(+92) 319 4080233
کالم نگار

ترتیب:عامرپٹنی

ترتیب:عامرپٹنی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
قرآنی الفاظ کا اعجاز اور تنہائی کی نفسیاتی گرہ
قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے ہم اکثر اس کے الفاظ کی سلاست اور روانی میں کھو جاتے ہیں، مگر اس کلامِ الٰہی کی بلاغت کا اصل جوہر ان باریک لسانی انتخاب میں چھپا ہے جسے ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خالقِ کائنات جب کلام کرتا ہے تو وہ لفظ کے انتخاب میں کس قدر حکیمانہ توازن برقرار رکھتا ہے؟ ایک ہی مادہ (Root word) سے نکلنے والے دو مختلف الفاظ، جو بظاہر ایک ہی معنی رکھتے ہوں، پورے سیاق و سباق کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ آج ہم لسانیات کے آئینے میں یہ دیکھیں گے کہ کس طرح ایک حرف کی تبدیلی جنت کی رونق اور جہنم کی ہولناک تنہائی کے درمیان فرق واضح کرتی ہے، اور یہ کہ ہماری عصرِ حاضر کی نفسیاتی الجھنوں کا علاج ان قدیم الفاظ میں کیسے موجود ہے۔

لسانی توازن اور زمانی اعجاز:
عربی زبان کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں 'جمع' کی بھی اقسام ہیں۔ ایک ہے 'جمع قلت' (تین سے دس کے لیے) اور دوسری ہے 'جمع کثرت' (دس سے زائد کے لیے)۔ قرآن میں ان کا استعمال کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک معجزہ ہے۔

مثال کے طور پر، مکی دور کی سورتوں میں جہاں سات بالیوں کا ذکر ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے 'سُنبُلٰت' (جمع قلت) کا لفظ استعمال کیا۔ برسوں بعد جب مدینہ میں سورہ بقرہ نازل ہوئی اور ایک بیج سے سات سو گنا اضافے کا تذکرہ ہوا، تو وہاں 'سنابِل' (جمع کثرت) کا لفظ لایا گیا۔ ایک عام انسان سالوں کے فرق کے بعد اپنی گفتگو میں الفاظ کا یہ باریک توازن بھول سکتا ہے، لیکن صاحبِ قرآن کا یہ 'زمانی تسلسل' ثابت کرتا ہے کہ یہ کلامِ بشر نہیں ہو سکتا۔ یہ اس ہستی کا کلام ہے جس کے علم میں ماضی اور مستقبل یکساں ہیں۔

حضرت ابراہیمؑ اور بشری تشکر کی محدود بساط:
قرآن میں شکر گزاری کے حوالے سے ایک عجیب و غریب نکتہ ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے لیے تو 'نِعَم' (لامحدود نعمتیں) کا لفظ استعمال کیا، لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شکر کا ذکر آیا تو فرمایا: "شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ" یعنی وہ اللہ کی 'چند' (جمع قلت) نعمتوں کے شکر گزار تھے۔

یہاں ایک گہری نفسیاتی اور ایمانی حقیقت پوشیدہ ہے کہ انسان کی 'بشری کمزوری' اسے اس قابل ہی نہیں بناتی کہ وہ اللہ کی 'کثیر' نعمتوں کا مکمل احاطہ کر سکے۔ چاہے وہ جلیل القدر پیغمبر ابراہیم علیہ السلام ہی کیوں نہ ہوں، انسانی بساط میں اتنا دم نہیں کہ وہ ہر ہر سانس اور ہر ہر نعمت کا کماحقہ شکر ادا کر سکے۔

"انسان کی یہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ کی لامحدود نعمتوں کا مکمل شکر ادا کر سکے... ہمارا شکر ہمیشہ 'قلت' کے دائرے میں رہے گا اور اللہ کی نعمتیں 'کثرت' کے سمندر میں۔ ہمارا شکر ہمیشہ کم ہوگا اور اللہ کی عنایتیں ہمیشہ زیادہ ہوں گی۔"

جنت کی رونق بمقابلہ جہنم کی تنہائی (Solitary Confinement) قرآن جب جنت کی تصویر کشی کرتا ہے تو وہ محض باغات کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ ایک 'سوشل لائف' کا نقشہ کھینچتا ہے۔ جنت کی پراپرٹی کے بارے میں 'تحتھا الانہار' (جس کے نیچے دریا بہتے ہوں) کا مطلب یہ ہے کہ اہل جنّت بلند و بالا مقامات (Penthouses) پر مقیم ہوں گے جہاں سے وہ قدرتی مناظر کا لطف اٹھائیں گے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہاں کے لیے 'خٰلِدِیْنَ' (جمع) کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی وہاں لوگ گروہوں، خاندانوں اور دوستوں کی صورت میں مل کر رہیں گے۔

انسانی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی خوبصورت منظر سے اس وقت تک مکمل لطف اندوز نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ کوئی اپنا نہ ہو۔ اسی لیے ہم خوبصورت مقامات سے تصویریں بھیج کر کہتے ہیں: "کاش تم یہاں ہوتے" (Wish you were here)۔ خوشی 'ساتھ' کا نام ہے۔

اس کے برعکس، جہنم کے تذکرے میں کئی مقامات پر 'خَالِدًا' (واحد) کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ یہ جہنم کا وہ ہولناک عذاب ہے جسے جدید نفسیات 'تنہائی کی قید' (Solitary Confinement) کہتی ہے۔ کسی قیدی کے لیے سب سے بڑی اذیت یہ نہیں کہ اسے مارا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے سالوں تک ایک اندھیرے کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا جائے جہاں کوئی اس کی آواز سننے والا نہ ہو۔ جہنم کا وہ 'واحد' صیغہ (خَالِدًا) اس نفسیاتی کرب کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان خود کو مکمل تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کرے گا۔ اکیلا پن بذاتِ خود ایک آگ ہے۔

ڈیجیٹل دور کا المیہ: ہجوم میں اکیلا انسان:
آج ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں لوگوں سے جڑے ہیں، لیکن تنہائی کا یہ 'جہنمی احساس' بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مجھے ایک اسکول کے دورے کا واقعہ یاد ہے جہاں ہال میں سامنے کی نشستوں پر پرنسپل، والدین اور معززین بیٹھے تھے جو بچوں کو مسلسل پرکھ (Judge) رہے تھے، جبکہ بچے پیچھے دبے سہمے بیٹھے تھے۔ جب میں نے ان بچیوں سے تنہائی میں بات کی تو درجنوں بچیوں نے روتے ہوئے ایک ہی سوال کیا: "ہم اپنے خاندان کے بیچ رہ کر بھی خود کو اکیلا کیوں محسوس کرتے ہیں؟"

یہ وہ تنہائی ہے جو انزائٹی اور ڈپریشن کو جنم دیتی ہے۔ جب انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ کوئی اسے سننے والا نہیں، کوئی اسے سمجھنے والا نہیں، تو وہ ہجوم میں بھی اکیلا ہو جاتا ہے۔ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت جیسی مکمل جگہ پر رکھا، لیکن وہاں بھی انہیں 'سکون' تب ہی ملا جب حضرت حواؑ کی صورت میں انہیں ایک ساتھی عطا ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان تنہا رہنے کے لیے پیدا ہی نہیں کیا گیا۔

قرآن کے یہ لسانی معجزات ہمیں بتاتے ہیں کہ 'ساتھ' اللہ کی رحمت ہے اور 'تنہائی' ایک عذاب۔ اللہ کا کلام ہمیں محض گرامر نہیں سکھا رہا، بلکہ ہماری روح کی پکار سن رہا ہے۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر شخص اپنی اپنی 'تنہائی کی آگ' میں جل رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے وہ 'سکون' بنیں جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔

اگر تنہائی دنیا میں ایک عذابِ مسلسل کی مانند ہے، تو کیا ہم اپنے اردگرد موجود ان لوگوں کے لیے وہ 'سہارا' اور 'ہمدرد' بن رہے ہیں جنہیں آج ہمارے ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ کیا ہم کسی کے اکیلے پن کی آگ بجھانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟

کالم نگار : ترتیب:عامرپٹنی
| | |
44