(+92) 319 4080233
کالم نگار

صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

صاحبزادہ ابوبکر المشرقی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
آخر مرغی ہی کیوں؟
دنیا میں پرندوں کی ہزاروں انواع پائی جاتی ہیں اور ان میں سے بہت سی انواع انڈے دیتی ہیں۔ بطخ، بٹیر، شترمرغ اور بعض دوسرے پرندوں کے انڈے بھی مختلف معاشروں میں کھائے جاتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر روزمرہ خوراک میں مرغی کے انڈے کا کوئی مقابل نہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر مرغی ہی کیوں؟

اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ مرغی کا انڈہ ذائقے دار یا غذائیت سے بھرپور ہے۔ اس کے پیچھے ہزاروں سال پر محیط انسانی انتخاب، پرندوں کی domestication، افزائشِ نسل اور جدید پولٹری فارمنگ کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔

جنگلی مرغیوں کے آباؤ اجداد، جنہیں عمومی طور پر red junglefowl سے جوڑا جاتا ہے، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جاتے تھے۔ انسان نے رفتہ رفتہ ان پرندوں کو پالتو بنانا شروع کیا اور پھر ایسی مرغیوں کو ترجیح دی جو مطلوبہ خصوصیات رکھتی تھیں۔وقت کے ساتھ یہی انتخاب مرغی کی موجودہ نسلوں کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔ آج کی انڈہ دینے والی مرغیاں اپنے جنگلی آباؤ اجداد کے مقابلے میں کہیں زیادہ انڈے پیدا کرتی ہیں۔ جدید تجارتی نسلوں میں یہ پیداوار سالانہ سینکڑوں انڈوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یہاں selective breeding کا کردار بنیادی ہے۔ جس مرغی نے زیادہ انڈے دیے، اسے افزائش کے لیے منتخب کرنے کا امکان زیادہ تھا۔ نسل در نسل یہ عمل جاری رہا اور انسان نے بالآخر ایسی مرغیاں پیدا کرلیں جنہیں نسبتاً کم جگہ میں رکھا جا سکتا ہے، مختلف اقسام کی خوراک دی جا سکتی ہے اور جو مسلسل انڈے فراہم کرتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں مرغی دوسرے پرندوں سے نمایاں طور پر آگے نکل جاتی ہے۔

مثلاً بٹیر کے انڈے بھی خوراک کے طور پر مقبول ہیں، لیکن ان کا حجم بہت کم ہوتا ہے۔ بطخ کے انڈے بھی کئی ممالک میں عام ہیں، مگر بطخ کی پرورش کے لیے ماحول اور انتظامات مرغی کے مقابلے میں مختلف ہوتے ہیں۔ دوسری طرف شترمرغ کا انڈہ انتہائی بڑا ضرور ہے، لیکن شترمرغ کو پالنے کے لیے درکار جگہ اور وسائل اسے روزمرہ گھریلو انڈے کا عملی متبادل نہیں بناتے۔یوں مرغی نے ایک ایسا "زرعی پیکیج" فراہم کیا جس میں چھوٹا جسم، محدود جگہ میں پرورش، نسبتاً آسان خوراک، افزائش کی صلاحیت، گوشت اور انڈے—سب ایک ساتھ موجود تھے۔پھر صنعتی پولٹری فارمنگ نے اس برتری کو مزید بڑھا دیا۔ مرغیوں کی مخصوص نسلیں انڈوں یا گوشت کی پیداوار کے لیے تیار کی گئیں، خوراک اور بیماریوں کے انتظام کے طریقے بہتر ہوئے اور انڈوں کی پیداوار بڑے پیمانے پر ممکن ہوگئی۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ انسان نے صرف مرغی کے انڈے کو نہیں چنا؛ بلکہ ہزاروں برس میں انسان اور مرغی کے درمیان ایک ایسا زرعی نظام تشکیل پایا جس نے مرغی کے انڈے کو دنیا کی سب سے عام حیوانی غذاؤں میں شامل کر دیا۔یعنی 11 ہزار پرندوں میں سے مرغی کا انتخاب محض ذائقے کی کہانی نہیں، بلکہ ارتقائی تاریخ، انسانی ترجیحات، زراعت، معیشت اور selective breeding کے باہمی تعلق کی کہانی ہے۔

کالم نگار : صاحبزادہ ابوبکر المشرقی
| | |
33