(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
مشاورت، تواضع اور دوسروں کی رائے کا احترام
اسلام کا نظام آمریت، خود پسندی اور انفرادیت پر قائم نہیں ہے، بلکہ مشاورت، باہمی اعتماد اور اجتماعی غور و خوض پر قائم ہے، رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں، آپ پر وحی نازل ہوتی، آپ کا ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتا، اس کے باوجود آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرماتے، ان کی آراء سنتے، ان کے مشوروں کو قبول فرماتے، اور بسا اوقات اپنی رائے کی بجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے کو ترجیح دیتے، یہی نبوی تعلیم ہے کہ وصفِ قیادت کو تکبر و خود رائی سے نہیں بلکہ تواضع و حکمت عملی سے آراستہ کیا جائے۔

آج بہت سے اختلافات اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہر شخص اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھتا ہے، کسی دوسرے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا، اور دوسرے کے مشورے کو اپنی کمزوری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشورہ قبول کرنا کمزوری کی علامت نہیں ہے بلکہ قیادت کی قوت، تواضع کا مظہر اور اعتماد کے اضافہ کی علامت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو حکم فرمایا:﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ﴾ (آل عمران: 159)

"اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیئے، پھر جب فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کیجیئے۔"

یہ آیت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ جیسے معصوم نبی کو بھی مشورے کا حکم دیا گیا ہے تو امت کے کسی فرد کو مشورے سے بے نیاز نہیں سمجھا جاسکتا، یہ امت کی تعلیم کے لئے ہے۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ.(الترمذی : 1714)

"میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔"

یہ روایت بتاتی ہے کہ مشاورت؛ آپ ﷺ کی مستقل عادت تھی، نہ کہ صرف کبھی کبھار کا عمل، نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اپنے اجتماعی معاملات باہمی مشاورت سے طے فرماتے تھے، جیسا کہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔

① مشاورت اور قبولِ رائے:
غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ایک مقام پر لشکر کو ٹہرایا، حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ (م 20ھ) نے ادب کے ساتھ عرض کیا:"يَارَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ هَذَا الْمَنْزِلَ، أَمَنْزِلًا أَنْزَلَكَهُ اللهُ، لَيْسَ لَنَا أَنْ نَتَقَدَّمَهُ وَلَا نَتَأَخَّرَ عَنْهُ، أَمْ هُوَ الرَّأْيُ وَالْحَرْبُ وَالْمَكِيدَةُ؟"

یارسول اللہ! کیا یہ جگہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کی گئی ہے کہ ہم اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے، یا یہ جنگی تدبیر ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:"بَلْ هُوَ الرَّأْيُ وَالْحَرْبُ وَالْمَكِيدَةُ"

یعنی یہ جنگی تدبیر ہے۔

حضرت حبابؓ نے عرض کیا :"یارسولَ اللهِ فإنَّ هذا ليس بمنزلٍ، امضِ بالنّاسِ حتّى نأتي أدنى ماءٍ من القومِ فنُعسكِرَ فيه، ثمَّ نَعورُ ما وراءَه من الآبارِ، ثُمَّ نَبني علَيهِ حوضًا فنملأه ماءً، ثُمَّ نقاتلُ القومَ َفنشربُ ولا يشرَبونَ"(أخرجه محمد بن إسحاق في سيرة ابن هشام : 620/1، البداية والنهاية 82/5 الشاملة)

یعنی اگر ایسا ہے تو بہتر ہوگا کہ ہم دشمن کے قریب اس کنویں پر قبضہ کرلیں جہاں سے پانی کی فراہمی ہمارے اختیار میں رہے، ان کو نہ ملے گا، رسول اللہ ﷺ نے فوراً ان کی رائے قبول فرمائی اور لشکر کو وہاں منتقل کردیا۔

یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ ایک عظیم قائد اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ بہتر رائے کو قبول کر لیتا ہے۔

② اہلِ تجربہ کی رائے سے استفادہ:
جب مدینہ پر دس ہزار کے قریب لشکر نے حملہ کرنے کی تیاری کی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ (م 35ھ) نے عرض کیا:"يارسول الله! إنّا كنّا بأرضِ فارسٍ إذا تخوّفنا الخيل خندقنا علينا"(السيرة النبوية لأبي الحسن الندوي {ص 347} الحكمة ضالة المؤمن - الشاملة)

یارسول اللہ! فارس میں جب ہم پر بڑا لشکر حملہ کرتا تھا تو ہم شہر کے گرد خندق کھود دیتے تھے۔

یہ تجویز عرب میں بالکل نئی تھی، مگر رسول اللہ ﷺ نے فوراً اسے قبول فرمایا، اس مشورہ کی برکت سے مدینہ محفوظ رہا اور دشمن ناکام واپس لوٹا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکمت جہاں سے بھی ملے، اگر شریعت کے خلاف نہ ہو تو اسے قبول کرنا نبوی سنت ہے۔

③ خواتین کی رائے کا احترام اور قبولِ مشورہ:
صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شدید رنج و غم کی کیفیت میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قربانی کرنے اور احرام کھولنے کا حکم دیا، مگر وہ غم کی شدت سے خاموش رہے۔آپ ﷺ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ میں تشریف لے گئے اور صورتحال بیان فرمائی۔انہوں نے عرض کیا:"يارسول الله ! اذهب فانحر هديَك واحلق (وأحل)"(المصنف لإبن أبي شيبة 520/ 20 الشثري - غزوة الحديبية - الشاملة، و راوہ البخاری : 2731)

یارسول اللہ! آپ (کسی سے کچھ کہے بغیر) خود قربانی کر دیجیئے اور سر منڈوا لیجیئے۔

رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کو دیکھا تو سب نے فوراً آپ کی پیروی کی۔یہ واقعہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زوجہ مطہرہ کے مشورے کو بھی قبول فرمایا، اور اس سے ایک بڑا اجتماعی مسئلہ حل ہو گیا۔

???? مشورہ؛ امانت داری:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ."(الترمذی، حدیث: 2822؛ أبو داؤد : 5128)

جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے۔

یعنی مشورہ صرف رائے دینا نہیں ہے بلکہ ایک شرعی امانت ہے، جس میں اخلاص، خیرخواہی اور دیانت ضروری ہے۔

مشاورت کے آداب:
سیرتِ نبوی ﷺ سے چند اہم اصول معلوم ہوتے ہیں:

☆ مشورہ اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور اہلِ تجربہ سے کیا جائے۔

☆ اپنی رائے کو حرفِ آخر نہ سمجھا جائے۔

☆ بہتر دلیل سامنے آ جائے تو اپنی رائے چھوڑنے میں تنگ دلی نہ ہو۔

☆ اختلاف رائے کو عداوت نہ بنایا جائے۔

☆ فیصلہ ہو جانے کے بعد اجتماعی نظم کی پابندی کی جائے۔

☆ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے مشورے کے فوراً بعد فرمایا:﴿فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ﴾

یعنی مشورے کے بعد تذبذب نہیں بلکہ عزم اور اللہ پر توکل ہونا چاہیئے۔

عصرِ حاضر کے لئے سبق:
آج گھروں میں والدین اولاد سے مشورہ نہیں کرتے، اداروں میں ذمہ دار ساتھیوں کی بات نہیں سنتے، تعلیم گاہوں میں بعض اوقات نوجوان اساتذہ کی آراء کو اہمیت نہیں دی جاتی، سیاسی جماعتوں میں کارکنان سے پوچھا نہیں جاتا، دوسری طرف نوجوان بھی بزرگوں کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنی رائے پر اصرار کرتے ہیں، یہی رویہ اختلافات اور ناکامیوں کا سبب بنتا ہے۔

اگر رسول اللہ ﷺ جیسے صاحبِ وحی نبی مشورہ فرما سکتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آراء قبول کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی حکیمانہ رائے پر عمل کر سکتے ہیں، تو ہم کس بنیاد پر خود کو مشورے سے مستغنی سمجھیں؟

سیرتِ نبوی ﷺ کا یہ روشن باب ہمیں سکھاتا ہے کہ مشاورت، قیادت کی کمزوری نہیں ہے بلکہ اس کی عظمت ہے، اور تواضع کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ انسان دوسروں کی اچھی بات قبول کرلے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مشورے، اعتماد اور باہمی احترام کی ایسی مثال قائم کی جس نے ایک منتشر قوم کو دنیا کی بہترین امت بنادیا۔

آج اگر ہم اپنے گھروں، مدارس، دینی اداروں، تنظیموں اور معاشرے میں نبوی اصولِ مشاورت کو زندہ کردیں، تو ضد کی جگہ حکمت، انفرادیت کی جگہ اجتماعیت، اور اختلاف کی جگہ باہمی اعتماد پیدا ہوگا، یہی سیرتِ طیبہ کا وہ سنہرا سبق ہے جو ہر دور کی قیادت اور ہر فرد کے لئے مشعلِ راہ ہے۔

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
34