(+92) 319 4080233
کالم نگار

انتخاب:کامران آفریدی

انتخاب:کامران آفریدی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
عورتیں گھر سے باہر کیوں سنورکرجاتی ہیں؟
ایک مرتبہ میاں بیوی کہیں جارہے تھے...بیوی نے حسبِ معمول نوک پلک سنواری ہوئی تھی اور ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے۔اتنے میں ٹیکسی آئی اور وہ اس میں بیٹھ گئے۔

کچھ دیر بعد ٹیکسی ڈرائیور نے کہا اپنی وائف سے کہیں کہ یہ لپ اسٹک کا شیڈ مٹا دیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔

یہ سنتے ہی شوہر نے غصے سے ڈرائیور کا گریبان پکڑا اور بولا تمہاری ہمت کیسے ہوئی جو تُونے یہ بات بولی۔

ڈرائیور نے مسکراتے ہوئے کہا بھائی اگر یہ آپ کے لیے سجی سنوری ہوتی تو گھر میں سجتی یہ تو راستے کے لیے تیار ہوئی ہیں اور راستے کی ہر چیز پر تنقید و پسندیدگی کا اختیار ہر شخص کو ہے۔

مرد کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیااور رومال نکال کر بیوی کو دیا اور کہا کہ لپ اسٹک صاف کرلو۔

شاید اس بات میں حقیقت نہ ہو مگر ایک سچائی ضرور ہے۔ عورتیں واقعی اپنے شوہروں کے لئے کم اور لوگوں کے لیے زیادہ تیار ہوتی ہیں،کسی تقریب میں جانا ہو تو گھنٹوں سیلون میں لگا دیتی ہیں۔

مگر شوہر کے آنے کا وقت ہو تو کبھی ان کے لیے تیار نہیں ہوتیں صاف کپڑے بھی نہیں بدلتیں صبح سے شام تک ایک ہی لباس میں گھومتی ہیں سر جھاڑ منہ پھاڑ۔

جبکہ ہمارے مذہب میں زمانہِ جاہلیت کی طرح تیار ہوکر باہر نکلنے سے منع فرمایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ تم اپنے گھروں میں بھی سجا سنورا نہ کرو بلکہ کہا گیا ہے کہ زیبائش شوہر کے لیے ہے۔

مگر ہم اس کے برعکس کرتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ مردوں کو دوسروں کی بیویاں اور اپنے بچے زیادہ اچھے لگتے ہیں۔

کالم نگار : انتخاب:کامران آفریدی
| | |
35