(+92) 319 4080233
کالم نگار

ابوظبیان محمدمبشراکرم

ابوظبیان محمدمبشراکرم

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
کتب بینی دم توڑ رہی ہے
’’ چراغوں کے زمانے میں جتنا لکھا گیا، بجلی کے زمانے میں اتنا پڑھا بھی نہیں جا رہا۔‘‘یہ جملہ سن کر پہلے پہل شاید آدمی مسکرا دے، لیکن اگر ذرا توقف کے ساتھ اس پر غور کرے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ چھپا ہوا ہے.ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ علم کی ترقی کا تعلق وسائل سے ہے، حالانکہ تاریخ کچھ اور بتاتی ہے، جن لوگوں نے علم کے سب سے بڑے خزانے (كتب خانے) چھوڑے، ان کے پاس آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں، نہ بجلی تھی، نہ کمپیوٹر، نہ انٹرنیٹ، نہ ڈیجیٹل لائبریریاں، ایک کتاب حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا پڑتا تھا، ایک نسخہ نقل کرنے میں مہینے لگ جاتے تھے اور رات کا بیشتر حصہ چراغ کی مدھم روشنی میں گزرتا تھا، اس کے باوجود وہ پڑھتے بھی تھے اور لکھتے بھی تھے، اس قدر کہ صدیوں بعد بھی ان کی کتابیں اہلِ علم کی میز پر رکھی ہوئی ہیں.

امام بخاری نے الجامع الصحیح مرتب کی، امام طبری نے تفسیر لکھی، ابن عبدالبر، خطیب بغدادی، ابن حجر، نووی، سیوطی اور شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ جیسے اکابر نے ایسے علمی ذخیرے چھوڑے جنہیں پڑھنے کے لیے شاید ایک زندگی بھی کم پڑ جائے، حیرت اس بات پر نہیں کہ انہوں نے اتنا لکھا، حیرت اس بات پر ہے کہ انہوں نے یہ سب ان حالات میں لکھا جنہیں آج ہم بنیادی سہولتوں سے بھی محروم سمجھتے ہیں.

آج منظر بالکل مختلف ہے کتابیں ہماری الماریوں سے زیادہ ہمارے موبائلوں میں موجود ہیں، ایک لفظ تلاش کرنا ہو تو چند لمحے کافی ہیں، دنیا کی بڑی بڑی لائبریریاں ہماری انگلیوں کی دسترس میں ہیں، اگر سہولت ہی علم کا معیار ہوتی تو شاید ہماری نسل کو تاریخ کی سب سے زیادہ پڑھنے والی نسل ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

ہم معلومات سے گِھر گئے ہیں، لیکن مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، کتاب سامنے کھلی ہوتی ہے، مگر توجہ برقرار نہیں رہتی، چند صفحات پڑھنا مشکل لگتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزر جائیں تو احساس بھی نہیں ہوتا، مسئلہ وقت کی کمی نہیں، بلکہ توجہ کی تقسیم ہے، مسئلہ وسائل کا نہیں، مزاج کا ہے۔

ہمارے اسلاف علم کو ضرورت نہیں، زندگی سمجھتے تھے، وہ مطالعے کے لیے وقت نہیں نکالتے تھے، بلکہ اپنی زندگی کو مطالعے کے مطابق ترتیب دیتے تھے، انہیں معلوم تھا کہ ایک دن کا ضائع ہونا صرف ایک دن کا ضیاع نہیں، بلکہ علم کے سفر میں ایک خلا ہے جو شاید کبھی پورا نہ ہو۔

اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ چراغ بجلی سے بہتر تھے، بلکہ یہ ہے کہ چراغ والوں کا شوق، بجلی والوں کے شوق سے بڑا تھا (اور ہمیں بھی وہ شوق مستعار لینے کی صرورت ہے) وسائل نے ترقی ضرور کی ہے، لیکن اگر انسان کے اندر پڑھنے کی خواہش کمزور پڑ جائے تو جدید ترین سہولتیں بھی اسے اہلِ علم نہیں بنا سکتیں۔

شاید ہمیں نئی چیزیں ایجاد کرنے سے پہلے اپنے اندر وہ پرانا ذوق دوبارہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس نے معمولی کمروں، مٹی کے چراغوں اور محدود وسائل کے درمیان ایسے انسان پیدا کیے جن کی روشنی آج بھی باقی ہے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ کتابیں روشنی سے نہیں پڑھی جاتیں، شوق سے پڑھی جاتی ہیں اور شوق بجلی کا محتاج نہیں ہوتا۔

کالم نگار : ابوظبیان محمدمبشراکرم
| | |
53