(+92) 319 4080233
کالم نگار

ابو الحسین آزاد

ابو الحسین آزاد

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
ظہیر امن پوری صاحب کا جذبۂ نقضِ امن
ہر کچھ وقت کے بعد ایک نہ ایک "مصلح" ظاہر ہوتا ہے جو مسلمانوں کے سوادِ اعظم کو گمراہ، بدعتی اور فاسق قرار دے کر اپنے وہم و گمان کو ہی حق کا معیار قرار دیتا ہے۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی امن پوری صاحب ہیں، جن کے نزدیک حنفی فقہی مکتب الحاد ہے، ماتریدیہ نصوص کے منکر ہیں اور اشاعرہ بدعتی ہیں۔

امن پوری صاحب جس سلسلے کا تسلسل ہیں، اس کی ترجیحات بہت عجیب ہیں۔ یہاں صفاتِ باری سے متعلق نصوص کی تفسیر جیسے مختلف فیہ اور عملی طور پر غیر متعلق مسئلے کو ایمان اور ہدایت کا محور و مرکز بنا کر وہ بے ہودگی مچائی جاتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔ خدا عرش پر مستوی ہو یا استوا قدرت و استیلا کے معنی میں ہو۔ اس کے لیے وجہ ثابت ہو، یا وجہِ بلا کیف ہو، یا وجہ اس کی صفتِ رضا و التفات سے مجاز ہو۔ اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟ یہ تو آج ایک ذوقی سا مسئلہ ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ دور کر گیا، وہ بحثیں چکی گئیں اور وہ تصورِ علم اور تصورِ جہان کی دفن ہو چکا جس میں یہ باتیں معنی رکھتی تھیں۔ امرِ واقعہ میں تو کوئی سا لفظ بول کر بھی اور وجہ کی بابت کسی "عقیدے" کو ظاہر کر کے بھی حقیقتِ مطلقہ کو بیان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ بھلا وہ لفظوں میں کیوں کر سمائے گا اور ہماری کند عقلوں کو کیوں کر سجھائے گا! ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اسے ہر عیب اور نقص سے منزہ مانیں اور ہر کمال سے متصف۔

ظہیر امن پوری صاحب جیسے لوگ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے جو بے ہودگی مچا رہے ہیں، اس کا حتمی نتیجہ محمد بن شمس الدین جیسے محقق کی صورت میں نکلتا ہے، جو اس بات پر، خدا کے روبرو، اپنی موت اور خدائی لعنت کے نزول کا مباہلہ کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ مبتدع ہیں، امام نووی مبتدع ہیں اور امام سیوطی کافر ہیں۔ ایسے جلیل القدر فقہاء اور اساطین کے بارے میں یہ گھٹیا گفت گو جس فساد اور ہلاکت پر منتج ہوتی ہے، وہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ جرأت اور ضلالت ایک ہی دن میں نہیں پیدا ہوتی؛ اس کی بنیادوں میں امن پوری صاحب جیسے مصلحین کی محنتوں کا بھرپور حصہ ہوتا ہے۔

ویسے خود امن پوری صاحب کا اپنا عقیدہ، ان کے اپنے بیان کے مطابق، یہ ہے کہ قرآن کی ایک ہزار نصوص اگر اپنے معنی میں قطعی ہوں، لیکن "سلف" کا فہم ان کے مطابق نہ ہو، تو ہم قرآن کی ایک ہزار نصوص کو درست مانیں گے، مگر ان کے قطعی معنی کے مقابلے میں "سلف" کے فہم کو ترجیح دیں گے۔ جس شخص کا تصورِ علم ایسے مہمل اور لغو تقابل پر کھڑا ہو، اس سے مکالمہ کرنا تو ویسے ہی بے کار ہو جاتا ہے، لیکن اس کے جذبۂ نقضِ امن کی راہ کھوٹی کرنا ہر شخص پر بقدرِ استطاعت لازم ہے۔

کالم نگار : ابو الحسین آزاد
| | |
33     1