(+92) 319 4080233
کالم نگار
2026/08/15
موضوعات
میں نے محمدﷺ ماموں سے فون پر بات کرنی ہے
رَملہ کو ابھی ہم نے پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا زیادہ تعارف نہیں کروایا ۔ فی الحال اس نے صرف ان کا نام سیکھا ہے ۔ جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ ہمارے نبی کا کیا نام ہے تو وہ کہتی ہے : ہمارے نبی کا نام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے ۔

سردست اسے یہ اندازہ تو ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بہت اہم اور قابلِ احترام ہستی ہیں ، لیکن کل اس کیلئے ایک الجھن پیدا ہو گئی ۔

اس کے ایک ماموں کا نام بھی " محمد " ہے ۔ اس نے اپنی امی کے موبائل میں اپنے ماموں کی تصویر دیکھی تو کہنے لگی : میں نے محمد ماموں صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے فون پر بات کرنی ہے ۔

میں نے اس کو سمجھایا کہ ہمارے نبی ، جن کا نام محمد ہے وہ کوئی اور ہیں اور صلی اللّٰہ علیہ وسلم صرف ان کے نام کے ساتھ کہتے ہیں ۔ آپ کے ماموں کا نام بھی محمد ہے ، لیکن وہ نبی نہیں ہیں ، اس لئے ان کے نام ساتھ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہیں کہتے ہیں ۔ لمحہ بھر سوچ کر کہنے لگی : ٹھیک ہے بابا ، اب میں صرف ہمارے نبی محمد کے نام کے ساتھ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہوں گی ۔

رَملہ کی اس بات سے مجھے اپنے بچپن کا ایک ملتا جلتا واقعہ یاد آگیا ۔

ہمارے ہاں ایک چوکیدار ہوا کرتا تھا ، جس کا نام عبد الباقی تھا ۔ بہت سخت گیر پٹھان تھا ۔ بِلیوں کا سخت دشمن تھا ۔ اس کے پاس ایک بڑا ڈنڈا ہوتا تھا ۔ جب بھی کسی بلی کو دیکھتا ، بڑی بے دردی کے ساتھ ڈنڈا اس کی طرف پھینک کر مارتا تھا ۔ بچوں میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ وہ بِلیوں کو ذبح کر دیتا ہے ۔ اس لئے سب بچے اس سے سخت خوفزدہ رہتے تھے ۔

بچوں کو اپنے اردگرد کے ماحول سے عموماً اللّٰہ تعالیٰ کا جو ابتدائی تعارف ملتا ہے ، وہ ان کے ذہن میں ایک قہار اور سخت گیر حاکم کا تصور پیدا کرتا ہے ۔ اس عمر میں بچے ان چیزوں کو جو دکھائی نہیں دیتیں ، کسی دیکھی ہوئی چیز سے جوڑ کر ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میرے ساتھ یہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا وہ تصور میرے ذہن میں عبد الباقی کی شکل میں بیٹھ گیا ۔ جب بھی میں اللّٰہ تعالیٰ کے بارے میں سوچتا ، عبد الباقی کا چہرہ چشمِ تصور میں آ جاتا ۔

ایک دن کھیلتے ہوئے اچانک میرے سامنے عبد الباقی آیا تو میں نے انگلی سے اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ دیا : اللّٰہ تعالیٰ ! اس وقت اس نے کوئی ریئکشن نہیں دیا ۔ شاید وہ صحیح طرح سمجھ نہیں سکا ۔ اس کے بعد میں نے اس کو مستقل یہی کہنا شروع کر دیا ۔ جب اسے بات سمجھ آئی تو وہ سخت طیش میں آنے لگا ۔ میں جب بھی اس کو دیکھتا ، یہی کہتا اور وہ بھڑک اٹھتا ۔ ارد گرد کے لوگ عبد الباقی کے اس اشتعال پر ہنستے ۔ میرے لئے یہ ایک کھیل بن گیا ۔ اب میں جب بھی اسے دیکھتا ، " اللّٰہ تعالیٰ " کہہ کر بھاگ جاتا اور وہ غصے میں میرے پیچھے دوڑتا ۔ ایک دن اس نے اپنا ڈنڈا مجھے مارنے کیلئے زور سے پھینکا ، لیکن میں بچ گیا ۔

اس ضمن میں دو باتیں سمجھنے کی ہیں ۔ پہلی بات :
بچوں کو بالکل ابتدا میں اللّٰہ تعالیٰ کا تعارف ڈرانے والے اور سزا دینے والے ایک سخت گیر حاکم کے طور پر نہیں کرانا چاہئے ۔ اَن دیکھی چیزوں سے بچوں کو ڈرانے کا ان کی نفسیات اور اعصاب پر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔ عموماً مائیں بچوں کو رات کو سونے سے پہلے جنوں اور بھوتوں سے ڈراتی ہیں تاکہ وہ جلدی سو جائیں ، اس سے ان کی نیند بھی مضطرب ہو جاتی ہے اور ڈراؤنے خواب بھی آتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر سونے کے وقت انہیں پُرسکون ماحول دیا جائے تو وہ میٹھی نیند سوتے ہیں ۔ اسی طرح شروع میں بچوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ، شفقت اور رزق دینے والی صفات کے بارے میں بتانا چاہیے ۔ اس سے ان کے دامنِ دل میں اللّٰہ کی محبت اور ایک گہرا احساسِ تحفظ پروان چڑھتا ہے ۔ جبار و قہار جیسی صفات اور جزا و سزا کا تصور ان میں عمر اور شعور کی بالیدگی کے ساتھ بتدریج پیدا کرنا چاہیے ۔

دوسری بات :
بچوں کی اس نوع کی نادانیوں پر ، جن کی جھلک رَملہ اور میرے بچپن واقعے میں نظر آئی ، فوری طور پر سخت رد عمل اور طیش کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ اس رویے سے بچہ بات کی حکمت نہیں سمجھ پاتا بلکہ اس کا دفاعی نظام متحرک ہوجاتا ہے اور وہ نادانستہ طور پر بار بار اسی غلطی کو دہراتا رہتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر صبر و تحمل کے ساتھ بات سمجھائی جائے تو اس سے اس کا منطقی ذہن متحرک ہوتا ہے اور وہ بات کو معقول انداز سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔

جب ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کیا تو لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے اور اس کی طرف لپکے ، جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں روک دیا اور دیہاتی کو پیشاب سے فارغ ہونے دیا ، کیونکہ وہ ایک نادان دیہاتی تھا ، جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہا تھا ، اگر اس کو بیچ میں روکا جاتا تو ایک تو اس کی صحت اور اعصاب متاثر ہوتے اور دوسرا نجاست مزید پھیل جاتی ، جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس کو بعد میں اپنے پاس بلا کر نرمی سے سمجھایا ، اور صحابہ سے فرمایا : انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین ۔ ( بخاری ) تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو ، تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ۔

کالم نگار : Abu Ramla
| | |
51