(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
ایک بزرگ نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا
میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب واقع ایک پارک میں جاتا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے، پھر پارک کے ایک درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔

کبھی قریبی دکان سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے، کبھی کتاب پڑھتے اور جب اونگھ آتی تو اسی کتاب کو تکیہ بنا کر کچھ دیر آرام کر لیتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ صبح سے شام تقریباً پانچ بجے تک اسی پارک میں موجود رہتے۔

پارک میں آنے والے لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے۔ کوئی کہتا شاید پردیسی ہیں، کوئی سمجھتا کہ گھر والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن ان کی گفتگو، وضع قطع اور شخصیت سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے، باوقار اور خوشحال انسان ہیں۔

ایک دن میں گھر سے ناشتہ لے کر گیا اور انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ پہلے تو انہوں نے انکار کیا، لیکن میرے اصرار پر مان گئے۔باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا گھر پارک سے صرف دو گلیاں دور ہے اور وہ مالی طور پر بھی کسی محتاجی کا شکار نہیں۔

میں نے حیرت سے پوچھا:**’’پھر آپ سارا دن یہاں کیوں گزارتے ہیں؟‘‘**

انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور دھیرے سے کہا:**’’بیٹا! زندگی میں کچھ گھنٹے گھر سے باہر گزارنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ چاہے دفتر ہو، دوست ہوں یا کوئی اور مصروفیت... انسان کو روزانہ کچھ وقت ضرور گھر سے باہر گزارنا چاہیے۔‘‘**

میں نے وجہ پوچھی تو ان کی اگلی بات نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔انہوں نے کہا:**’’گھر والے برسوں تک آپ کی غیر موجودگی کے عادی ہوتے ہیں۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ہر وقت گھر میں رہنے لگتے ہیں تو بعض اوقات آپ کی خاموش موجودگی بھی انہیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ شاید زبان سے کچھ نہ کہیں، مگر ان کے رویے بدلنے لگتے ہیں۔‘‘**

پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے:**’’ابو! آپ کو کیا پتا...‘‘**

’’یہ جملہ میں کئی بار سن چکا ہوں۔ آہستہ آہستہ انسان کی حیثیت گھر میں صرف بازار سے سامان لانے یا چھوٹے موٹے کام کرنے تک محدود ہوتی محسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘

وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے:**’’اسی لیے میں روز صبح یہاں آ جاتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں، اخبار دیکھتا ہوں، کبھی کسی ملازمت کا اشتہار نظر آ جائے تو درخواست بھی دے دیتا ہوں۔ حالاں کہ جانتا ہوں کہ اس عمر میں شاید ہی کوئی مجھے ملازمت دے۔‘‘**

پھر انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایسا راز بتایا جس نے مجھے مزید خاموش کر دیا۔**’’میں نے گھر والوں کو یہی بتایا ہوا ہے کہ میں اب بھی ایک ادارے میں کام کرتا ہوں۔ میرے کچھ جمع شدہ پیسوں سے منافع آتا ہے، وہ میں گھر دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میری تنخواہ ہے۔‘‘**

یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔پھر دھیرے سے بولے: **’’شام کو جب میں گھر واپس جاتا ہوں تو بیوی پانی کا گلاس لے آتی ہے، کھانے کا پوچھتی ہے اور بچے بھی احترام سے بات کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ باپ اب بھی ذمہ دار ہے۔‘‘**

وہ چند لمحے خاموش رہے۔پھر بولے:**’’میں نہیں چاہتا کہ ایک دن ایسا آئے جب مجھے اپنے ہی بچوں سے کچھ مانگنا پڑے۔‘‘**یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے۔مگر ان کی خاموشی میرے دل میں بہت کچھ کہہ گئی۔

میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ ایک باپ، جس نے اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے وقف کردی، بڑھاپے میں صرف اس لیے اپنی مصروفیت اور آمدنی کا ایک فرضی تصور کیوں قائم رکھے ہوئے ہے کہ گھر میں اس کی عزت اور اہمیت برقرار رہے؟ ### بڑھاپے کو صرف ضرورت نہیں، عزت بھی چاہیے:
عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو صرف روٹی، کپڑے اور دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے **احترام، توجہ، اپنائیت اور اپنی اہمیت کا احساس** بھی چاہیے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ والدین جب بوڑھے ہوتے ہیں تو وہ اچانک ’’غیر ضروری‘‘ نہیں ہو جاتے۔ ان کے ہاتھ کمزور ہو سکتے ہیں، قدم آہستہ ہو سکتے ہیں، کام کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے، لیکن **ان کی عزت، محبت اور ہماری زندگی میں ان کی قدر کم نہیں ہونی چاہیے۔ جن لوگوں نے ہماری انگلی پکڑ کر ہمیں چلنا سکھایا، ہماری ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں اور ہماری کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھا، انہیں زندگی کے آخری حصے میں سب سے زیادہ ہماری محبت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔

کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سن لیجیے۔

کبھی ان سے ان کی رائے مانگ لیجیے۔

کبھی انہیں یہ احساس دلا دیجیے کہ **آپ آج بھی ہمارے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے کل تھے۔**

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اپنے ہی گھر میں غیر ضروری ہوچکے ہیں۔

کیونکہ بعض اوقات بزرگوں کو دوا سے زیادہ **توجہ**، پیسوں سے زیادہ **احترام** اور آسائشوں سے زیادہ **اپنائیت** کی ضرورت ہوتی ہے۔**بڑھاپا زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کو سہارا دینے والے ہاتھوں سے زیادہ، سہارا دینے والے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔**

اپنے والدین اور بزرگوں کو وہ دل دیجیے۔**شاید انہیں آپ سے اس کے سوا کچھ چاہیے بھی نہ ہو۔**

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
31