(+92) 319 4080233
کالم نگار

طارق علی عباسی

طارق علی عباسی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
علامہ سید سلیمان ندویؒ اور پاکستان
علامہ سید سلیمان ندویؒ کی شخصیت، ان کی علمی عظمت اور قومی و ملی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں، مگر پاکستان کے بانی اور تحریکِ پاکستان کے تعلق سے ان کی فکری تائیدات اور عملی اعانت سے لوگوں کو کم واقفیت ہے، اس لیے ان کے اس رخ کی جلوہ نمائی انتہائی ضروری ہے۔
قائدِ اعظم کی بصیرت اور دور اندیشی کو پہچاننا:
حضرت علامہ ندویؒ نے قائد اعظم کی فکری سلامتی اور ان کے ہاتھوں میں ہندی مسلمانوں کے تحفظ کا سامان ہونے کو بالکل ابتدا ہی میں محسوس کرلیا تھا، جب کہ وہ قائد اعظم، بلکہ جناح بھی نہ بنے تھے، بلکہ محض بیرسٹر محمد علی جناح تھے۔ حضرت علامہؒ مسلم لیگ کے اولین اجلاس منعقدہ 1915ء (بمبئی) میں شریک رہے، اس وقت حضرت علامہؒ نے قائد اعظم کے فاتحانہ عزم کو معلوم کرلیا تھا اور چند شعر موزوں فرمائے تھے، ان میں یہ بھی شامل ہے:

ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید

ڈاکٹر اس کا اگر مسٹر علی جینا رہا

جمعیۃ العلماء ہند کا قیام اور گاندھی کا اعتراف:
1919ء میں جب جمعیۃ العلماء ہند کا قیام عمل میں آیا تو مولانا عبد الباری فرنگی محلی، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبدالماجد بدایونی وغیرہ کے ساتھ حضرت علامہؒ بھی اس کے بانیوں میں شامل رہے۔ مہاتما گاندھی نے حضرت علامہؒ کے متعلق کہا تھا: یہ مولوی بڑا چاتر (Shrewd) ہے۔

اسلام کا سیاسی نظام اور اس کی علمی تیاری:
جب مطالبۂ پاکستان نا قابلِ انکار صورت اختیار کرگیا تو فکری و جذبات کا ایسا طوفان اٹھا، جس کی بنیاد اسلامی حکومت کا قیام تھی۔ ایسی حالت میں حضرت علامہؒ کی دور اندیشی، سچی ہمدردی اور پاکستان سے غایت درجہ تعلق کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے نہایت سکون کے ساتھ اپنی نگرانی میں مولانا محمد اسحاق سندیلوی (مرحوم) سے "اسلام کا سیاسی نظام" کے موضوع پر ایک جامع کتاب تالیف کروائی، تاکہ پاکستان کے متوالوں کو جب ارضِ پاک مل جائے اور جذبات سے ہٹ کر ٹھوس کام کرنا پڑے تو انہیں حیرانی و پریشانی نہ رہے۔ یہ حضرت علامہؒ کی پرخلوص علمی و فکری خدمت تھی۔

بورڈ تعلیماتِ اسلامی کی صدارت:
پاکستان بن جانے اور قراردادِ مقاصد منظور ہونے کے بعد اسلامی دستور کی تشکیل کا مرحلہ پیش آیا۔ اگست 1949ء میں دستور ساز اسمبلی سے منسلک ایک بورڈ تعلیماتِ اسلامی تشکیل دیا گیا اور اس کے غائبانہ صدر حضرت علامہؒ قرار پائے۔ ان کی رائے تھی کہ پاکستان جب بن گیا تو اب اس میں اربابِ حکومت سے بات منوانے کا وہ طریقہ جو انگریز حکومت کے زمانے میں اختیار کر رکھا تھا، پاکستان کے لیے مضر ہوگا، دوسری بات یہ تھی کہ وہ اربابِ حکومت سے بھی ایسے پُرامید نہ تھے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، دل سے کرنے کے بھی آرزومند ہیں، ان ہی دو وجوہات کی بنا پر بڑے لیت و لعل کے بعد حضرت علامہؒ نے جون 1950ء میں پاکستان کا قصد کیا۔ لاہور پہنچ کر جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے بورڈ کی صدارت قبول کرلی ہے؟ تو انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ایجاب ہوچکا ہے، قبول باقی ہے۔

لاء کمیشن کا قیام اور حکومتی ٹال مٹول:
کراچی پہنچ کر حضرت علامہؒ نے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے یہ تیقن چاہا کہ دستور بنتے ہی مروجہ قوانین بھی بدل کر اسلامی کردیے جائیں گے اور اس کے لیے ابھی سے ایک لاء کمیشن قائم کیا جائے، جو مروجہ قوانین کی شرعی صورت گری کا کام انجام دے۔ حضرت علامہؒ نے فرمایا کہ یہ کام دستور سے زیادہ اہم ہے، کیوں کہ افرادِ قوم کی روزمرّہ زندگی کا تعلق قوانین سے ہوتا ہے، نہ کہ دستور سے اور قانونِ شریعت ہی کے ذریعہ قومی تعمیر ہوسکتی ہے۔ مرحوم وزیراعظم زبانی وعدوں سے علامہ کو مطمئن کرنا چاہتے تھے، مگر حضرت علامہؒ کا اصرار عملی تیقن پر تھا۔ تقریباً چھ ماہ یہی کشمکش رہی، بالآخر 1950ء کے آخر میں ایک "لاء کمیشن" قائم کیا گیا، جس میں حضرت علامہؒ کے علاوہ جسٹس رشید، جسٹس مبین اور ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین شامل کیے گئے، حضرت علامہؒ نے اپنی طرف سے مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کو بھی اس میں شامل کیا۔

لاء کمیشن کا قیام حضرت علامہؒ کا ایک ٹھوس کارنامہ تھا، مگر اربابِ حکومت نے اس معاملہ میں ٹال مٹول کے روایتی طریقے پوری طرح برتے، تاکہ کام تیزی سے نہ ہوسکے۔ اس سے حضرت علامہؒ کو بڑی مایوسی ہوئی اور ان کے خدشات حقیقت بن کر سامنے آئے، اس لاء کمیشن کو ایک رسمی اور تفریحی حیثیت دے دی گئی اور 22 نومبر 1952ء کو جب حضرت علامہؒ رحلت فرماگئے تو چند ہی دنوں میں حکومت نے اس کمیشن کو برخاست کردیا۔

"بس ہوچکی نماز مصلّا اٹھائیے"
اگر اس وقت قانون سازی کا کام ہوگیا ہوتا اور شرعی قوانین کی تدوین و ترتیب شروع ہوجاتی تو آج پاکستان کا رنگ کچھ اور ہوتا۔

متفقہ دستوری خاکہ اور اتحادِ عالمِ اسلام:
لاء کمیشن کے قیام کے ساتھ حضرت علامہؒ نے دسمبر 1950ء میں تمام مکاتبِ فکر کے 31 علماء کو جمع کرکے محض تین دن میں ایک متفقہ دستوری خاکہ مرتب کرکے حکومت اور عوام کے سامنے پیش کردیا۔ حکومت سے مایوس ہوکر حضرت علامہؒ نے اپنے طور پر فروری 1952ء میں کراچی میں اتحادِ عالمِ اسلام کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد فرمایا، جس میں فلسطین، عراق، ایران اور الجزائر کے جلیل القدر علماء و رہنماؤں نے شرکت کی۔

ملی و قومی یکجہتی کی فکر:
آخر میں بلا تفصیل و تشریح دو ایک اور اہم باتوں کا ذکر ضروری ہے، جن کے لیے حضرت علامہؒ مضطرب رہے۔ علامہ کا خیال تھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد اب یہاں مسلمانوں میں کسی قسم کی طبقاتی کشمکش باقی نہ رہنی چاہیے۔ نہ سیاست کاری میں فرنگی دور کا طرز باقی رہے۔ نہ معیشت میں سرمایہ دار و مزدور کی آویزش رہے نہ میدانِ علم میں انگریزی تعلیم یافتہ اور دینی تعلیم یافتہ میں رقابت رہے۔ نہ مہاجر و غیر مہاجر کا امتیاز باقی رہے۔ حضرت علامہؒ سے مہاجر کنونشن کی (جو کراچی میں قائم تھا) صدارت قبول کرنے پر اصرار اس دلیل کے ساتھ کیا گیا کہ اس کے صدر حضرت مولانا شبیر عثمانیؒ رہ چکے ہیں تو حضرت علامہؒ نے پرزور لہجہ میں جواب دیا کہ وہ ان کی رائے تھی، یہ میری رائے ہے۔ میں پاکستان بننے کے بعد اس قسم کے کنونشن میں خود مہاجرین کے حق میں مہلک سمجھتا ہوں۔

وحدانی نظامِ تعلیم کی خواہش:
دوسری چیز جس کے لیے علامہ بے حد مضطرب رہے اور ہر طبقے کے علماء سے فرداً فرداً اور اجتماعی سطح پر اور حکومت وقت خصوصاً اس کی وزارتِ تعلیمات سے بھی مل کر اس کی اہمیت کو جتلاتے رہے۔ وہ ایک ایسے وحدانی نظامِ تعلیم کی تربیت و تدوین تھی، جو مسلمانانِ پاکستان کی دنیا اور دین دونوں کی کفالت کا ضامن ہو، مگر افسوس کہ کسی سمت سے بھی عملی اقدام کا عزم نہ ابھرا۔ کاش آج بھی اس پر آمادگی پیدا ہوجائے تو یہ پاکستان کا ایک مثالی کارنامہ ہو۔

مسلم ممالک کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات:
تیسری چیز جس پر اسی ابتدائی زمانہ میں علامہ نے زور دیا تھا، وہ مسلم ممالک کے مابین تجارت کا فروغ تھا۔ حضرت علامہؒ کا اصرار تھا کہ آپس کی تجارت خصوصاً بری راستے سے کی جانے والی تجارت کے بہت دور رس نتائج پیدا ہوں گے، اس سے اتحادِ بین المسلمین کو قوت حاصل ہوگی۔ باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا رہے گا اور مختلف مسلم ملکوں کی حکومتوں کے بدلنے سے آپس کے رشتہ میں فرق نہیں آئے گا۔

مقامِ حسرت:
علامہ جیسی ہستیاں ہمیشہ پیدا نہیں ہوتیں، پاکستان میں حضرت علامہؒ کا احترام و اکرام ہر طبقہ نے اس پہلو سے تو بہت کیا، جس کے نہ وہ آرزومند تھے اور نہ جس سے ان کی عظمت میں اضافہ ہوسکتا تھا، مگر افسوس کہ ان کی گہری فکری رہبری، علمی رفعت و وسعت اور خود ان کی شخصیت کے ذاتی وزن سے جو فائدہ اٹھایا جانا چاہیے تھا، وہ اٹھایا نہیں گیا۔

مأخَذ

از: ڈاکٹر غلام محمد صاحب مرحوم(مجلہ خصوصی: سرمایۂ سلیمانیؒ، صفحہ: 28 تا 35)

کالم نگار : طارق علی عباسی
| | |
62