(+92) 319 4080233
کالم نگار

انيق احمد خان

انيق احمد خان

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
علامہ خالد محمودؒ اورعلمی شجرے
دور کے زمانے کی نہيں بلکہ قريب ہی کی بات ہے کہ شجرے اور بڑے پوسٹر مساجد و مدارس کی زينت ہوا کرتے تھے، جب بھی کسی مسجد و مدرسہ میں جانا ہوتا تو کم از کم ايک شجرے پر تو نظر پڑ ہی جاتی تھی، مثلا 'شجرہ مودت' جو کہ خلفائے راشدين میں باہمی قربت کا احساس دلاتا تھا، بہت مقبول تھا، ليکن اب ايسا لگتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے اور شجروں کی جگہ خوبصورت نقش و نگار والے پتھروں اور سنگ مرمر نے لےلی ہے. ميرے شيخ و مربی حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود رح کا علمی ورثہ و ذخيرہ شجروں کی صورت ميں بھی موجود ہے اور آپ رح نے يہ شجرے پوری دنيا ميں پھيلائے. آپ جب بھی تبليغ اسلام کیلئے کسی سفر پر جاتے تو کتابوں کے ساتھ چند شجرے لازمی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے اور مفتی فيض صاحب کی معاونت سے اُن شجروں کو بڑی نفاست سے باندھتے تاکہ اُس کے کاغذ کو دوران سفر کسی قسم کا نقصان نہ ہو. آپ رح اکثر سامعین سے فرماتے کہ اگر یہ شجرہ آپ کيل سے بھی ديوار پر لگائيں گے تو يہ دس سال خراب نہيں ہوگا. آپ شجرے کے کاغذ کی اچھی کوالٹی کا ہميشہ خیال کرتے تھے. معلومات کے مطابق کچھ شجرے تو اب آپکی کتابوں کا بھی حصہ بن چکے ہيں.

ايک دفعہ میں نے بھی لندن کی ايک مسجد ميں 'شجرہ امام اعظم ابو حنیفہ رح' لگوايا۔ جب حضرت علامہ صاحب رح کو آکر اطلاع دی تو آپ رح نے مُسرت کے ساتھ دُعا دی اور کہا جب بھی اس مسجد ميں جائيں تو نماز کے بعد سامنے کھڑے ہو کر اُسکی صرف دو سطریں تو ضرور پڑھ ليا کریں؛ اسکا فائدہ يہ ہوگا کہ دوسرے لوگ بھی متوجہ ہونگے اور چند دنوں ميں آپ بھی پورا شجرہ پڑھ ليں گے، ايک نشست ميں پورا شجرہ پڑھنا تو شاید ممکن نہ ہو اور عوام کے لئے مشکل بھی ہو سکتا ہے.

پھر اپنی نقل مکانی کی وجہ سے کچھ عرصہ میں اُس مسجد ميں نہ جاسکا، ايک دفعہ قريب سے گزر ہوا تو سوچا کہ پرانی ياد تازہ کرتے ہيں. نماز کی ادائیگی کے بعد احساس ہوا کہ مسجد کی انتظاميہ بدل چکی ہے اور اب وہاں شجرہ بھی نہ تھا. اُس شجرے کی جگہ اب خوبصورت پتھروں کی ٹائلز نے لے لی ہے .

بتانا يہ چاہتا ہوں کہ علامہ صاحب رح کی فکر تھی کہ اُمت کہ ہر فرد تک دين کا علم پہنچے، باالخصوص کالج و يونيورسٹی کے سٹوڈنٹ اور اِن کی سہولت کے لیے آپ آسان راستہ نکالتے جيسا کہ علمی شجرے اور اُن کو پڑھنے کا آسان طريقہ، تين روزہ سیرت النبی ﷺ کورس، عقيدہ ختم نبوت کورس، عظمت اصحاب رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کورس اور ديگر تدریسی پروگرام۔ آپ رح ایسے ہر پروگرام کی اختتامی دُعا ميں فرماتے؛ “ اے اللّٰہ اِن کے کانوں تک بات ميں نے پہنچادی ہے کانوں سے دل ميں اُترنا تيرا کام ہے “ اور آپ رح کے انہی آسان راستوں کی پیروی ہم نے اُن لوگوں ميں بھی ديکھی جو آپ رح کے شاگرد رہے ہیں اور اشاعت دين کا کام کرتے ہيں.

اور آخر ميں بس اپنے شيخ کی زبانی سنی یہ بات یاد آتی ہے کہ؛

مجتہد لوگ مر نہيں سکتے، وہ فقط راستہ بدلتے ہيں

اُنکے نقش قدم سے صديوں تک، منزلوں کے چراغ جلتے ہيں۔

کالم نگار : انيق احمد خان
| | |
59