کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے ایٹمی ہتھیار، بلند و بالا عمارتیں یا شاہراہیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ شہری ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرتی ہیں وہ دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں، جبکہ جو قومیں تعلیم کو کاروبار بنا دیتی ہیں وہ ہمیشہ دوسروں کی محتاج رہتی ہیں۔ پاکستان میں سرکاری سکولوں کو نجی اداروں یا ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کی پالیسی اسی خطرناک سوچ کی عکاس ہے جو ریاست کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سرکاری سکول حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہیں۔ ان کی زمینیں، عمارتیں اور وسائل عوام کے ٹیکسوں، قومی خزانے اور کئی مقامات پر اہلِ خیر کے عطیات سے قائم ہوئے۔ ان اداروں کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ ہر بچے تک تعلیم پہنچانا تھا۔ آج اگر یہی قومی اثاثے نجی ہاتھوں میں دیے جا رہے ہیں تو یہ صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی سرمائے کی منتقلی ہے۔
نجکاری کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے تعلیم بہتر ہوگی، مگر سوال یہ ہے کہ اگر نجکاری ہی ترقی کا راستہ ہوتی تو دنیا کے کامیاب ممالک اپنے سرکاری سکول بند کر چکے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط کیا، اس پر سرمایہ کاری کی اور معیاری اساتذہ فراہم کیے۔ انہوں نے تعلیم کو کاروبار نہیں بنایا۔
نجکاری کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ منافع ہوتا ہے۔ ایک نجی ٹھیکیدار کی پہلی ترجیح منافع میں اضافہ ہوتی ہے، نہ کہ بچوں کا مستقبل۔ جب منافع مقصد بن جائے تو اخراجات کم کیے جاتے ہیں، عملہ محدود رکھا جاتا ہے، تنخواہیں کم کی جاتی ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ کم خرچ میں زیادہ آمدنی حاصل ہو۔ اس صورت حال میں سب سے بڑا نقصان تعلیم کے معیار کو پہنچتا ہے۔
اس پالیسی کا سب سے بڑا شکار غریب طبقہ ہوگا۔ جو مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار اور کم آمدنی والے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا رہے ہیں، ان کے لیے تعلیم کا دروازہ مزید تنگ ہو جائے گا۔ اگر تعلیم بھی منافع بخش کاروبار بن گئی تو معاشرے میں دو طبقے پیدا ہوں گے؛ ایک وہ جو مہنگی تعلیم خرید سکے گا، اور دوسرا وہ جو تعلیم سے ہی محروم رہ جائے گا۔
یہ صرف ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران ہے۔ جب غریب بچے تعلیم سے محروم ہوں گے تو بے روزگاری بڑھے گی، جرائم میں اضافہ ہوگا، انتہاپسندی کو فروغ ملے گا اور معاشی عدم مساوات مزید گہری ہوگی۔ جو ریاست آج تعلیم پر بچت کرے گی، اسے کل جیلوں، عدالتوں اور جرائم کے خاتمے پر کئی گنا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔
پاکستان کا آئین بھی اس پالیسی پر سوال اٹھاتا ہے۔ آرٹیکل 25-A ریاست کو ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اگر ریاست خود اپنے ادارے چلانے کے بجائے انہیں نجی مفادات کے سپرد کر دے تو یہ آئینی ذمہ داری کا تقاضا کیسے پورا ہوگا؟ ریاست کی ذمہ داری عوام کو سہولت دینا ہے، نہ کہ بنیادی خدمات سے بتدریج دستبردار ہونا۔
اسلام بھی علم کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم کی پہلی وحی "اقرا" سے شروع ہوتی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ وہ علم کے دروازے آسان کرے، نہ کہ ایسے فیصلے کرے جن سے غریب کے لیے تعلیم مزید مشکل ہو جائے۔
اگر سرکاری سکولوں میں خامیاں ہیں تو اس کا حل نجکاری نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ اساتذہ کی کمی پوری کی جائے، خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں ہوں، سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، احتساب کا نظام مضبوط بنایا جائے اور تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ ناکامی کا علاج ادارہ بیچنا نہیں بلکہ ادارے کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاستوں نے اپنی بنیادی ذمہ داریاں منڈی کے حوالے کیں تو نقصان عام آدمی نے اٹھایا۔ تعلیم، صحت اور انصاف تجارت کی اشیاء نہیں بلکہ بنیادی عوامی حقوق ہیں۔ اگر آج سکول نجی ہاتھوں میں دیے گئے تو کل کالج، اسپتال اور دیگر قومی ادارے بھی اسی راستے پر چل پڑیں گے، اور ریاست محض ٹیکس وصول کرنے والا ایک انتظامی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سرکاری سکولوں کی نجکاری کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے، قومی تعلیمی اداروں کو مضبوط بنائے، اساتذہ کو بااختیار کرے، تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرے اور ہر بچے کے لیے معیاری، مفت اور یکساں تعلیم کو یقینی بنائے۔
قومیں سکول بیچ کر ترقی نہیں کرتیں، بلکہ سکول بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ سرکاری سکولوں کی نجکاری درحقیقت مستقبل کی نسلوں کے خوابوں، غریب کے حقِ تعلیم اور قوم کے روشن مستقبل کی نیلامی ہے۔ اگر آج اس عمل کو نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔