میں نماز فجر کے بعد واک پر تھا تو مجھے سعودی عرب کے ایک نمبر سے فون آیا ۔ ایک خاتون نے تصویر شیئر کرکے کہا :انکل بشیر میں خانہ کعبہ کے بالکل سامنے 20 فٹ فاصلے پر بیٹھی ہوں اور آپکے لیے دعا کر رہی ہوں کہ اے رب کریم انکل بشیر کو اپنی بہترین رحمتوں سے نواز دے" ۔ میں نے خوشی سے کہا بٹیا بہت شکریہ مگر آپ ہو کون ؟
اس نے مجھے یاد دلایا تو مجھے ایک بچی کے ساتھ اپنی 4 سال پرانی ملاقات یاد آ گئی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب فوج سے ریٹاٸرمنٹ کے بعد میں سید اقبال حیدر زیدی ، ڈی جی EOBI کے کہنے پر فیکٹری ورکرز کے معذری پینشن سسٹم کو دیکھنے پر راضی ہو گیا تھا کیونکہ اس میں بھی خلق خدا کی خدمت کا ایک پہلو تھا ۔ EOBI والے پریشان تھے کہ مزدور یونین والے اور کچھ بے ایمان لوگ سول ڈاکٹر سے ڈنڈے کے زور پر خوامخواہ پینشن کرواتے تھے ۔ میں نے کسی سے کیا ڈرنا تھا تو میں نے یہ ذمہ داری سنبھال لی اور ہر منگل کو عوامی مرکز EOBI کے آفس جانے لگا ۔
ایک منگل میں EOBI عوامی مرکز کراچی کے دفتر معذوری پینشن بورڈ کے پریزیڈنٹ کی حیثیت سے فرسٹ فلور پر بیٹھا معذوروں کو چیک کر رہا تھا کہ دو بچیاں شرعی پردے اور کالے عبایوں میں میرے آفس میں داخل ہوٸیں اور کہا سر ہمارے ابو معذور ہیں آپ انکی معذوری پینشن کی منظوری دے دیں ۔ میں نے کہا بیٹا ابو کو اندر لاٸیں تاکہ میں چیک کرلوں ۔ وہ انتہاٸی مغموم لہجے میں کہنے لگیں سر وہ تو اس قابل بھی نہیں کہ اپنی جگہ سے ہل بھی سکیں ۔ ہم انہیں ساتھ لائے ہیں مگر وہ نیچے امتیاز اسٹور کے سامنے سڑک پر رکشے میں ہیں ۔ آپ اگر ان کو وہاں جاکر دیکھ لیں گے تو آپ
کی مہربانی ہوگی ۔
میں ا ن کی مجبوری سن کر چپ چاپ اٹھا اور انکے ساتھ باہر چل پڑا ۔ رکشے میں انسان کے روپ میں ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ رکھا دیکھا جو سننے بولنے یا ہلنے سے عاری تھا ۔ میں اس شخص کو دیکھ کر خوف خدا سے توبہ توبہ کرتا واپس اپنے آفس آ بیٹھا۔
سیڑھیاں چڑھتے میں نے سوچ لیا تھا کہ معذوری پینشن تو کردونگا مگر خود اپنی جیب سے بھی اس شخص کی کچھ مدد کرونگا ۔ میں نے اس کی معذوری پینشن منظور کرکے کتابچہ پر دستخط کر دیے اور مٹھی میں کچھ رقم لیکر بڑی بچی کو دینے کی کوشش کی ۔ وہ بچی تڑپ کر دو قدم پیچھے ہٹ گٸی اور کہنے لگی سر ایسا نہیں کریں بس آپ ہمارے ابو کا حق انکو دے دیں تو ہمارے لیے یہی کافی ہے ۔
اب دل سنبھال کر میری اور اس 22/20 سالہ بچی ماٸرہ کی گفتگو پڑھیے ۔
میں : بیٹا یہ پیسے لے لو اور اپنے ابو کیلیے دواٸی اور اچھی غذا کا بندوبست کرو تاکہ وہ جلد اچھے ہو جائیں ۔
ماٸرہ : نہیں سر ہم کسی سے اس طرح خیرات یا مدد نہیں لیتے ہم خود کماتے ہیں ۔
میں: بیٹا کون کون کماتا ہے؟
ماٸرہ : سر میں رابیہ سیکنڈری اسکول سیکٹر 11 بابا ولایت علی شاہ کالونی میں پڑھاتی ہوں اور میرا چھوٹا بھاٸی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں نوکری کرتا ہے ۔
میں : بیٹا مہینے میں کتنا کماتے ہو؟
ماٸرہ : سر میں 4000 اور میرا بھاٸی 7000 روپے ماہانہ کما لیتے ہیں ۔
مکان کا کرایہ اور ابو کی دوائی کا ہو جاتا ہے ۔ بس ہم کھانا پیٹ بھر کر ایک وقت ہی کھا لیتے ہیں ۔ اب ابو کی 5000 پینشن مل گٸی تو سب ٹھیک ہو جاٸیگا ۔ چھوٹی بہن بھی دوبارہ پڑھنے جایا کرے گی جو فیس نہ ہونے کی وجہ سے اسکول چھوڑ بیٹھی ہے ۔
میں گم سم سب سن رہا تھا ۔ بچی کہنے لگی سر ابو اب تو بول بھی نہیں سکتے مگر پہلے ہمیشہ کہتے تھے میرے بچو بھوکے مر جانا مگر اللہ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا ۔ سر ہمارا یقین ہے ابو کسی دن ٹھیک ہوکر اٹھ بیٹھیں گے اور اللہ کی رحمت سے ہمارے دن بھی پھر جائیں گے ۔
میں اب بھی چپ چاپ اس کی باتیں سن رہا تھا ۔ کاغذات انٹری کے بعد واپس آئے تو میں نے اپنے آنسو چھپاتے پینشن بک دستخط کرکے اسے تھما دی ۔ اتنی غربت میں گھری اتنی غیرتمند اور اللہ پر اتنے توکل پر زندہ بچی میں بھی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا ۔ جب بچیاں کلرک کے پاس مزید کاغذی اندراج کے انتظار میں تھیں تو اپنے ارادے کے مطابق میں دوبارہ نیچے شاہراہ فیصل پر کھڑے رکشے تک گیا اور انکے ابو کی جیب میں حسب توفیق کچھ رقم ڈال کر واپس اپنے آفس میں آبیٹھا ۔
میں نے بچیوں کو دوبارہ بلوایا۔ ان کی اجازت سے یادگار کے طور پر انکی اور تمام کاغذات کی تصویر لی اور وہ خدا حافظ کہہ کر چلی گٸیں ۔ پھر ایک آدھ دفعہ اس بچی نے اپنے کسی مسلے کیلیے رابطہ کیا مگر آج 4 سال بعد اسکے فون نے مجھے حیران کر دیا ۔
اس نے بتایا کہ اس کے ابو پینشن منظور ہونے کے ایک سال بعد ہی فوت ہوگٸے تھے ۔ دوسال پہلے کسی کے توسط سے سعودی عرب میں کام کرتے ایک پاکستانی سے اس کی شادی ہوگٸی تو اسکے میاں نے اسکے بھاٸی کو بھی ویزہ دلوا کر اپنے پاس جدہ بلوا لیا ۔ دو سال میں ہی اسکی ماں اور چھوٹی بہن نے بھی عمرہ کر لیا ۔ فون پر جذباتی سی ہوکر کہنے لگی بشیر انکل اللہ نے ہمارے دن پھیر دیے ۔ ابو کی ساری باتیں ہی سچ ہوگٸیں ۔
چونکہ آپ نے ابو کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا تھا تو آپ ہمیشہ ہماری دعاوں میں شامل ہوتے ہیں ۔ میرے ابو کی جیب میں ڈالی آپکی وہ رقم اب بھی ہم پر قرض ہے ۔ میں اس سال رمضان کے بعد چھوٹی بہن کی شادی کرنے پاکستان آؤں گی ۔ بتاٸیں آپ کے لیے کیا لاؤں ۔
میں نے بہت سوچا کہ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھی اس خوش بخت بچی سے کیا مانگوں ۔
میں نے کہا بٹیا اللہ کے گھر میں بیٹھی ہو ہمارے لیے بس یہ دعا کردو کہ آپ جیسی بیٹاں پاکستان کے ہر گھر میں پیدا کردے ۔ ہمیں آپ جیسی بیٹیوں کی کمی اب بہت زیادہ محسوس ہونے لگی ہے ۔
فون بند ہوا تو میں عسکری کے سینٹرل پارک کی ایک بینچ پر جا بیٹھا تاکہ اپنے آنسوؤں پر قابو پاکر دوبارہ واک شروع کر سکوں ۔