(+92) 319 4080233
کالم نگار

جنید آصف ماہرِ نفسیات | ریسرچر | ذہنی صحت کے مصنف Clinical Psychologist, Researcher, Mental Health Writer

جنید آصف ماہرِ نفسیات | ریسرچر | ذہنی صحت کے مصنف Clinical Psychologist, Researcher, Mental Health W

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
جب دماغ جینے کے بجائے صرف بچنے کی کوشش کر رہا ہو
"ڈاکٹر صاحب! پہلے میں بہت ذہین، خوش مزاج اور فعال تھا، لیکن اب نہ توجہ رہتی ہے، نہ یادداشت، نہ کسی چیز میں دلچسپی"

یہ جملے Anxiety، Trauma، Depression اور طویل عرصے کے Stress سے گزرنے والے افراد اکثر کہتے ہیں۔

- "میرا دماغ بند سا ہو گیا ہے۔"

- "ہر وقت خطرے کا احساس رہتا ہے۔"

- "پہلے جیسی یادداشت نہیں رہی۔"

- "لوگوں سے تعلق قائم نہیں ہوتا۔"

- "خوشی محسوس ہی نہیں ہوتی۔"

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کمزور ہو گئے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا دماغ اب بھی "Survival Mode" میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

--- Survival Mode کیا ہے؟:
جب دماغ مسلسل خطرے، Stress، Trauma یا جذباتی دباؤ کا سامنا کرتا ہے تو اس کا بنیادی مقصد "ترقی کرنا" نہیں بلکہ "بچنا" بن جاتا ہے۔

Amygdala (دماغ کا خطرے کا الارم) مسلسل فعال رہتا ہے، Stress Hormones جیسے Cortisol بڑھ جاتے ہیں، اور دماغ اپنے وسائل صرف ان چیزوں پر صرف کرنے لگتا ہے جو فوری حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔اس دوران دماغ عارضی طور پر ان نظاموں کی سرگرمی کم کر دیتا ہے جو:

- گہری یادداشت (Memory Formation)

- سیکھنے (Learning)

- تخلیقی سوچ (Creativity)

- جذباتی تعلقات (Emotional Bonding)

- اور نفسیاتی Healing

کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

یعنی دماغ خراب نہیں ہوتا، بلکہ اپنی توانائی صرف زندہ رہنے پر لگا دیتا ہے۔اسی لیے آپ میں یہ علامات پیدا ہوتی ہیں:

- Brain Fog

- Overthinking

- توجہ کی کمی

- جلد چونک جانا

- ہر وقت Alert رہنا

- جذباتی بے حسی

- خوشی محسوس نہ ہونا

- لوگوں سے دوری

- یادداشت کی کمزوری

- فیصلہ کرنے میں مشکل

اور پھر انسان خود کو "کمزور"، "بیکار" یا "پہلے جیسا نہ رہنے والا" سمجھنے لگتا ہے۔

جب دماغ کو تحفظ محسوس ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟:
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ جب انسان کو محفوظ ماحول، supportive تعلقات، جذباتی قبولیت اور استحکام ملتا ہے تو دماغ آہستہ آہستہ Survival Mode سے باہر آنا شروع کرتا ہے۔Cortisol کم ہونے لگتا ہے، Prefrontal Cortex دوبارہ بہتر کام کرنے لگتا ہے، Hippocampus یادداشت اور Learning کے عمل کو بحال کرتا ہے، اور دماغ میں موجود وہ نیورل راستے دوبارہ متحرک ہونے لگتے ہیں جو طویل Stress کے دوران دب گئے تھے۔یہ صرف Relax ہونے کا نام نہیں، بلکہ Growth Mode میں واپسی کا عمل ہے۔

اسی لیے محفوظ ماحول میں لوگ بہتر ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے انسان:

- محفوظ تعلقات میں زیادہ جلدی سیکھتا ہے؛

- محبت اور قبولیت میں جذباتی Healing حاصل کرتا ہے؛

- اور Support ملنے پر اپنی اصل صلاحیتوں کو دوبارہ استعمال کرنے لگتا ہے۔

دماغ کو صرف مشورے نہیں، بلکہ Safety کے تجربات کی ضرورت ہوتی ہے۔تھراپی اصل میں دماغ کے لیے ایک محفوظ جگہ کیسے بنتی ہے؟بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تھراپی صرف بات چیت کا نام ہے، جبکہ حقیقت میں Structured Psychotherapy دماغ کو بار بار یہ پیغام دیتی ہے:

«"اب خطرہ ختم ہو چکا ہے، اب تم صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ جینے اور ترقی کرنے کے لیے بھی کام کر سکتے ہو۔"»

تھراپی میں:
- Core Fears اور جذباتی زخموں کو سمجھا جاتا ہے؛

- Nervous System کو Regulation سکھائی جاتی ہے؛

- Avoidance اور Hypervigilance کو کم کیا جاتا ہے؛

- Corrective Emotional Experiences فراہم کیے جاتے ہیں؛

- اور Neuroplasticity کے ذریعے دماغ کو نئے اور صحت مند راستے بنانے میں مدد دی جاتی ہے۔

آہستہ آہستہ دماغ Survival Mode سے نکل کر دوبارہ Growth Mode میں داخل ہونے لگتا ہے۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ پہلے جیسے نہیں رہے، آپ کی یادداشت کمزور ہو گئی ہے، یا آپ کی شخصیت بدل گئی ہے، تو ضروری نہیں کہ آپ ٹوٹ چکے ہوں۔بعض اوقات آپ کا دماغ صرف ایک لمبی جنگ کے بعد اب بھی حفاظتی حالت میں کھڑا ہوتا ہے۔اور اچھی خبر یہ ہے:

«جو دماغ خطرے کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ہے، وہ تحفظ ملنے پر دوبارہ سیکھ، جڑ اور شفا بھی حاصل کر سکتا ہے۔»

کالم نگار : جنید آصف ماہرِ نفسیات | ریسرچر | ذہنی صحت کے مصنف Clinical Psychologist, Researcher, Mental Health Writer
| | |
26