(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
پاکستان : ایک نظریاتی مملکت
مکہ جوائنٹ ایگریمنٹ کے لئے جس مقام کا انتخاب کیا گیا، وہ محض ایک جغرافیائی انتخاب نہیں ہے، بلکہ اپنے اندر ایک گہرا نظریاتی پیغام بھی رکھتا ہے، ایک طرف صفا پہاڑی ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد سب سے پہلے علانیہ طور پر توحید و رسالت کی دعوت پیش فرمائی اور اسلام کے نظریہ "عبدیت" کو اہلِ مکہ کے سامنے واضح کیا، دوسری طرف غارِ حرا ہے، جہاں سے "اقرأ" کے ذریعے علم و ہدایت کا آغاز ہوا اور جاہلیت کے باطل تصورات اور فاسد رسومات کے مقابلہ میں اسلام کا نظریہ "تعلیم" سامنے آیا، تیسری طرف مسجدِ فتح ہے، جو فتحِ مکہ کے تاریخی پیغام کی یاد دلاتی ہے کہ بالآخر غلبہ نظریہ "حق" کو ہی ملتا ہے اور دین اسلام ہی "امن اور رحمت" کا ضامن ہے، چوتھی طرف منیٰ و عرفات کی وہ وادیاں ہیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے اقوام عالم کو قیامت تک کے لئے "عالمی چارٹر" اور "دستورِ حیات" دیا کہ یہ وہ "مِلّی نظریہ" ہے جس میں انسانیت کو وحدت، مساوات، حرمتِ جان حرمت مال اور انسانی حقوق کا عالمی پیغام ملتا ہے۔

یہ پورا ماحول خود اسلام کے اس عالمگیر پیغام کی یاد تازہ کرتا ہے جس کی بنیاد توحید، عبدیت، تعلیم، علم، عدل، دفاع، امن اور انسانی حرمت پر قائم ہے۔

سعودی عرب ???????? ارضِ حرمین شریفین کی نسبت سے اسلامی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جبکہ ترکیہ ???????? کی تاریخ میں چھ صدیوں پر محیط خلافتِ عثمانیہ اور اسلامی تہذیب و روایات کی ایک گہری میراث موجود ہے، ایسے دو ممالک کا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں قریب آنا، بلاشبہ، خطہ کے لئے اہم پیش رفت ہے۔

سو پاکستان ایک "نظریاتی ریاست" ہے جس کی بنیاد "کلمہ طیبہ کے تقاضوں" پر قائم ہے، اس کی نظریاتی حیثیت کا اصل پس منظر تحریکِ آزادی سے تحریکِ پاکستان تک، قراردادِ مقاصد سے آئینی دستاویزات تک، اور قیامِ پاکستان کے تاریخی محرکات سے بانیانِ وطن کے بیانات و خطبات تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ دفاعی معاہدہ بھی اس موجودہ نظریاتی تعلق اور اسلامی دنیا کے ساتھ پاکستان کی قربت کو نمایاں کررہا ہے۔

لہٰذا جو شخص پاکستان کو اس کی تاریخی اور آئینی بنیادوں سے کاٹ کر محض ایک لبرل یا سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، اسے تاریخِ پاکستان کا مطالعہ ازسرِنو کرنا چاہیے۔

پاکستان کی شناخت صرف جغرافیہ نہیں ہے بلکہ ایک نظریاتی وطن اور تہذیبی شناخت بھی ہے۔

اب ایک سوال تو بنتا ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں نظریاتی کشمکش کیوں ہے ؟ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو وطنِ عزیز کو نظریاتی اور اسلامی مملکت سمجھتے ہیں، اس کے قیام کے مقصد و محرکات کو مانتے ہیں اور وہ اس کے نظریہ کے محافظ ہیں؛ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو اس کی نظریاتی بنیاد سے الگ کرکے ایک محض لبرل یا سیکولر ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس کے دو بڑے مظاہر نظر آتے ہیں:

① پاکستان کو آزاد نہ سمجھنا:
جو لوگ نظریہ پاکستان کے حامی نہیں ہیں، انہیں پاکستان کی آزادی بھی ادھوری محسوس ہوتی ہے، کیونکہ انہیں آزادی سے مراد اغیار والی آزادی چاہیئے؛ اسلام کی پابندی، شریعت کی حدود اور دینی اقدار انہیں آزادی کی راہ میں رکاوٹ نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خواہشات، الحاد اور بے دینی کا غلام ہو، اسے اسلامی حدود کے اندر آزادی بھی غلامی محسوس ہوتی ہے۔

② وطن کی ناشکری کرتے رہنا:
پھر یہی ذہنیت وطن کی نعمتوں اور کامیابیوں کو دیکھنے کے بجائے ہر وقت اس کے عیوب تلاش کرتی ہے، وطن کا وقار ہو، کامیابی ہو، عزت ہو یا کوئی نعمت، نگاہ صرف خامی پر ہوتی ہے، زبان پر شکوہ ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر منفی تصویر۔

بھائی! جب آپ کو اسلام سے آزادی چاہیے تھی، اسلامی اقدار کی پابندی سے نکلنا تھا اور یہاں وہ مطلوبہ آزادی نہیں مل رہی تو رونا تو بنتا ہے!

ایسے پیاروں سے بس اتنی سی عرض ہے: اگر آپ خود کو آزاد نہیں سمجھتے تو پڑوسی ملک تشریف لے جائیے، وہاں کی غلامانہ آزادی آپ کو مبارک! پھر شاید معلوم ہو کہ آزادی صرف خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں ہے اور غلامی صرف ہتھکڑی کا نام نہیں ہے۔

ہمیں ایسی آزادی مبارک ہے جس میں اللہ کی بندگی ہو، اپنی تہذیب کی حفاظت ہو اور وطن، اپنے نظریہ کے ساتھ زندہ ہو۔پاکستان زندہ باد! ????????

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
27     1