قیامِ پاکستان کو تقریباً اٹھتر برس گزر چُکے، مگر آج بھی مُلک کا نظامِ انصاف ایک غریب، کم زور اور بے بس شہری کے لیے انصاف کی فراہمی سے زیادہ صبر، استقامت اور برداشت کا طویل امتحان دِکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے، جس کی بازگشت نہ حکومتی ایوانوں میں سُنائی دیتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی صفوں میں، حالاں کہ عالمی سطح پر قانون کی حُکم رانی، عدالتی کارکردگی اور انصاف تک عوام کی رسائی سے متعلق 2025ء کی رپورٹ پاکستان کے لیے تشویش ناک تصویر پیش کرتی ہے۔
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رپورٹ کے مطابق، پاکستان143 ممالک میں مجموعی طور پر 130ویں نمبر پر ہے، جب کہ جنوبی ایشیا کے چھے ممالک میں اس کی پوزیشن پانچویں ہے۔ سِول جسٹس کے اشاریے میں پاکستان 129ویں، فوج داری انصاف میں 101ویں اور امن و امان کے شعبے میں143 ممالک میں انتہائی نچلے درجے پر شمار ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض عدالتوں کی کارکردگی کی عکّاسی نہیں کرتے، بلکہ پورے نظامِ انصاف کی کیفیت بیان کرتے ہیں۔
اِس درجہ بندی میں عدالتی آزادی، مقدمات کے فیصلوں کی رفتار، بدعنوانی کی سطح، بنیادی حقوق کا تحفّظ، قانون کے مؤثر نفاذ اور عوام کی انصاف تک رسائی جیسے اہم عوامل کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس پس منظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آخر وہ نظام، جو شہریوں کو فوری، سستا اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، خود انصاف کے متلاشی افراد کے لیے ایک کٹھن آزمائش کیوں بن چُکا ہے؟
اعداد و شمار اِس حقیقت کی مزید تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کی نچلی عدالتیں مقدمات کے غیر معمولی بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اور زیرِ التوا مقدمات کا سب سے بڑا حصّہ اِنہی عدالتوں میں موجود ہے۔ قانون و انصاف کمیشن، پاکستان کے مطابق 31دسمبر2024 ء تک مُلک بھر کی عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 23 لاکھ 62 ہزار سے تجاوز کر چُکی تھی۔
ان میں سے19 لاکھ 55 ہزار سے زائد مقدمات صرف نچلی (ضلعی و سیشن) عدالتوں میں زیرِ سماعت تھے، جو مجموعی زیرِ التوا مقدمات کا تقریباً 83 فی صد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اِس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عدالتی نظام کا سب سے بڑا دباؤ نچلی عدالتوں پر ہے، جہاں عام شہری انصاف کی تلاش میں سب سے پہلے رجوع کرتا ہے۔
دوسری جانب ماہرینِ قانون، عدالتی رپورٹس اور متعلقہ اداروں کے تجزیوں کے مطابق مقدمات کے بڑھتے التوا کے پیچھے متعدّد ساختی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں ججز کی خالی اسامیاں، مقدمات کی مسلسل بڑھتی تعداد، بار بار تاریخوں کا اجرا، تفتیشی اور پراسیکیوشن نظام کی کم زوریاں، گواہوں کی عدم دست یابی، عدالتی انفرا اسٹرکچر کی کمی، ججز کے تبادلے اور دیگر انتظامی مسائل نمایاں ہیں۔ جب تک اِن بنیادی وجوہ کا مؤثر تدارک نہیں کیا جاتا، انصاف کی بروقت فراہمی ایک مشکل ہدف ہی بنی رہے گی اور زیرِ التوا مقدمات کا یہ بوجھ مسلسل بڑھتا چلا جائے گا۔
اِس ناقص نظام کی ایک اور تشویش ناک حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے۔ 2026ء میں مُلک بھر کی جیلوں میں زیرِ سماعت قیدیوں کی تعداد تقریباً 82 ہزار 599 بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے ہزاروں قیدی روزانہ پولیس اور جیل وینز کے ذریعے مختلف عدالتوں میں پیشیوں کے لیے منتقل کیے جاتے ہیں۔ تاہم وینز، عملے اور دیگر وسائل کی کمی خود ایک سنگین مسئلہ بن چُکی ہے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق، قیدیوں کی عدالتی پیشیوں کے لیے درکار گاڑیوں اور افرادی قوّت کی شدید قلّت ہے، جب کہ بعض مواقع پر ایندھن کی کمی بھی قیدیوں کو عدالتوں تک پہنچانے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے۔ سوات کے ایک سرکاری تخمینے کے مطابق، مقامی جیل نہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کی عدالتوں تک منتقلی ہی پر تقریباً ساڑھے چھے لاکھ روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔
اِس سے بھی زیادہ غور طلب امر یہ ہے کہ حکومت ہر سال قیدیوں کو محض نئی تاریخ لینے کے لیے عدالتوں میں لانے اور دوبارہ جیل منتقل کرنے پر بھاری مالی وسائل صَرف کرتی ہے۔ تاہم مختلف صوبوں میں قیدیوں کی بار بار پیشیوں، طویل سفری فاصلوں، سیکیوریٹی گاڑیوں کی موجودگی اور پولیس نفری وغیرہ کو مدِنظر رکھا جائے، تو صرف ایندھن پر سالانہ اخراجات کا تخمینہ20 سے50 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
مزید برآں، گاڑیوں کی مرمّت، ڈرائیورز کی تن خواہوں، پولیس اہل کاروں کے الاؤنسز اور دیگر انتظامی اخراجات شامل کیے جائیں، تو مجموعی لاگت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ البتہ یہ اعداد و شمار سرکاری حساب، کتاب نہیں، بلکہ دست یاب معلومات اور عمومی تخمینوں پر مبنی ہیں۔ اِس تخمینے کی بنیاد بھی قابلِ غور ہے۔ اوسطاً ایک زیرِ سماعت قیدی سال میں تقریباً دس مرتبہ عدالت میں پیش ہوتا ہے، جب کہ ایک جیل وین میں اوسطاً بیس قیدی سفر کرتے ہیں۔ جیل سے عدالت اور واپسی کا فاصلہ عموماً10 سے 40 کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، جب کہ جیل وین کی اوسط مائلیج تقریباً چار کلومیٹر فی لیٹر ڈیزل سمجھی جاتی ہے۔
یہ عوامل سامنے رکھے جائیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ محض قیدیوں کی پیشیوں کا موجودہ طریقۂ کار قومی خزانے پر ایک قابلِ ذکر مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔ یہ اخراجات صرف ایندھن تک محدود نہیں، بلکہ گاڑیوں کی دیکھ بھال، سیکیوریٹی انتظامات، افرادی قوّت اور جیل انتظامیہ کے الگ بجٹ بھی اس میں شامل ہیں، جو مجموعی طور پر ہر سال کروڑوں روپے کے اضافی بوجھ کا سبب بنتے ہیں۔
گویا قومی خزانے سے ہر سال کروڑوں روپے صرف اِس لیے خرچ کیے جاتے ہیں کہ ڈیزل جلے، سائرن بجیں، گاڑیاں دوڑیں، پولیس نفری الرٹ رہے اور قیدیوں کو پورے پروٹوکول کے ساتھ نظامِ انصاف کی دہلیز تک پہنچایا جائے۔ پھر جیسے ہی قیدی اُمید بھری نگاہوں سے عدالت کی طرف دیکھے، ایک مانوس سی آواز’’ کانوں میں رس گھولتی ہے‘‘۔ مخالف وکیل صاحب تشریف نہیں لائے، آپ کے وکیل صاحب راستے میں ہیں، فائل اِس وقت دست یاب نہیں یا پھر محترم جج صاحب آج مصروف ہیں، تشریف نہیں لاسکتے۔
گویا، اِن تمام وجوہ کا نچوڑ ایک ہی سنہری جملے میں پیش کر دیا جاتا ہے کہ ’’قیدی نمبر فلاں اگلی تاریخ پر پیش ہوں۔‘‘ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے نظامِ انصاف کی سب سے مستحکم، فعال اور برق رفتار شئے اگر کوئی ہے، تو وہ’’اگلی تاریخ‘‘ ہے، جو ہر پیشی پر وقت کی پابندی کے ساتھ حاضر ہو جاتی ہے۔ مقدمات آگے بڑھیں، نہ بڑھیں، انصاف ملے، نہ ملے، مگر اگلی تاریخ ضرور مل جاتی ہے۔ بعض اوقات تو گمان ہوتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کم اور تاریخوں کی افزائشِ نسل زیادہ ہو رہی ہے۔
ایک تاریخ، دوسری تاریخ کو جنم دیتی ہے، دوسری، تیسری کو اور تیسری چوتھی کو۔ یہاں تک کہ ایک معمولی نوعیت کے مقدمے میں گرفتار قیدی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی عُمر کے کئی قیمتی سال گزار دیتا ہے، جب کہ اس کے مقدمے کا سب سے نمایاں ریکارڈ یہی ہوتا ہے کہ اس نے جرم کم اور پیشیاں زیادہ بُھگتی ہیں۔
یوں بعض زیرِ سماعت قیدی سزا یافتہ ہونے سے پہلے ہی ایسے تجربہ کار بن جاتے ہیں کہ اُنہیں اپنے مقدمے کی تفصیلات سے زیادہ ہر پیشی کی تاریخ یاد ہوتی ہے۔ قیدیوں کو نئی تاریخ سُننے کے لیے جیل سے عدالت لانے کی بجائے یہی کام ویڈیو لنک اور ای-کورٹس کے ذریعے کم خرچ، زیادہ محفوظ اور کہیں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے۔
’’اگلی تاریخ پر حاضر ہوں‘‘یہ محض چار الفاظ نہیں، بلکہ لاکھوں لوگوں کے ضائع ہوتے وقت، بکھرتی اُمیدوں اور ختم ہوتی زندگیوں کی داستان ہیں۔ اِسی لیے دنیا بَھر میں یہ اصول دُہرایا جاتا ہے کہ’’انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے‘‘، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں یہ جملہ بھی اکثر اگلی تاریخ تک مؤخر دِکھائی دیتا ہے۔