عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت برطانیہ کے زیرِ اہتمام جامع مسجد سینٹرل برمنگھم میں 41ویں سالانہ عالمی ختمِ نبوت کانفرنس اتوار 26 جولائی کو منعقد ہوئی، جس میں ملکی و بیرونِ ملک سے سینکڑوں علماء کرام اور عوام الناس نے شرکت کی۔کانفرنس قائدِ تحریک ختمِ نبوت حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد، نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت پاکستان کی نگرانی، جبکہ پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں میانوالی کی یرِ صدارت صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک دو نشستوں میں جاری رہی۔
پہلی نشست:
نشست کا آغاز حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی دعا اور قاری زبیر زرین کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی محمود الحسن، مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت برطانیہ نے سرانجام دیے، جنہوں نے شرکاء کو کانفرنس کی تاریخ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سلسلہ 1985ء میں شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن سے شروع کیا تھا۔
قاری ذوالفقار کی نعت خوانی کے بعد خطابات کا آغاز ہوا۔ حاجی عبد الحمید (بیلجیم)، مولانا محمد ابراہیم (جرمنی)، مولانا حافظ محمد نگین (امیر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت برطانیہ)، مولانا مسعود قاسم قاسمی، عبد اللطیف خالد چیمہ اور مفتی شہاب الدین نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت اور اس کے تحفظ پر روشنی ڈالی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا مفتی محمد زبیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل اور خواتین کو عقیدۂ ختمِ نبوت آسان زبان میں سمجھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے قادیانیت کے فتنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ارتداد و الحاد کی سرگرمیاں جاری ہیں، اور اس سلسلے میں علامہ انور شاہ کشمیری، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا تاج محمود اور شورش کاشمیری جیسی شخصیات کی خدمات کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پہلی نشست کا اختتام مولانا پیر جلیل احمد اخوند کے خطاب اور دعا پر ہوا، جس کے بعد نمازِ ظہر کے لیے وقفہ کیا گیا۔
دوسری نشست:
دوپہر 2 بجے شروع ہونے والی دوسری نشست کی نظامت حافظ عطاء اللہ نے کی۔ نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قاری سید انوار الحسن شاہ کی قرأت سے ہوا، جبکہ سید عزیز الرحمن شاہ نے حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں نعت پیش کی۔مولانا ابراہیم خان، مولانا اسلام علی شاہ (مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے برطانیہ)، مولانا حافظ ممتاز الحق، ذیشان واعظ، مولانا امام عطاء اللہ خان اور مفتی سیف الدین نے خطاب کیا۔ حافظ ابوبکر مدنی (کراچی) نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
بین الاقوامی سطح پر ختمِ نبوت کا مقدمہ لڑنے والے عدنان رشید نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے 42ویں سالانہ عالمی ختمِ نبوت کانفرنس کی تاریخ 25 جولائی 2027ء کا اعلان کیا۔
مہمانِ خصوصی کا خطاب:
مہمانِ خصوصی، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نواسے، حضرت مولانا سید مفتی محمد عفان منصورپوری نے تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام میں جھوٹے مدعیانِ نبوت ہمیشہ پیدا ہوتے رہے، لیکن امتِ مسلمہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب دنیا میں کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا، اور صحابہ کرامؓ کے جنگِ یمامہ کے جذبے کو اہلِ ایمان کے لیے روشن مثال قرار دیا۔اختتامی خطاب سینیٹر اور امیر جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا، حضرت مولانا عطاء الرحمن نے کیا۔ کانفرنس کا اختتام حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی اجتماعی دعا پر ہوا۔
قائدِ تحریک ختمِ نبوت حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت یوکے اور تمام منتظمین بالخصوص بلال راٹھور، عبداللہ، محمد یونس اور مفتی محمود حسن کو مبارکباد پیش کی۔