(+92) 319 4080233
کالم نگار

رپورٹ:ابوذر غفاری۔ندوۃ التحقیق،کوہاٹ

رپورٹ:ابوذر غفاری۔ندوۃ التحقیق،کوہاٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
محاضرہ: تاریخ اور علمِ تاریخ کی روداد
ایک فکر انگیز علمی نشست، طلبہ کی حوصلہ افزائی اور انعامات کی پروقار تقریب:
علمی و فکری مجالس کسی بھی علمی ادارے کی زندگی میں تجدیدِ فکر، وسعتِ نظر، علمی ذوق کی بیداری اور تحقیق و مطالعہ کے رجحان کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک مؤثر اور قابلِ ذکر کڑی کے طور پر ندوۃ التحقیق الاسلامی، بہادرکوٹ، کوہاٹ میں بسلسلۂ احیاءِ علوم آٹھویں علمی محاضرہ کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان ’’تاریخ اور علمِ تاریخ‘‘ تھا۔

یہ علمی و فکری نشست بروز جمعرات، 30 جولائی کو بعد از نمازِ ظہر، بوقت 3:00 بجے تا نمازِ عصر منعقد ہوئی۔ محاضرہ استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ، مدیر ندوۃ التحقیق الاسلامی، بہادرکوٹ کوہاٹ نے پیش فرمایا۔یہ محفل صرف ایک علمی محاضرہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے بعد طلبہ کے سہ ماہی امتحانات کے نتائج کے اعلان، نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی، انعامات کی تقسیم اور مہمانانِ گرامی کے پُرمغز کلمات نے اس تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔

تاریخ: محض واقعات نہیں، ایک زندہ علم
محاضرہ کا بنیادی موضوع تاریخ اور علمِ تاریخ تھا۔ استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ نے نہایت جامع، علمی اور فکری انداز میں واضح کیا کہ تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں، فتوحات، حکومتوں اور سنین کے واقعات کو یاد رکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا زندہ علم ہے جس کے ذریعے انسان ماضی کے واقعات، معاشروں کے حالات، تہذیبوں کے عروج و زوال، اقوام کی ترقی و تنزلی اور افکار و نظریات کے اثرات کو سمجھ سکتا ہے۔ماضی کا درست مطالعہ انسان کو اپنے حال کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے بہتر اور درست سمت متعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی لیے تاریخ ایک ایسی علمی کھڑکی ہے جس سے انسان گزشتہ اقوام کے تجربات، کامیابیوں، ناکامیوں اور ان کے اسباب کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔

علمِ تاریخ کا تعارف اور مبادیاتِ تاریخ:
محاضرہ کے ابتدائی مباحث میں علمِ تاریخ کا تعارف اور مبادیاتِ تاریخ پر گفتگو ہوئی۔ استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ نے تاریخ کے مفہوم، موضوع، غرض و غایت اور بنیادی اصولوں کو واضح کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تاریخی واقعے کو محض ایک الگ واقعے کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کے زمانے، ماحول، پس منظر، اسباب اور نتائج کو سامنے رکھ کر اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاریخی واقعے کی صحیح تفہیم کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے گرد و پیش کے حالات اور اس واقعے پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو بھی سمجھا جائے۔

تاریخ کا اسلامی دور:
محاضرہ میں اسلامی دور میں علمِ تاریخ کے ارتقا پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اسلام نے واقعات کو محفوظ کرنے، روایات کی تحقیق، اسناد کی جانچ اور نقل کردہ معلومات کی صحت پر توجہ دینے کا جو منہج پیش کیا، وہ اسلامی علمی روایت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، مغازی، طبقات، فتوحات اور اسلامی سلطنتوں کی تاریخ نے بعد میں تاریخ نویسی کے ایک وسیع اور گراں قدر علمی ذخیرے کو جنم دیا۔ مسلم مؤرخین نے مختلف ادوار، علاقوں، حکمرانوں، علماء، محدثین، فقہاء اور علمی مراکز کے حالات کو محفوظ کرکے امت کے لیے ایک عظیم علمی سرمایہ چھوڑا۔

تاریخ کی مختلف اقسام:
محاضرہ میں تاریخ کی مختلف اقسام کا بھی تعارف پیش کیا گیا، تاکہ طلبہ اور سامعین یہ سمجھ سکیں کہ تاریخ صرف سیاسی واقعات یا حکمرانوں کے حالات کا نام نہیں۔

تاریخ کے مختلف شعبوں میں:سیاسی تاریخ ،معاشرتی تاریخ،تہذیبی تاریخ ،علمی تاریخ،اقتصادی تاریخ ،مذہبی تاریخ ،جغرافیائی تاریخ، عسکری تاریخ، فکری و نظریاتی تاریخ وغیرہ شامل ہیں۔ہر قسم انسانی ماضی کے ایک مخصوص پہلو کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

تاریخ نویسی کے مناہج:
محاضرہ کا ایک اہم اور بنیادی حصہ تاریخ نویسی کے مناہج سے متعلق تھا۔ استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ نے واضح کیا کہ مؤرخ کے لیے صرف معلومات جمع کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے روایت کی تحقیق، مصادر کا تقابل، واقعات کا تجزیہ، زمانی و مکانی قرائن کی رعایت اور غیر جانب دارانہ علمی طرزِ فکر اختیار کرنا ضروری ہے۔ایک عام راوی اور ایک بااصول مؤرخ کے درمیان اصل فرق یہی ہے کہ مؤرخ معلومات کو تحقیق و تنقید کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور ہر روایت کو بلا تحقیق قبول نہیں کرتا۔

اہم کتب اور نامور مؤرخین:
اسی سلسلے میں تاریخ کی اہم کتب اور نامور مؤرخین کا بھی تذکرہ کیا گیا اور اسلامی و عمومی تاریخ نویسی کے وسیع علمی سرمایہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔اس سے طلبہ کو یہ احساس ہوا کہ تاریخ کا مطالعہ محض نصابی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک وسیع علمی دنیا سے تعارف کا ذریعہ ہے، جس میں مختلف علوم، شخصیات، تہذیبوں، علاقوں اور ادوار کا مطالعہ شامل ہے۔

’’تاریخ کی تاریخ‘‘:
محاضرہ میں ’’تاریخ کی تاریخ‘‘ کے عنوان سے خود تاریخ نویسی کے ارتقائی سفر پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں یہ واضح کیا گیا کہ مختلف ادوار میں مؤرخین نے واقعات کو کس انداز سے محفوظ کیا، تاریخ نویسی کے طریقے کس طرح تبدیل ہوئے اور جدید دور میں تاریخی تحقیق نے کن نئے مراحل کو طے کیا۔اس موضوع نے سامعین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ تاریخ لکھنے کے طریقۂ کار کا مطالعہ بھی نہایت اہم ہے۔

علمِ تاریخ کی اہمیت اور فوائد:
علمِ تاریخ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ تاریخ انسان کو اپنی شناخت، اپنی تہذیب، اپنے علمی ورثے اور اپنے ماضی سے جوڑتی ہے۔اقوام کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مطالعہ انسان کو تجربات سے سبق سیکھنے، گزشتہ غلطیوں سے بچنے اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا شعور فراہم کرتا ہے۔خصوصاً دینی و علمی حلقوں کے لیے تاریخ کا مطالعہ اس لیے بھی نہایت اہم ہے کہ اسلامی تہذیب کے علمی، فکری، سیاسی اور تمدنی سفر کو سمجھے بغیر امت کے موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانات کو پوری طرح سمجھنا مشکل ہے۔

تاریخ نگاری کے تقاضے:
استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ نے تاریخ نگاری کے بنیادی تقاضوں کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ مؤرخ کے لیے علمی دیانت، تحقیق، احتیاط، انصاف، مصادر سے واقفیت، واقعات کے پس منظر کو سمجھنے اور حقائق کو غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ تاریخ لکھنے والے کی معمولی سی بے احتیاطی بھی بعد کی نسلوں کے ذہنوں میں کسی واقعے یا شخصیت کے بارے میں غلط تصور پیدا کر سکتی ہے۔

تاریخ نویسی کے چند اہم اصول:
اسی طرح تاریخ نویسی کے چند اہم اصول بھی بیان کیے گئے۔ واضح کیا گیا کہ تاریخی مواد کو بلا تحقیق قبول کرنا درست نہیں۔ مختلف روایات اور مصادر کا باہمی تقابل، راویوں اور مآخذ کی حیثیت کا جائزہ، زمانی و مکانی قرائن کو ملحوظ رکھنا، واقعات کے اسباب و نتائج کو سامنے رکھنا اور مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ایک سنجیدہ اور ذمہ دار مؤرخ کے لیے ضروری ہے۔

موسوعاتِ تاریخ:
محاضرہ کے اہم مباحث میں موسوعاتِ تاریخ بھی شامل تھیں۔ تاریخی موسوعات اور جامع علمی ذخیرے محققین کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے مختلف ادوار، شخصیات، مقامات، تہذیبوں اور واقعات کے متعلق وسیع معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔طلبہ کو اس جانب بھی متوجہ کیا گیا کہ علمی تحقیق کے لیے بنیادی مصادر اور معتبر کتب سے واقفیت پیدا کرنا ضروری ہے۔

محاضرہ کے بعد طلبہ کے سہ ماہی امتحانات کے نتائج کا اعلان:
علمی محاضرہ کے اختتام کے بعد تقریب کا ایک نہایت اہم اور دلچسپ مرحلہ طلبہ کے سہ ماہی امتحانات کے نتائج کے اعلان کا تھا۔استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ نے طلبہ کو نتائج اور امتحانی معیار کے حوالے سے اہم باتیں بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ ندوۃ التحقیق الاسلامی میں پچاس نمبر حاصل کرنے والا طالب علم پاس شمار ہوتا ہے، جبکہ پچاس سے کم نمبر حاصل کرنے والا طالب علم فیل شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح استاد محترم علامہ محمد طفیل کوہاٹی صاحب حفظہ اللہ نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ بھی واضح فرمایا کہ انعام ان طلبہ کو دیا جاتا ہے جو 90 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں۔یہ نظام طلبہ میں محنت، مقابلے کے مثبت جذبے اور علمی ترقی کا شوق پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یقیناً طلبہ کی بہترین کارکردگی کو انعامات کے ذریعے سراہنا ندوۃ التحقیق الاسلامی کی ایک قابلِ تحسین خصوصیت ہے، جو طلبہ کو مزید محنت اور علمی ترقی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

مہمانِ گرامی شیخ الحدیث مولانا گل محمد صاحب کا خطاب:
تقریب میں معزز مہمانِ گرامی شیخ الحدیث مولانا گل محمد صاحب نے بھی شرکت فرمائی اور طلبہ سے خطاب کیا۔شیخ گل محمد صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں طلبہ کو قیمتی نصائح سے نوازا اور انہیں علم کے حصول، محنت، وقت کی قدر، اساتذہ کے احترام اور اپنے علمی مستقبل کے حوالے سے توجہ دلائی۔انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی علمی و تعلیمی کوششوں کو سراہا اور انہیں مزید محنت کرنے کی ترغیب دی۔ شیخ الحدیث مولانا گل محمد صاحب کی گفتگو نے طلبہ میں ایک نیا جذبہ پیدا کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ محنت اور مسلسل جدوجہد ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔

انعامات کی تقسیم:
اس کے بعد سہ ماہی امتحان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔جن طلبہ نے 90 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، انہیں ان کی شاندار کارکردگی پر انعامات سے نوازا گیا۔ یہ مرحلہ طلبہ کے لیے خصوصی خوشی اور حوصلہ افزائی کا باعث بنا۔معزز مہمانانِ گرامی شیخ الحدیث گل محمد صاحب اور مولانا مجاہدین صاحب کے ہاتھوں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے انعامات وصول کیے۔ آخر میں مولانا گل محمد صاحب نے نہایت جامع اور پُراثر دعا فرمائی، جس کے ساتھ یہ بابرکت علمی و تربیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔یہ پوری تقریب درحقیقت تین اہم پہلوؤں کا خوب صورت امتزاج تھی:

علمی اعتبار سے ’’تاریخ اور علمِ تاریخ‘‘ جیسے اہم موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز محاضرہ پیش کیا گیا۔تعلیمی اعتبار سے طلبہ کے سہ ماہی امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوا اور ان کی علمی کارکردگی کو جانچا گیا۔تربیتی اعتبار سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی، انہیں انعامات دیے گئے اور مہمانانِ گرامی نے قیمتی نصائح سے نوازا۔یہی کسی حقیقی علمی ادارے کی خوب صورتی ہے کہ وہاں تعلیم کے ساتھ تربیت، تحقیق کے ساتھ عمل اور محنت کے ساتھ حوصلہ افزائی کا ماحول بھی موجود ہو۔

کالم نگار : رپورٹ:ابوذر غفاری۔ندوۃ التحقیق،کوہاٹ
| | |
51