کو جائز قرار دیا تھا۔

۴۔ محمد بن طاہر ابن القیسَرانی: معازف کے دفاع میں تفصیلی حدیثی بحث:
ابن القیسَرانی نے اپنی کتاب (السماع) میں غناء اور آلاتِ موسیقی کے دفاع کا نسبتاً مستقل اور تفصیلی منہج اختیار کیا۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے صرف اصلِ اباحت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حرمت کے لیے پیش کی جانے والی متعدد احادیث کا سندی اور متنی تجزیہ کیا۔ مصنف کے مطابق انہوں نے تقریباً تئیس احادیث کو زیرِ بحث لایا جو معازف کی حرمت کے لیے پیش کی جاتی تھیں، اور ان میں متعدد پر جرح کی۔

انہوں نے دف کو خصوصی طور پر جائز آلات میں شمار کیا، اور شادی و نکاح کے اعلان کے ساتھ دف کے استعمال کو جواز کی دلیل بنایا۔ اسی طرح انہوں نے یہ اصول پیش کیا کہ کسی چیز کو حرام قرار دینے کے لیے محض اس کا بعض مجالس میں استعمال کافی نہیں، بلکہ شرعی دلیل درکار ہے۔ تاہم ابن القیسَرانی کے موقف پر بعد کے علماء نے شدید تنقید کی۔ کتاب میں ابن المجد، ذہبی اور ابن حجر وغیرہ کے اعتراضات کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا موقف اسلامی فقہی روایت میں موجود تو تھا، مگر اسے اجماعی یا بے اختلاف موقف نہیں سمجھا جا سکتا۔

۵۔ ابن العربی المالکی: غناء و معازف کی اجازت، مگر فواحش سے الگ:
کتاب میں ابن العربی المالکی کو بھی موسیقی کی اباحت کے نمایاں فقہاء میں شمار کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں مصنف لکھتا ہے کہ انہوں نے متعدد مقامات پر غناء اور معازف کے جواز کی صراحت کی۔ ان کے نزدیک محض غناء حرام نہیں؛ نبی ﷺ کے گھر میں غناء کے وقوع اور اسے مطلقاً منع نہ کیے جانے سے وہ جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ البتہ وہ ایک نہایت اہم فرق قائم کرتے ہیں: غناء یا موسیقی ایک چیز ہے، اور اس کے ساتھ فحش، بے حیائی، اختلاطِ حرام یا دوسرے ممنوعات کا شامل ہونا دوسری چیز۔

چنانچہ اگر موسیقی کے ساتھ عورتوں کا بے پردہ ہونا، مرد و زن کا ناجائز اختلاط، فحش کلام یا دوسرے شرعی محرمات شامل ہو جائیں تو حرمت ان اضافی امور کی وجہ سے آئے گی۔ اسی طرح ابن العربی کے ہاں دوام اور استرسال بھی اہم ہے۔ وہ عید، شادی، مسافر یا محبوب کی آمد جیسے مواقع پر رخصت کے قائل ہیں، لیکن کسی مباح مشغلے میں اس حد تک ڈوب جانا کہ وہ مستقل معمول بن جائے اور واجبات سے غافل کرے، ناپسندیدہ ہے۔ یہ موقف غزالیؒ کے اصول سے کافی قریب ہے: اصل چیز کو اس کے عوارض سے الگ کرکے دیکھنا، پھر عارضی اور حرام اوصاف کی موجودگی میں حکم تبدیل کرنا۔

۶۔ ایک اہم فقہی نتیجہ:
کتاب کا سب سے اہم علمی نتیجہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ "موسیقی جائز ہے یا حرام؟" اس سوال کو ایک سادہ دو ٹوک قضیے کے طور پر پیش کرنا تاریخی فقہی روایت کی پوری پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتا۔ جواز کے قائل اہلِ علم میں بھی کئی درجے ہیں:

• ابن حزم: غناء اور معازف کے جواز کے بارے میں نہایت وسیع، بلکہ تقریباً مطلق موقف۔

• ابن القیسَرانی: معازف کے جواز کا دفاع اور احادیثِ حرمت پر تفصیلی نقد۔

• ابن العربی: غناء و بعض معازف کی اجازت، مگر فحش اور حرام عوارض کے ساتھ سخت ممانعت۔

• امام غزالی: اصلِ سماع و غناء کی اباحت، مگر شخص، مقصد، کلام، ماحول، آلہ اور نتیجے کے لحاظ سے متعدد پابندیاں۔

• احمد غزالی: صوفیانہ سماع کی زیادہ وسیع اباحت، اگرچہ مصنف ان کے بعض استدلالات کو کمزور قرار دیتا ہے۔

اس لیے ان علماء کی طرف "موسیقی کی اجازت" منسوب کرتے وقت یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ان کے ہاں جواز کی ایک فقہی روایت موجود ہے، مگر اس روایت کے اندر بھی مطلق، مشروط، موقعی اور شخصی اباحت کے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔

کتاب کا مجموعی پیغام:

کتاب بنیادی طور پر یہ دکھاتی ہے کہ سماع و موسیقی کا مسئلہ اسلامی علمی تاریخ میں ہمیشہ یکساں نہیں رہا۔ مختلف ادوار میں حدیثی، فقہی، اصولی، صوفیانہ اور سماجی عوامل نے اس مسئلے کی تعبیر کو متاثر کیا۔ خصوصاً چھٹی صدی ہجری کے قریب، مصنف کے مطابق، بحث کا مرکز محض حرمت کے نصوص سے منتقل ہو کر اصلِ اباحت، فطرت، مقصد، عرف اور اثرِ سماع کی طرف زیادہ نمایاں ہوا۔

یوں کتاب کا اصل علمی فائدہ یہ ہے کہ وہ قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ موسیقی کے مسئلے میں فقہی اختلاف حقیقی اور قدیم ہے، اور جواز کے قائل علماء بھی اپنے اپنے اصول، شرائط اور حدود رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک موقف کو پوری اسلامی فقہی روایت کا واحد اور متفق علیہ موقف قرار دینا تاریخی اعتبار سے محتاط طرزِ بیان نہیں ہوگا۔

اور شاید اسی پس منظر میں آسٹریلیا میں پیش آنے والا مذکورہ واقعہ زیادہ غور طلب بن جاتا ہے: اگر ایک شخص اسلام کی طرف اس قدر مائل ہو کہ وہ مسلمان ہونے کے لیے علماء سے رجوع کرے، مگر ایک ایسے مسئلے میں جس میں خود امت کے معتبر اہلِ علم کے درمیان قدیم فقہی اختلاف موجود ہو، اسے اسلام قبول کرنے سے روک دیا جائے، تو کم از کم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی مختلف فیہ فقہی مسئلے کو اسلام میں داخل ہونے کی بنیادی شرط بنا دینا حکمتِ دعوت اور اسلام کی وسعتِ رحمت کے مطابق ہے؟

یہ سوال موسیقی کی ترغیب یا اس کے استعمال کی دعوت نہیں، بلکہ فقہی اختلاف کی حدود، دعوت کے اسلوب اور اسلام قبول کرنے کے بنیادی تقاضوں کے بارے میں ایک سنجیدہ علمی سوال ہے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمداکرم ندوی،آکسفورڈ
| | |
28