(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا قاضی فضل اللہ

مولانا قاضی فضل اللہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
تشبہِ بالغیر اور جدید علوم کے حصول کی ضرورت
*حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ایک بصیرت افروز موقف*.:
“حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تشبہ بالغیر سے اس چیز میں منع کیا گیا ہے جس کے بارے میں لوگوں کے ذہن میں یہ تصور قائم ہو جائے کہ یہ ہمارے دین کا تقاضا یا دینی شعار ہے، جبکہ کپڑوں اور لباس کی ساخت دراصل علاقائی ثقافتوں کا حصہ ہوتی ہے۔ البتہ لباس میں ستر پوشی، وقار اور انسانی خوبصورتی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مولانا سندھی رحمہ اللہ نے کوٹ پینٹ بھی پہن لیا تو لوگوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: ‘دماغ میرا بالکل ٹھیک ہے۔’

مزید فرمایا کہ انگریز سے نفرت کی وجہ سے اس کی زبان اور لباس سے بھی نفرت پیدا ہو گئی تھی، اور میں خود بھی اسی سوچ میں شامل تھا۔ لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ عصری علوم اور جدید ترقی کا بڑا ذخیرہ انگریزی زبان میں محفوظ ہے۔ مجھے نہ تو اتنی انگریزی آتی ہے اور نہ میں ہر جگہ روانی سے انگریزی بول سکتا ہوں کہ لوگوں کے دلوں سے یہ نفرت نکال سکوں، البتہ لباس تو آسانی سے پہن سکتا ہوں۔ اگر اس کے ذریعے لباس سے نفرت کم ہو جائے تو رفتہ رفتہ زبان سے نفرت بھی ختم ہو جائے گی، اور جب زبان سے نفرت ختم ہوگی تو اس میں موجود علوم کے حصول کا راستہ بھی کھل جائے گا۔

مسلمان ایک باصلاحیت قوم ہیں۔ اگر انہوں نے یہ علوم حاصل کر لیے تو وہ مزید ترقی کرتے ہوئے اپنی ماضی کی عظمت دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔”

مأخَذ

بحوالہ: “مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ — ایک مردِ خود آگاہ، معیوب نہیں معتوب

کالم نگار : مولانا قاضی فضل اللہ
| | |
22