''ہائبرڈ نظام''گزشتہ چند برسوں سے پاکستانی سیاست کی ایک معروف اصطلاح بن چکی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس اصطلاح کو مختلف انداز میں استعمال کرتی ہیں، لیکن عمومی طور پر اس سے مراد ایسا سیاسی انتظام لیا جاتا ہے جس میں منتخب حکومت کے ساتھ دیگر ریاستی اداروں کے کردار پر بھی بحث ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک میں سیاسی بحران، معاشی مشکلات یا آئینی تنازعات جنم لیتے ہیں تو اس نظام کے بارے میں سوالات دوبارہ زیر بحث آ جاتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن طویل عرصے سے اس نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف یہ رہا ہے کہ غیر فطری سیاسی بندوبست نہ صرف جمہوری عمل کو متاثر کرتا ہے بلکہ آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اسلم غوری کا حالیہ بیان بھی اسی موقف کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں سے ان کی جماعت مسلسل اس نظام کی ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے۔اسلم غوری نے اپنے بیان میں کئی سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ان کے مطابق نظام عدل پر اثراندازی، اسمبلیوں میں خرید و فروخت، انتخابی شفافیت پر سوالات، آئینی ترامیم کے طریق کار پر اعتراضات اور آئین سے ماورا اقدامات وہ عوامل ہیں جنہوں نے ریاستی نظام کو کمزور کیا۔ یہ تمام نکات اپنی نوعیت میں انتہائی حساس اور اہم ہیں، کیونکہ ان کا تعلق براہ راست ریاستی اداروں، جمہوری عمل اور آئین کی بالادستی سے ہے۔ البتہ ان معاملات پر مختلف سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کے اپنے اپنے موقف بھی موجود ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کا آئین ریاست کے تمام اداروں کے اختیارات کا تعین کرتا ہے۔ جمہوریت کی اصل روح بھی یہی ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دے۔ جب سیاسی قوتیں یہ محسوس کرنے لگیں کہ اختیارات کا توازن متاثر ہو رہا ہے تو سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے، عوامی اعتماد کمزور پڑتا ہے اور ریاستی نظام دبائو کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لئے آئین کی بالادستی صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ قومی استحکام کی بنیادی شرط بھی ہے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اس وقت معاشی، داخلی سلامتی اور انتظامی مسائل سمیت کئی بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری صرف تنقید تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں قابل عمل تجاویز بھی پیش کرنی چاہئیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر قومی مفاد اسی وقت محفوظ رہتا ہے جب اختلافات آئینی دائرے میں رہ کر مکالمے کے ذریعے حل کیے جائیں۔محسن نقوی کے بیان کی مختلف حلقوں نے مختلف انداز میں تشریح کی ہے۔ بعض مبصرین اسے نظام کی خامیوں کی نشاندہی قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک یہ اصلاحات کی ضرورت کا اعتراف ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی (ف)نے اسے اپنی دیرینہ سیاسی موقف کی تائید کے طور پر پیش کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی بیانات کی تعبیر اکثر سیاسی وابستگیوں کے مطابق بدل جاتی ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان بیانات کے نتیجے میں اصلاحات کی راہ ہموار ہوتی ہے یا محض سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غیر معمولی سیاسی انتظامات کبھی بھی مستقل استحکام فراہم نہیں کر سکے۔ بالآخر تمام قوتوں کو آئین، پارلیمنٹ اور عوامی مینڈیٹ کی طرف ہی رجوع کرنا پڑا۔ یہی تجربہ مستقبل کے لئے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ پائیدار سیاسی استحکام صرف شفاف انتخابات، مضبوط پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ، موثر احتساب اور آئینی اداروں کے درمیان واضح اختیارات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جے یو آئی کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ ان کی قیادت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی فضاء میں الزام تراشی اور کردار کشی کوئی نئی بات نہیں، لیکن یہ رویہ جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اختلافات کا اظہار دلیل، مکالمے اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی مہمات کے ذریعے جو معاشرے میں مزید تقسیم پیدا کریں۔سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر ہر بحران کو صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا جائے تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ عوام کی اولین ترجیح روزگار، مہنگائی، تعلیم، صحت اور امن و امان ہے۔ یہی وہ شعبے ہیں جن پر تمام سیاسی قوتوں کو اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محسن نقوی کے بیان اور اس پر جے یو آئی (ف)کے ردعمل نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کو کس سمت میں جانا چاہیے۔ اگر اس بحث کا نتیجہ آئینی اصلاحات، ادارہ جاتی توازن، جمہوری استحکام اور قانون کی بالادستی کی صورت میں نکلتا ہے تو یہ ملک کے لئے مثبت پیش رفت ہوگی۔ لیکن اگر یہ صرف سیاسی الزام تراشی تک محدود رہی تو اس سے نہ عوام کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی ریاستی نظام مضبوط ہو سکے گا۔ پاکستان کا مستقبل اسی میں ہے کہ تمام سیاسی و ریاستی قوتیں آئین کو اپنی رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ بنائیں، اختلافات کو مکالمے سے حل کریں اور قومی مفاد کو ہر سیاسی مصلحت پر مقدم رکھیں۔
کالم نگار : نوید مسعود ہاشمی