(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی

مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
’’تکملہ فتح الملھم‘‘کاامتیاز
حال میں احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عصرِ حاضر کے پس منظر میں نام سے دو جلدوں میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہم کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے، یہ کتاب بھی عصرِ حاضر کے بدلتے احوال میں احادیثِ رسول سے رہبری فراہم کرتی ہے، یا یوں کہیے کہ ذخیرہ حدیث کی عصری تشریح کرتی ہے۔ اس سے قبل مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ کی معارف الحدیث اور مولانا بدر عالم میرٹھی رحمہ اللہ کی ترجمان السنہ بھی اس سلسلے کی عمدہ کڑیاں ہیں۔ نیز ترکی وسعودیہ میں بھی اس نوعیت کی بعض کوششیں ہوئی ہیں۔ لیکن اس میدان میں ابھی کافی خلا ہے، اور ٹھیٹھ علمی بنیادوں پر جمہور کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے مزید کام کی ضرورت ہے۔

بر صغیر میں احادیث کی تشریح وتوضیح کی روایت کا ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ اس میں "فقہی تشریح" کو مرکزیت حاصل رہی۔ احادیث کی توضیح زیادہ تر اس زاویے سے کی جاتی تھی کہ ان سے فقہِ حنفی کے اصول و فروع کی تائید اور استنباط کس طرح ہوتا ہے۔ یہ اپنے زمانے کی ایک حقیقی ضرورت تھی۔ جب فقہِ حنفی کو حدیث سے الگ، بلکہ کبھی اس کے بالمقابل ایک مستقل مکتب کے طور پر پیش کرنے کی ناروا کوششیں ہوئیں، تو یہ ناگزیر تھا کہ خود احادیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی جائے کہ حنفیت دراصل حدیث ہی کے فہم اور اس پر عمل کی ایک منظم فقہی تعبیر ہے۔

یہ ضرورت جس شان سے پوری ہوئی، اس کا روشن ترین مظہر علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی تاریخ ساز کتاب "إعلاء السنن" ہے۔ اس کتاب نے یہ دکھا دیا کہ فقہِ حنفی اور حدیث کے درمیان جو نسبت ہے، وہ استدلال اور تحقیق کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ یوں ایک بڑا علمی خلا بڑی حد تک پُر ہوگیا۔

عصرِ حاضر کے انسان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کسی حدیث سے کون سا فقہی حکم ثابت ہوتا ہے، اس کا سوال یہ بھی ہے کہ اس حکم کے پس پردہ کون سی حکمت کارفرما ہے، وہ شریعت کے کس مقصد کی تعبیر ہے، اور جدید تہذیب کے پیچیدہ مسائل میں اس کی رہنمائی کیا ہے۔ یہاں شرحِ حدیث کو ایک نئی زبان اور ایک نئے منہج کی ضرورت تھی، ایسی زبان جو حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر اس کی فکر تک رسائی حاصل کرے۔"تکملہ فتح الملہم" کا شاید سب سے نمایاں امتیاز یہی ہے کہ اس نے شرحِ حدیث میں اس نئی جہت کا اضافہ کیا۔

حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے صرف یہ نہیں بتایا کہ ایک حدیث سے کون سا فقہی حکم نکلتا ہے، بلکہ بحیثیت مجموعی یہ بھی واضح کیا کہ وہ حکم شریعت کے کس مزاج کی نمائندگی کرتا ہے، اس کے پیچھے کون سا مقصد کارفرما ہے، اور جدید فکری اعتراضات کے مقابلے میں اس کی معنویت کیا ہے۔ یوں فقہی تشریح کے ساتھ ایک "فکری تشریح "بھی سامنے آئی، جو حدیث کو محض ایک جزئی حکم کے بجائے ایک ہمہ گیر فکری نظام کا حصہ بنا کر پیش کرتی ہے۔

اس منہج کی فکری جڑیں بلاشبہ ان عظیم کتابوں میں پیوست ہیں جنہوں نے اسلام کو اس کے کلی نظام کے طور پر سمجھنے کی دعوت دی، جیسے امام ابن القیم کی "إعلام الموقعين"، امام شاطبی کی "الموافقات" اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی "حجة الله البالغة"، تاہم "تکملہ فتح الملہم" میں یہ روایت پہلی مرتبہ شرحِ حدیث کے متن میں اس تسلسل اور اہتمام کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے، اوور عصر حاضر کے جدید افکار اور شبہات کو بھی علمی بنیادوں پر ایڈریس کرتی ہے اور ان کتب کے حوالہ جات بھی اسی لیے یہاں بکھرے نظر آتے ہیں ۔

چنانچہ کتاب الرضاع، کتاب البیوع، کتاب الرق، کتاب القضاء، کتاب الفرائض اور متعدد دیگر ابواب کے آغاز میں ایسے تمہیدی مباحث ملتے ہیں جو شریعت کی فکری روح کا تعارف پیش کرتے ہیں۔ ان مباحث میں مقاصدِ شریعت، اسلام کا عمومی مزاج، انسانی معاشرے کی تشکیل، جدید شبہات کا جائزہ، اور ان کے علمی جوابات اس انداز سے بیان کیے گئے ہیں کہ قاری حدیث کو صرف ایک جزئی حکم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک زندہ فکری نظام کے ساتھ مربوط کرکے پڑھنے لگتا ہے۔شاید اسی کو شرحِ حدیث کا اگلا ارتقائی مرحلہ کہا جاسکتا ہے، جس کی طرح حضرت استاذ محترم نے اس عظیم الشان تصنیف میں ڈالی ہے، انہی جیسی خصوصیات کی بناء پر علامہ عصر شیخ قرضاوی نے اس کو "شرح العصر" قرار دیا ہے۔"تکملہ فتح الملہم" کے منہج پر متعدد علمی مقالات لکھے جاچکے ہیں، مگر اس کے اس "فکری منہج" پر ابھی تک مستقل تحقیق سامنے نہیں آئی ہے۔ حالانکہ یہ پہلو خود ایک مستقل موضوع ہے، اور اس پر سنجیدہ مطالعہ مستقبل میں شرحِ حدیث کی نئی راہیں متعین کرسکتا ہے۔

کتاب مگر ٹیٹھ عربی اسلوب میں ہے ، عموما مدارس کے فضلاء عربی مطالعہ میں دلچسپی کے فقدان کے باعث مستفید نہیں ہوتے، جدید اردو داں طبقہ دانشوراں کو بھی اس عظیم کتاب کی اہمیت کا چنداں احساس نہیں، عالم عرب کے علمی فکری حلقوں میں البتہ خوب اس کا چرچا ہوا ہے، بلکہ ترکی وغیرہ کے بعض مدارس میں داخل نصاب بھی ہے۔

اگر حدیث کی تدریس صرف احکام کی تفہیم تک محدود رہے تو اس کی افادیت کا ایک بڑا حصہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہاں حدیث کو اس کے فکری اور تمدنی تناظر میں پڑھا جاتا ہے۔ غالباً یہی وہ سمت ہے جس کی طرف "تکملہ فتح الملہم" کے علمی منہج نے خاموشی کے ساتھ ایک مضبوط علمی اشارہ دیا ہے۔ بہرحال، اس پہلو پر بہت کچھ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

کالم نگار : مفتی عبدالوہاب سلطان ڈیروی
| | |
62