(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
کل کا بے تاج بادشاہ سڑک کنارے سبزی بیچنے پر مجبور
حافظ آباد کے چاچا لعل الدین کا بھی ایک زمانہ تھا۔ایک وقت تھا جب ان کے آگے پیچھے نوکروں کی لائن لگی رہتی تھی۔ وہ 100 سے زائد پاور لومز کے اکیلے مالک تھے۔ علاقے میں ان کا نام تھا، عزت تھی، دولت تھی اور ایسا دبدبہ تھا کہ لوگ انہیں دور سے پہچانتے تھے۔

پھر وقت بدلا۔اولاد جوان ہوئی تو اس باپ نے سوچا کہ زندگی بھر جو کچھ کمایا ہے، وہ آخر بچوں کا ہی تو ہے۔ اپنی زندگی میں ہی جائیداد کے حصے کر دیے، کاروبار بانٹ دیا، فیکٹریاں تقسیم کر دیں۔مگر شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ جائیداد کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی اہمیت بھی تقسیم ہو جائے گی۔آج وہی چاچا لعل الدین حافظ آباد کے مین بازار میں ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ سامنے ایک چھوٹی سی ٹوکری، اس میں تھوڑی سی سبزی، اور آنکھوں میں شاید پوری گزری ہوئی زندگی کی کہانی۔

کبھی لاکھوں روپے کے کاروبار کا حساب رکھنے والا شخص آج دس اور بیس روپے کی سبزی کا حساب کر رہا ہے۔

کبھی جس کے دروازے پر ضرورت مند آتے تھے، آج وہ خود گاہک کے آنے کا انتظار کرتا ہے۔

کبھی جس کے اشارے پر فیکٹریوں کی مشینیں چلتی تھیں، آج وہ خاموشی سے سڑک کنارے بیٹھا ہے۔

اور جب کوئی گاہک اس سے دس بیس روپے کم کرنے کے لیے بحث کرتا ہے تو چاچا کوئی جواب نہیں دیتے۔

بس ایک پھیکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر آتی ہے، سبزی شاپر میں ڈالتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں۔

پتا نہیں اس ایک لمحے میں انہیں اپنی زندگی کے کتنے منظر یاد آتے ہوں گے۔

وہ فیکٹریاں...وہ ملازمین...وہ عزت...وہ دولت...اور وہ دن جب ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے دروازے پر آنے والے غریبوں اور بیواؤں کی مدد کے لیے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا کرتے تھے۔ وقت نے صرف ان کی دولت نہیں چھینی، شاید ان سے وہ زندگی بھی چھین لی جسے بنانے میں انہوں نے اپنی پوری جوانی لگا دی تھی۔

یہ دنیا واقعی عجیب ہے۔یہاں کل جس کے دروازے پر لوگ کھڑے ہوتے ہیں، آج وہ خود سڑک کنارے بیٹھا ہوتا ہے۔کل جس کے پاس لاکھوں ہوں، ضروری نہیں بڑھاپے میں اس کے پاس چند سو روپے بھی ہوں۔اور سب سے دردناک حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات انسان ساری زندگی اولاد کے مستقبل کے لیے کماتا رہتا ہے، مگر بڑھاپے میں اسی انسان کا اپنا مستقبل تنہائی بن جاتا ہے۔والدین کی جائیداد پر حق مانگنے سے پہلے ان کے بڑھاپے کی ذمہ داری بھی یاد رکھیں۔کیونکہ باپ جب اپنی جائیداد بانٹتا ہے تو صرف زمین، مکان اور کاروبار نہیں دیتا...وہ اپنی پوری زندگی کی کمائی اولاد کے حوالے کرتا ہے۔اور بدلے میں اسے دولت نہیں چاہیے ہوتی۔

صرف عزت، دو وقت کا سکون اور اپنے بچوں کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔یہ ہر اس ماں باپ کے مستقبل کا سوال ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے اور ہمیں ان کی زندگی میں ہی ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
28