(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد حارث فاضل دارالعلوم کراچی

محمد حارث فاضل دارالعلوم کراچی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا آخری پیغام
تحریکِ ریشمی رومال کی ہمہ گیر سیاسی و عسکری جدوجہد، مالٹا کی قیدِ تنہائی کی صعوبتوں اور اسی سال کے فکری و تدریسی تجربات کے بعد، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن کس نتیجے پر پہنچے؟انگریز استعمار کے خلاف ایک عظیم عالمی منصوبہ بندی اور آزادی کی بین الاقوامی تحریک کی قیادت کرنے والے اس عظیم درویش نے اپنی عمر کے آخری حصے میں امتِ مسلمہ کے زوال کا جو اصل سبب اور اس کا حل تلاش کیا، وہ ہر مسلمان اور بالخصوص علمائے کرام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد، دار العلوم دیوبند میں علماء کے ایک بڑے مجمع کے سامنے شیخ الہند صاحب نے اپنی پوری زندگی کے فکر و تدبر کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:

ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں، تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے:

1.قرآن کریم کو چھوڑ دینا (امت کا تعلقِ قرآن کمزور ہو جانا اور اس کی تعلیمات سے دوری)
2.آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی
شیخ الہند صاحب نے فرمایا کہ میں وہاں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اسی کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کی تعلیمات کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔

بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کیے جائیں۔

بڑوں کو عوامی درسِ قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے۔

مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے۔

مأخَذ

(اصل بات وحدت امت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ماخوذ ہے)

کالم نگار : محمد حارث فاضل دارالعلوم کراچی
| | |
69