شیخ الحدیث مولانا زبیراحمد صدیقیؔ مدیر جامعہ فاروقیہ پرانا ملتان روڈ شجاع آباد
پروفائل | تمام کالمزسیدنا سلیمان علیہ السلام کے ان عناصرِ تفوّق پر غور کرنے کی ضرورت ہے، چنانچہ سورۃ میں مذکور واقعات میں ہمارے لیے پیغام ہے، ہر قصہ میں الگ پیغام ہے، ذیل میں ایک کامیاب ریاست کے اصول قرآن کریم کی روشنی میں پیشِ خدمت ہیں: 1) علم کی اہمیت : "وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا"(النمل: 15) ترجمہ: اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطاء کیا۔
مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ علم کے بغیر ترقی ممکن نہیں؛ لہذا کسی بھی مسلمان کے لیے اسلام کی خدمت اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک وہ علم میں کمال حاصل نہ کر لے، یہ اسلام کا بڑا پیغام ہے۔ "وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ" (النمل: 15) ترجمہ: اور انہوں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔
ان حضرات کی فضیلت کس چیز سے تھی؟ علم کے ساتھ، علم پر شکر باعثِ فضیلت ہے، علم امتحانات میں بددیانتی کر کے ڈگریاں حاصل کرنے سے حاصل نہیں ہوتا، نہ اس سے ترقی نصیب ہوتی ہے، نہ ہی اس سے امت باقی امتوں کے سے ممتاز ہو سکتی ہے، بلکہ حقیقی علم کے ساتھ امتیاز نصیب ہوتا ہے۔ 2) علم کی نسلوں میں منتقلی : "وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ" (النمل: 16) ترجمہ: اور سلیمان کو داؤد کی وراثت ملی۔ علم ایک نسل تک محدود نہ رہے، اس علم کو اگلی نسلوں میں منتقل ہونا چاہیے، علم کی حفاظت کرنی چاہیے؛ تاکہ قوموں میں آگے جانے کا یہ سبب باقی رہے۔ 3) زبانوں اور بولیوں کی حفاظت : "وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ" (النمل: 16) ترجمہ: اور انہو ں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ اپنے زمانہ کے لوگوں کی زبانیں اور بولیوں کو سیکھ کر ترقی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، اس سے دوسری اقوام کے ساتھ اشتراک عمل پیدا ہوگا۔ 4) وسائل کی فراوانی : "وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ- اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ"(النمل: 16) ترجمہ: اور ہمیں ہر (ضرورت کی) چیز عطاء کی گئی ہے۔ یقیناً یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کی ریاست، اسباب و وسائل سے بھرپور تھی؛ لہذا حصولِ اسباب کی کوشش کی جائے اور اسباب کی حفاظت پر توجہ دی جائے۔ 5) حسن انتظام : "وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ" (النمل: 17) ترجمہ: اور سلیمان کے لیے ان کے سارے لشکر جمع کردیے گئے تھے جو جنات، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، چنانچہ انہیں قابو میں رکھا جاتا تھا۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کی مختلف اجناس کی مخلوقات پر مشتمل عظیم مملکت، بلکہ مختلف و متعدد کائناتوں پر مشتمل مملکت، جس میں انس، جن، طیور، وحوش وغیرہ جمع تھیں، ایک بہترین نظام اور حسنِ تدبیر کے ساتھ قائم تھی۔ لفظ: "حُشِرَ" اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ مختلف اجناس کے بڑے بڑے لشکر اور گروہ تھے، جن میں خاص نظم قائم تھا اور "فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ" کا جملہ اشارہ کر رہا ہے: ان مخلوقات میں کام تقسیم کیا گیا تھا، ہر ایک جنس اپنا ذمیہ کام پورا کرتی تھی ۔ 6) امتحان : سیدنا سلیمان علیہ السلام کے اس سفر کا جو وادی نمل کی جانب تھا، سلیمان علیہ السلام اور ان کی ریاست و مملکت سے کیا تعلق ہے؟دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ ہر شرکت میں افراد کی تدریب ہوتی ہے، سیدنا سلیمان علیہ السلام افراد کی تدریب فرماتے اور ان کو زمین میں مختلف مقامات پر منتقل فرماتے، ان کی خبر گیری فرماتے، چنانچہ سیدنا سلیمان علیہ السلام اپنے سفر کے دوران چیونٹیوں کی وادی پر گزرے ،تو ان کی باہمی گفتگو کو سماعت فرمایا:"قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ-لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗۙ-وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ" (الشعراء: 18) ترجمہ: ایک چیونٹی نے کہا : چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پیس ڈالے، اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ 7) نظم و ضبط اور ہوشیاری : سیدنا سلیمان علیہ السلام کے قصہ میں نظم و ضبط، ہوشیاری اور مستعدی نظر آتی ہے، چنانچہ ان کی سلطنت میں انسان تو انسان، جانوروں اور پرندوں کی بھی حاضریوں کا نظم تھا؛ تاکہ معلوم ہو کہ کون موجود ہے اور کون غائب ہے، چنانچہ فرمایا:وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَا اَرَى الْهُدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ* لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(النمل: 20-21) ترجمہ: اور انہوں نے (ایک مرتبہ) پرندوں کی حاضری لی تو کہا : کیا بات ہے، مجھے ہدہد نظر نہیں آرہا، کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟ میں اسے سخت سزا دوں گا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، الا یہ کہ وہ میرے سامنے کوئی واضح وجہ پیش کرے۔ مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کے متعلق صرف سوال ہی نہیں فرمایا، بلکہ باقاعدہ حاضری لی، اس سے ان کے ہاں رائج مضبوط نظام اور خبرگیری کا اندازہ ہوتا ہے، حالانکہ ہدہدچھوٹا سا پرندہ ہے، لشکر کی قوت میں اس کا کوئی خاص عمل دخل بھی نہیں، لیکن اس کی غیر حاضری نظم و ضبط میں خلل ڈال سکتی ہے، اس لیے اس شعبہ کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ 8) افراد کی پیغام رسانی :
پھر اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے:وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ(النمل: 23) اے کاش اس امت میں ایک ہزار ہدہد ہوتے، جو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے، تو دنیا میں انقلاب برپا ہو جاتا۔ 9) پیغام رسانی میں دقت اور تحقیق : سیدنا سلیمان علیہ السلام اور هدهد کے اس مکالمہ میں تحقیق اور خبروں کی باریک بینی سے دیکھنے کا پہلو بھی موجود ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(النمل: 27) ترجمہ: سلیمان نے کہا : ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولنے والوں میں تم بھی شامل ہوگئے ہو۔ باوجودیکہ یہ خبر دینے سے قبل ہدہد نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو آگاہ کر دیا تھا:وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ(النمل: 22) اس کے باوجود ارشاد فرمایا: ہم آپ کی خبر کی تحقیق کریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اس ادارہ، جو کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتا ہے، اس کی پالیسی صاف اور غیر جانبدارانہ اطلاعات ہونا ضروری ہے، اس لیے سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ان کی جانب خط ارسال فرمایا: اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ(النمل: 28) ترجمہ: میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں۔
اس خط کے ذریعے سیدنا سلیمان علیہ السلام تجربہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ قوم کس قدر علم رکھتی ہے، کتنی منظم ہے؟ اے کاش! یہ امت بھی اس واقعہ سے سبق حاصل کرے۔ 10) شوریٰ قیادت کا بڑا ہتھیار ہے: دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ ملکہ سبا اور اس کی قوم کی نجات کا ذریعہ ان کی شوریٰ بن گئی، ملکہ سبا کوئی بھی معاملہ، شوریٰ میں پیش کیے بغیر سرانجام نہیں دیتی تھی:قَالَتْ یٰاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْ اَمْرِیْ- مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ(النمل: 32) ترجمہ: ملکہ نے کہا : قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے اس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلہ کا حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔
باوجودیکہ ملکہ سبا کی سلطنت اللہ تعالیٰ کے دین پر نہ تھی، لیکن انہوں نے وہ اسباب اختیار کیے، جو نجات اور کامیابی کے اسباب ہیں، مثلا شوریٰ، دوسروں کی رائے کو قبول کرنا وغیرہ۔ شوریٰ کے لوگوں نے کیا کہا؟
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ (النمل: 33) ترجمہ: انہوں نے کہا : ہم طاقتور اور ڈٹ کر لڑنے والے لوگ ہیں، آگے معاملہ آپ کے سپرد ہے، اب آپ دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔ اس کی شوری کی کوئی رائے نہ تھی، جبکہ ہدہد مضبوط رائے رکھتا تھا، اس وجہ سے یہ قضیہ پیدا ہوا، اس نے کہا تھا:فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ(النمل: 22) شوریٰ کی بنیاد یہی ہے کہ شوری ذی ر ائے ہو اور امیر کے فیصلہ کی پابند ہو: وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ (النمل: 33) نبوی ﷺ مزاج :
ملکہ سبا سے قبل اس کے عرش کی حاضری! سیدنا سلیمان علیہ السلام کو جب اطلاع ملی کہ ملکہ سبا ان کے پاس مذاکرات کے لیے ا ٓرہی ہے، تو آپ نے اپنے لشکروں سے اس کا تخت فوری منگوانے کا تقاضا فرمایا: قَالَ یٰاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(النمل: 38) ترجمہ: سلیمان نے کہا : اے اہل دربار ! تم میں سے کون ہے جو اس عورت کا تخت ان کے تابع دار بن کر آنے سے پہلے ہی میرے پاس لے آئے ؟
لشکر کے دو سپاہی: عفریت جن اور اسم اعظم جاننے والا عالم کھڑے ہوئے، دونوں جلدی سے جلدی یہ تخت لانا چاہتے تھے، انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی یا علم یا عمل استعمال کیا، کہ زمین میں یہ کسی اور کے پاس نہ تھا اور آنکھ جھپکنے کی دیر میں کتاب کا علم رکھنے والے شخص نے عرش لا کر رکھ دیا، جسے سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فورا متغیر کرنے کا حکم دیا، ملکہ سبا پہنچی تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس سے فوراً سوال فرمایا: "اَهٰكَذَا عَرْشُكِ" کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے نہایت ہوشیاری اور ذکاوت سے جواب دیا:"قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ" کہنی لگی: ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل وہی ہے۔یہ جواب ڈپلومیسی والا جواب ہے، یہ بھی نہیں کہا کہ وہی ہے اور یہ بھی نہیں کہا کہ وہ نہیں ہے؛ تاکہ وہ جھوٹی ثابت نہ ہو، یہی چیزیں اس کی حیرانگی اور قبول سلام کا ذریعہ بن گئیں۔ ملکہ سبا کا "علم کے بادشاہ" کے ہاتھ پر قبول اسلام: سورۃ کی آیت نمبر 44 اس قصہ کی آخری آیت ہے اور پورے قصہ کا خلاصہ ہے:قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَۚ-فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا-قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ-قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(النمل: 44) ترجمہ: اس سے کہا گیا کہ : اس محل میں داخل ہوجاؤ ! اس نے جو دیکھا تو یہ سمجھی کہ یہ پانی ہے، اس لیے اس نے (پائینچے چڑھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا کہ : یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے۔ ملکہ بول اٹھی : میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ میں نے (اب تک) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبرداری قبول کرلی ہے۔ دراصل شیشے کا یہ محل پانی پر تھا اوپر بالکل شفاف شیشہ تھا، اس نے پانی کے ڈر سے اپنی پنڈلی سے کپڑا اٹھا لیا، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:"اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ" یہ غیر معمولی ٹیکنالوجی کا استعمال تھا، جس کے ذریعے پانی اور محل کی تعمیر کی گئی، ملکہ سبا اس ٹیکنالوجی اور علمی تفوق کا مقابلہ نہ کر سکی، تو فوراً مسلمان ہو گئی اور اسلام کا یوں اعلان کیا:قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(النمل: 44) تہذیبی ترقی کے عناصر : تہذیبی ترقی کے اسباب کو اگر مختصر انداز میں ذکر کریں، تو وہ درج ذیل ہیں: 1- بلند ہدف : سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ارشاد سے یہ بخوبی معلوم ہوتا ہے:قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ(النمل: 19) ترجمہ: کہنے لگے : میرے پر ورگار ! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ لِیَبْلُوَنِیْ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ- وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(النمل: 40) ترجمہ: یہ میرے پروردگار کا فضل ہے؛ تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےنیاز ہے، کریم ہے۔سیدنا سلیمان علیہ السلام کا شکر ان نعمتوں کی تسخیر پر تھا؛ تاکہ ایمان کی تبلیغ کے لیے اسے استعمال کر سکیں۔ 2- علم : تہذیبی ترقی کا ایک سبب علم ہے، ارشاد فرمایا: وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا(النمل: 15) علم کے بغیر کوئی تہذیب قائم نہیں ہوتی، اس لیے علمی تفوق اور اس علم کی اہمیت کا ہونا ضروری ہے۔ 3- ٹیکنالوجی : ارشاد فرمایا:فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا(النمل: 44) 4- عسکری قوت :
چیونٹی لشکر کی آمد پر ٹھہر گئی اور بجائے اپنی جان بچا کر بھاگنے کے ٹھہر گئی اور دوسروں کی جان کے لیے فکر مند ہو کر انہیں خطرہ سے آگاہ کیا، اسےقوم کی حیات اپنی حیات سے زیادہ بہتر لگی، صرف یہی نہیں بلکہ اس کا خطاب، قیادت اور تنظیم کی جانب اشارہ بھی کرنا ہے، اس نے خطرہ سے آگاہی سے قبل خطرہ سے بچاؤ کا طریقہ بتایا: "ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ"، اس کے بعد خطرہ اور مشکل سے آگاہ کیا: "لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ"۔ عام طور پر لوگ خطرات کے موقع پر دوسروں کی پرواہ اور سوچے سمجھے بغیر بھاگ پڑتے ہیں، جس سے مزید خطرات جنم لیتے ہیں، اس لیے ایسے موقع پر ایسے راہبر کی ضرورت ہوتی ہے، جو لوگوں کو مشکلات اور خطرات سے نکلنے کا حل بتائے، پھر مشکلات سے آگاہ کرے، تو لوگ اس کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام اعلیٰ صفات کے حامل تھے، ان سے نقصان کا اندیشہ نہ تھا، اس لیے چیونٹی نے "وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ"کا جملہ کہا۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام اس چیونٹی کی گفتگو سن کر اس لیے مسکرا پڑے کہ چھوٹی سی چیونٹی میں کس قدر قیادت کی اہلیت و صلاحیت موجود ہے، یہی تہذیبی ترقی کا عنوان ہے۔
کالم نگار : شیخ الحدیث مولانا زبیراحمد صدیقیؔ مدیر جامعہ فاروقیہ پرانا ملتان روڈ شجاع آباد