(+92) 319 4080233
کالم نگار

*افادات: شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف افشانی

*افادات: شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف افشانی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
مقامِ عطاؒ اور دو خصلتیں
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ جلیل القدر تابعی تھے بلکہ ساداتِ تابعین میں سے تھے، بیس سال تک مسجد کو اپنا مسکن بنائے رکھا۔ آپ کا رنگ سیاہ، آنکھیں بھینگی، ناک چپٹی، ہاتھ شل، پاؤں سے معذور اور پھر آخرِ عمر میں کور چشمی (اندھے پن) کا بھی شکار ہوگئے تھے، تاہم ان شش نقائص کے باوجود ان کے بارے میں کہا جاتا تھا:

"كان رُكناً من أركان العلم والدين والصلاح والقدوة"

آپ علم، دین، صلاح اور قیادت کے رُکنِ رکین تھے۔ یہ مقامِ بلند ان کو دو خصلتوں کی بدولت سے حاصل ہوا:

● ١ - أنه أحكم سلطانه على نفسه، فلم يدع لها سبيلا لترتع فيما لا ينفع.

ان کی پہلی خصلت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے نفس کو مکمل قابو میں رکھا ہوا تھا، نفس کو جانوروں کی طرح یہاں وہاں چرنے اور منہ مارنے نہیں چھوڑا تھا۔

● ٢ - أنه أحكم سلطانه على وقته، فلم يهدره في فضول الكلام والعمل.

دوسری خصلت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے اوقات کی بھرپور نگرانی اور حفاظت کی، اس کو فضول اور لایعنی کاموں میں ضائع نہیں کیا۔

یاد رکھیے! دنیا کا طے شدہ اصول ہے کہ لاکھوں کی حفاظت صرف وہی کرسکتا ہے جو ہزاروں کو محفوظ رکھنا جانتا ہو اور ہزاروں کی حفاظت وہی کرسکتا ہے جو سینکڑوں کو محفوظ رکھ سکتا ہو، اسی طرح سالوں کی حفاظت وہی کرسکتا ہے جو مہینوں کو محفوظ رکھنے کا گُر جانتا ہو اور مہینوں کو حفاظت وہی کرسکتا یے جو ہفتوں، دنوں، گھنٹوں، منٹوں اور سکینڈوں کو محفوظ رکھ سکتا ہو۔ ہماری کوشش یہ ہو کہ ہم سکینڈوں سے آغاز کریں یعنی پورے اہتمام، تیقّظ اور بیدار مغزی سے اپنے ایک ایک سکینڈ کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے اپنے نفس اور اپنے وقت پر قابو پالیا تو ہمیں بھی وہی مقامِ رفیع حاصل ہوسکتا ہے جس پر حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فائز تھے۔

کالم نگار : *افادات: شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف افشانی
| | |
69